Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Arif Anis Malik
  3. Tarrif Card

Tarrif Card

ٹیرف کارڈ

نوجوان عورت۔ پچانوے ہزار۔
حاملہ عورت۔ ایک لاکھ دس ہزار۔

بچہ، چھ سال سے کم۔ ایک لاکھ پچیس ہزار۔
بچہ، چھ سال سے بڑا۔ ایک لاکھ۔

مرد، عمر رسیدہ۔ پینسٹھ ہزار۔
مرد، نوجوان۔ اسی ہزار۔

مینو میں سب سے سب سے اوپر، بونس کے طور پر لکھا تھا "سب سے خوبصورت شکار" کا انعام، پچیس ہزار۔ یہ بھی لکھا تھا کہ شکاریوں کے درمیان مقابلے کی رقم، شام کو ڈنر پر نقد ڈویچے مارک میں، بغیر کسی رسید کے ادا کر دی جاتی ہے۔ یہ کسی فلم کا پراپ نہیں ہے اور یہ کسی ناول سے اٹھایا گیا اقتباس بھی نہیں ہے۔ یہ کوئی ادبی استعارہ یا فرضی منظر نامہ بھی نہیں ہے۔ یہ ایک "ٹیرف کارڈ" ہے، جو 1993 میں بوسنیا کے دارالحکومت سرے یوو کے محاصرے کے دوران ایک سرب کمانڈر یورپی شکاریوں کے ہاتھ میں اس انداز سے تھماتا تھا، جیسے کسی پانچ ستارہ ریستوران کا ویٹر اپنے مہمان کو شام کے خصوصی پکوانوں کا مینو پیش کرتا ہے۔ شکاری کارڈ پر آنکھ جماتا، انگلی پھیرتا اور اپنے من پسند آپشن کا انتخاب کر لیتا تھا۔

یہ ٹیرف کارڈ بوسنیا کے مسلمانوں کے لائیو شکار کا کارڈ تھا، جسے کھیلنے کے لیے یورپ اور دنیا بھر سے امیر سیاح کھینچے چلے آتے تھے۔ لائیو شکار، یعنی اپنی پسند کا بندہ دیکھیں اور خود اپنے ہاتھوں سے، سرکاری بندوق سے شکار کریں۔

تیس سال یہ کارڈ ایک افواہ تھا۔ ایک کہانی۔ ایک ایسی بات جو سرے یوو کے بزرگ سرگوشی میں دہراتے تھے اور پھر چپ ہو جاتے تھے۔ نومبر 2025 میں ملان کا سرکاری وکیل اسے میز پر رکھ کر بیٹھ گیا ہے اور اب اس کارڈ کے گرد ایک ایسی فائل بُن رہی ہے جس کا حجم روز بڑھ رہا ہے۔ اطالوی صحافی ایزیو گاوازینی کی شکایت، سلوینیائی فلم ساز میرن زوپانیچ کی دستاویزی فلم اور انٹرنیشنل کرمنل ٹرائبیونل فار دی فارمر یوگوسلاویہ کی فائل میں 2007 سے دفن ایک سابق امریکی میرین جان جارڈن کا حلف نامہ، یہ سب کاغذات اب ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہیں۔

اب آپ ان سطروں سے جلدی گزر کر آگے بڑھنا چاہیں گے، تاکہ ان کا وزن آپ کی صبح کا سکون نہ خراب کر دے۔ نہیں، ابھی نہیں۔ ذرا یہاں رکیے اور دوبارہ پڑھیے۔

نوجوان عورت۔ پچانوے ہزار۔ حاملہ عورت۔ ایک لاکھ دس ہزار۔ بچہ، چھ سال سے کم۔ ایک لاکھ پچیس ہزار۔

اب اس فہرست کو ایک لمحے کے لئے ذہن کے ایک کونے میں رکھیں اور یورپ کے کسی ایک شہر کی طرف چلیں۔ کس شہر کی طرف، یہ ابھی واضح نہیں، کیونکہ تفتیش کاروں نے ان شکاریوں کے نام شائع نہیں کئے ہیں اور ان کے ملکوں کا اعلان بھی ابھی محدود ہے۔ گاوازینی کی شکایت میں چار قومیتیں سامنے آئی ہیں -ل، اطالوی، امریکی، کینیڈین اور روسی۔ تفتیش کے دوران تین مشتبہ افراد کی نشاندہی ہوئی ہے، جن کا تعلق ٹیورن، میلان اور ٹریسٹے سے ہے۔ تو شاید یہ شہر میلان کا کوئی پُرسکون مضافات ہے، یا ٹورنٹو کے کسی درختوں سے بھرے محلے کی ایک گلی، یا ٹیکساس کے کسی صاف ستھرے ہمسائے کا چوک، یا سینٹ پیٹرز برگ کے کسی پرانے دریا کنارے کی عمارت۔ آپ اپنی پسند کا کوئی ایک شہر چن لیں۔

یہ شخص اس وقت اٹھاون برس کا ہے۔ تیس سال پہلے اٹھائیس برس کا تھا۔ یعنی اس وقت کا نوجوان جو ویک اینڈ منانے کے کے لئے سرے یوو کی پہاڑیوں پر چڑھنے گیا تھا۔

جمعرات کی صبح ہے، مئی کا مہینہ، گھڑی پر سات بج کر چالیس منٹ ہوئے ہیں۔ یہ شخص اپنے گھر کی پہلی منزل پر اپنے کمرے میں ہے۔ کھڑکی سے باہر گلی نظر آتی ہے، جہاں ایک عورت اپنے کتے کو ٹہلانے کے لئے باہر نکلی ہے اور دور کسی چرچ کی گھنٹی کی ہلکی سی آواز سنائی دے رہی ہے۔ اس کے بدن پر سرمئی "ٹرگل" ربڑ کا ڈریسنگ گاؤن ہے، جو اس کی بیوی نے کرسمس کے تحفے کے طور پر دیا تھا، چار برس پہلے۔ پاؤں میں چپلیں ہیں اور تختے کا فرش ٹھنڈا ہے۔ اس کا گھر تین منزلہ ہے اور قیمت کے اعتبار سے تقریباً دو ملین یورو کے آس پاس ہوگا۔

نیچے باورچی خانے میں اس کی بیوی، چلیں، اسے انگرڈ کہیں، یا ایلینا، یا فرانچسکا، یا تاتیانا، جس بھی نام پر آپ کے ذہن کو سکون ملے، وہ کافی کی مشین کا بٹن دبا رہی ہے۔ مشین جرمن ساخت کی ہے اور بیوی نے اسے گزشتہ سال خریدا تھا، کیونکہ اس میں دودھ کی جھاگ بنانے کا الگ بٹن ہے۔ کاؤنٹر اطالوی ماربل کا ہے اور فرج کے دروازے پر دو میگنٹ چپکے ہوئے ہیں۔ ایک ٹسکنی کے کسی پرانے سفر کی یاد اور ایک سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ماسکووا کے سفر کی یاد دلاتا ہے۔

وہ شخص نیچے اترتا ہے۔ بیوی کے گال پر بوسہ دیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ آج کے ناشتے میں کیا ہے۔ "ٹوسٹ، ایواکاڈو، انڈا"، بیوی جواب دیتی ہے اور اپنا بایاں ہاتھ ایواکاڈو کاٹنے کے لئے چاقو کی طرف بڑھاتی ہے۔ "تھینک یو، ڈارلنگ"، کہتے ہوئے وہ شخص میز پر بیٹھ جاتا ہے۔

میز پر آج کا اخبار رکھا ہوا ہے۔ یہ اطالوی "لا ریپبلیکا" ہو سکتا ہے، یا کینیڈین "گلوب اینڈ میل"، یا روسی "کومرسانٹ"، یا کوئی اور قومی روزنامہ۔ پہلے صفحے پر یوکرین کی جنگ کی کوئی نئی پیش رفت ہے، یا غزہ یا ایران کے بارے میں کوئی تازہ خبر، یا یورپی معیشت کے بارے میں کوئی منفی پیش گوئی۔ یہ شخص اخبار اٹھاتا ہے، چشمہ ٹھیک کرتا ہے اور پہلی سرخی پڑھتا ہے۔ سر آہستگی سے ہلاتا ہے، گہری سانس لیتا ہے اور بیوی کی طرف رخ کرکے کہتا ہے، "یہ بہت ہی افسوس ناک ہے، آج کے زمانے میں بھی ایسی چیزیں ہو رہی ہیں"۔ بیوی کافی کا کپ اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہتی ہے، "میں جانتی ہوں، ڈئیر، دنیا واقعی پاگل ہوگئی ہے"۔ ایک سیکنڈ کا سکوت ہوتا ہے اور پھر شخص کافی کی پہلی چسکی لیتا ہے۔

اب توجہ سے دیکھیں۔

اس کی انگلیاں کپ پر ہیں۔ ناخن صاف ستھرے کاٹے ہوئے ہیں، تقریباً پیشہ ورانہ پیڈی کیور کی طرح۔ کلائی پر سونے کی گھڑی بندھی ہے، شاید "پیٹیک فلپ" کی پرانی فلیگ شپ، یا شاید سادہ سی "ٹسوٹ"۔ ہاتھ میں کوئی لرزش نہیں ہے۔ کافی کا گرم کپ تھامتے ہوئے اس کا انگوٹھا اس قدر مستقل اور پُراعتماد ہے کہ آپ اسے دیکھ کر سوچ سکتے ہیں کہ یہ ہاتھ کسی سرجن کا ہاتھ ہے، یا کسی گھڑی ساز کا، یا کسی بانسری بجانے والے کا ہے۔

مگر یہ وہی انگوٹھا ہے جو 1993 میں ایک رائفل کے ٹریگر پر تھا۔ یہ وہی آنکھ ہے جو ان دنوں بوسنیا میں ایک ٹیلی سکوپک دوربین کے اوپر رکھی گئی تھی۔ یہ وہی نظر ہے جس نے سرے یوو کی کسی گلی میں چلتے کسی شہری کو، کسی باپ کو، کسی ماں کو، کسی بچے کو، اپنے نشانے میں رکھا اور انگلی نے ٹریگر پر دبا لگایا۔ ڈزز!

اور آج وہی نظر، تیس سال بعد، اپنے باورچی خانے میں اپنی بیوی پر جمی ہوئی ہے، جو ایواکاڈو پر کالی مرچ چھڑک رہی ہے۔

اب ذرا تخیل کو ایک قدم مزید آگے لے جائیں اور سوچیں کہ تیس سال میں اس بندے نے کیا کیا ہوگا۔ شاید اس نے دو بچے پالے ہیں۔ بڑا بیٹا اب لندن کے کسی سرمایہ کاری بینک میں اچھی نوکری پر ہے اور ہر تین مہینے میں ایک ویک اینڈ پر گھر آتا ہے اور باپ کے ساتھ بیٹھ کر یوکرین یا غزہ یا چین کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کرتا ہے۔ بیٹا باپ کو "ڈیڈ" کہہ کر مخاطب کرتا ہے اور باپ کی رائے اس کے لئے ایک عمر رسیدہ، تجربے سے مزین، قابلِ اعتماد چیز ہے۔

چھوٹی بیٹی شاید زیورخ یونیورسٹی میں فلسفے کی پی ایچ ڈی کر رہی ہے اور اس کے مقالے کا موضوع ہے، "Just War Theory in the Modern Era"۔ یعنی جدید زمانے میں مقدس جنگ کا تصور۔ بیٹی نے یہ موضوع اپنی مرضی سے چنا تھا اور باپ کو اس پر فخر ہے۔ ہر تھینکس گیونگ پر اور ہر کرسمس کے کھانے پر، بیٹی اپنے تازہ ترین مقالے کا کوئی نکتہ خاندان کے سامنے رکھتی ہے اور باپ اسے غور سے سنتا ہے، سر ہلاتا ہے اور کبھی کبھار ایک معمولی سا، مگر سوچا سمجھا سوال پوچھتا ہے۔ "تو شہزادی، تمہارا مقدمہ یہ ہے کہ مقدس جنگ کا تصور آج بھی قابلِ دفاع ہے، یا یہ کہ یہ تصور بنیادی طور پر ٹوٹ چکا ہے؟" بیٹی فخر سے جواب دیتی ہے اور باپ مسکراتا ہے اور پھر سب مل کر کچھ میٹھا کھاتے ہیں۔

اور بیٹی کو، جیسا کہ ہر بیٹی کو ہوتا ہے، اپنے باپ پر بے انتہا فخر ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شخص کا اپنا کاروبار کیا ہے، یہ ہم نہیں جانتے۔ شاید یہ کسی چھوٹی سی ٹرکنگ کمپنی کا مالک ہے، کیونکہ ملان میں جو پہلا باضابطہ ملزم شناخت ہوا ہے، وہ اسی برس کا ایک اطالوی ٹرک ڈرائیور ہے، جو پورڈینونے کے قریب رہتا ہے۔ شاید یہ ٹیکسٹائل کی دنیا میں ہے۔ شاید ایک چھوٹا سا فیملی ریستوران چلاتا ہے۔ شاید کسی سرکاری ادارے سے پنشن پر ہے اور اب اپنا وقت گرجا گھر کی کمیٹی، شہر کے لائنز کلب اور بچوں کے سکول کے فنڈ ریزر میں گزارتا ہے۔ گاوازینی کی شکایت میں ایک نام میلان کے ایک پلاسٹک سرجری کلینک کے مالک کا بھی ہے، جس کی شناخت اطالوی فوجی خفیہ ادارے کی 1993 کی رپورٹ سے ہوئی۔

ایک بات یقینی ہے۔ یہ شخص دیکھنے میں "راکشس" نہیں لگتا۔ پڑوسی اس کی تعریف کرتے ہیں۔ "ہی از سچ اے گڈ مین"، وہ کہتے ہیں اور ان کی زبان میں سچائی کی کوئی جھلک ہوتی ہے، کیونکہ یہ شخص واقعی اپنے روزمرہ کے رویے میں شائستہ ہے۔ بچوں کے سکول کے فنڈ ریزر پر یہ ہر سال ایک معقول رقم چندہ دیتا ہے۔ بیٹی کی شادی پر اس نے ایک بہت پُرجوش تقریر کی تھی، روتے ہوئے اور کہا تھا کہ "میری بچی، تم ہمیشہ خوش رہو اور دنیا کو تمہاری روشنی کی ضرورت ہے"۔

اور یہ وہی شخص ہے جس نے ایک پانچ سال کی بچی کو ایک لاکھ پچیس ہزار ڈوئچے مارک ادا کرکے اپنی دورمار بندوق کی نوک پر رکھا تھا۔

ٹیرف کارڈ پر اسے دوبارہ پڑھیں۔ بچہ، چھ سال سے کم۔ ایک لاکھ پچیس ہزار۔

اور اب باورچی خانے میں واپس آئیں۔ کافی کا کپ اب نیچے رکھا جا چکا ہے اور گرم کپ کے نیچے ماربل کے کاؤنٹر پر ایک گول حلقہ بن گیا ہے۔ بیوی نے ایواکاڈو کے باریک ٹکڑے ٹوسٹ پر سجا دیئے ہیں، اوپر سے نمک، کالی مرچ، تھوڑا سا چِلی فلیکس اور ایک قطرہ "آلیو آئل"۔ "ہنی، یاد ہے ناں، آج رات مارک کا ڈنر ہے ہمارے ہاں؟" شخص سر ہلاتا ہے۔ مارک شاید اس کا بیٹا ہے، یا اس کا چھوٹا بھائی، یا اس کا سب سے پرانا دوست۔ "آف کورس، آئی ریممبر، ہم نے بازار سے سامان منگوایا ہے ناں؟"

دیکھیں، اس کی روزمرہ زندگی میں کہیں بھی، کسی بھی کونے میں، کوئی دراڑ نہیں ہے۔ نیند میں کوئی برا خواب اسے نہیں آتا، کیونکہ بدسپنا تب آتا ہے جب دن میں کہیں اندر چھپا ہوا کوئی بوجھ ہو۔ ٹیلی ویژن پر جب کبھی بوسنیا، یا سرے یوو، یا سرے برنیتسا کی کوئی نئی خبر آتی ہے، تو یہ ایک سیکنڈ کے لئے رکتا ہے، جیسے کوئی لمحہ بھر کا تصور اس کے دماغ میں چمک کر گزر جاتا ہو اور پھر یہ چینل بدل دیتا ہے، شاید کسی فٹ بال میچ پر، یا موسم کی پیشِ گوئی پر، یا کوئی نئی پکوانی شو دیکھنے لگ جاتا ہے۔

تو کیا تیس سال میں اس کے ضمیر نے ایک بار بھی اس کے دروازے پر دستک نہیں دی؟

سوال غلط پوچھا گیا ہے۔ ضمیر دستک تب دیتا ہے جب وہ موجود ہو اور اگر یہ ضمیر اس صبح، پہاڑی پر، ٹریگر دباتے وقت دستک دینے سے قاصر تھا، تو اب تیس سال بعد یہ کہاں سے دستک دے گا۔ ضمیر، انسانی نفسیات کے کسی بھی پٹھے کی طرح، استعمال نہ کیا جائے تو سکتے میں چلا جاتا ہے اور پھر اسے بیدار کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہ شخص شاید بچپن سے ہی استعمال کرنا بھول گیا تھا، یا اسے سکھایا ہی نہیں گیا تھا، کہ اپنے سے باہر کی، اپنے سے مختلف کسی زندگی کو، اپنے ہی برابر کا وزن کیسے دیا جاتا ہے۔ اس باورچی خانے میں جو شخص بیٹھا ہے، وہ شاید تیس سال پہلے ہی روحانی طور پر مر چکا تھا اور بس اس کی لاش وہ ناشتہ کر رہی تھی۔

اور یہاں ہم اس بنیادی سوال کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں جو سرے یوو سفاری ہم سے پوچھتی ہے اور جس کا جواب ہم میں سے اکثر دینا نہیں چاہتے۔

وہ سوال یہ ہے۔ کیا "تہذیب" صرف ایک پالش ہے؟

پالش اوپر سے چمکتی ہے اور نیچے بدستور لکڑی ہے اور لکڑی میں اپنی اپنی گرہیں ہیں اور کچھ گرہیں بہت پرانی ہیں۔ یہ شخص پالش والا ہے اور اس کی پالش بے داغ ہے۔ یہ ہر جمعرات کو حجام کے پاس جاتا ہے، ہر مہینے بیوی کو پھول لاتا ہے، ہر سال اپنے شہر کے میوزیم کو چندہ دیتا ہے اور ہر کرسمس پر بے گھر لوگوں کے لئے کھانے کے ٹرک پر رضاکار کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کی پالش پر آپ کو ایک بھی داغ نہیں ملے گا۔

مگر 1993 کی کسی صبح، یہ پالش اس کے بدن سے، چند دنوں کے لئے، مکمل طور پر غائب ہوگئی تھی اور جو ہمارے سامنے آیا تھا، وہ نقد ڈوئچے مارک میں زندگی خریدنے والا ایک نوجوان تھا، ایک "ٹورسٹ"، جو اپنے ویک اینڈ کی تفریح کے لئے بوسنیا کی پہاڑی پر چڑھ کر آیا تھا اور چن چن کر سولین مار رہا تھا۔

اور اسی جگہ ہمیں اس پوری کہانی کے سچے کاغذات پر ایک نظر ڈال لینی چاہئے، تاکہ یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ سب کسی فرضی فلم کا حصہ ہے۔ سلوینیائی فلم ساز میرن زوپانیچ کی 2022 کی دستاویزی فلم "سرے یوو سفاری" نے اس معاملے کو پہلی بار عالمی توجہ تک پہنچایا۔ اطالوی صحافی ایزیو گاوازینی اور سابق جج گوئیڈو سالوینی نے 28 جنوری 2025 کو ملان کے سرکاری وکیل کے سامنے ایک رسمی شکایت درج کرائی، جس کا حجم سترہ صفحات کا ہے اور جس میں پانچ افراد کا نام ہے۔ نومبر 2025 میں ملان کے انسدادِ دہشت گردی کے پراسیکیوٹر الیسانڈرو گوبس نے باضابطہ تحقیقات کا اعلان کیا۔ ملزم بنیادی طور پر چار قومیتوں کے بتائے گئے ہیں۔۔ اطالوی، امریکی، کینیڈین اور روسی، اگرچہ بعض رپورٹس میں بیلجیئم، فرانسیسی، آسٹرین اور سوئس کا بھی ذکر ہے۔

گاوازینی نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ سرب پیراملٹری قیادت، خاص طور پر اس وقت کے سرب رہنما رادوان کاراد جچ اور جنرل راٹکو ملادچ کی نگرانی میں، ان شکاریوں کے لئے "پیکیج ٹور" ترتیب دیئے جاتے تھے۔ ٹریسٹے سے بلغراد یا پیلے تک پرواز، وہاں سے سرب کنٹرول والی پہاڑیوں تک گاڑی، نشانہ گاہ کا انتخاب، رائفل کی فراہمی، تصویر بنانے کی اجازت اور پھر واپسی کا سفر ہوتا تھا۔ کرواٹ صحافی دوماگوئے مرگیتش نے اس موضوع پر "Pay and Shoot" کے نام سے کتاب لکھی ہے، جس میں ان مظالم کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں -- یہاں تک کہ یہ بھی کہ ایک یورپی شاہی خاندان کا فرد بھی ان "سفاریوں" میں شامل ہوا تھا، جو ہیلی کاپٹر سے آتا اور ووگوسچا میں قیام کرتا تھا۔

سرے یوو کی سابق میئر بنجامینا کاریچ نے بھی ملان کے پراسیکیوٹر کو اضافی فائلیں روانہ کی ہیں۔ امریکی کانگریس وومن انا پاؤلینا لُونا، جو ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی کی رکن ہیں، نے 13 نومبر 2025 کو "ایکس" پر اعلان کیا کہ وہ امریکی شہریوں کی سرے یووو سفاری میں شمولیت کی الگ تحقیقات کر رہی ہیں۔ "اگر کسی امریکی نے اس میں حصہ لیا، تو اسے ضرور سزا ملنی چاہیئے"، انہوں نے لکھا۔ فروری 2026 میں رائٹر نے رپورٹ دی کہ پہلے مشتبہ ملزم، ایک اسی برس کا اطالوی ٹرک ڈرائیور، جو پورڈینونے کے قریب رہتا ہے، کے خلاف "بے رحمی اور بد نیتی پر مبنی پیشگی منصوبہ بند قتل" کے کئی الزامات کے تحت تفتیش جاری ہے۔

اس سے بھی اہم گواہی جان جارڈن کی ہے۔ وہ سابق امریکی میرین جس نے 2007 میں جنرل دراگومیر میلوسوویچ کے مقدمے میں اور 2012 میں راٹکو ملادچ کے مقدمے میں آئی سی ٹی وائے کے سامنے یہ بیان دیا تھا کہ اس نے سرے یوو میں ایسے "سیاح شکاری" دیکھے جو اپنے لباس، ہتھیار اور انداز سے واضح طور پر مقامی نہیں تھے اور انہیں مقامی سرب کمانڈرز اپنی سنائپر پوزیشنوں تک رہنمائی کرکے لے جاتے تھے۔ جارڈن نے کہا، "اگر کسی سڑک پر بوسنیائی مسلمانوں میں سے ایک بالغ اور ایک بچہ ساتھ چلتے، تو عموماً بچہ پہلے شکار ہوتا تھا۔ اگر ایک خاندان چلتا، تو سب سے چھوٹا گرتا تھا کیونکہ اس کی قیمت زیادہ ہوتی تھی۔ اگر لڑکیوں کا ہجوم ہوتا، تو سب سے خوبصورت گرتی تھی کیونکہ سب سے سوہنی بوسنین حسینہ مارنے کا خصوصی بونس تھا۔ " یہ ایک پیشہ ور فوجی کی گواہی ہے، جس نے ایک عالمی عدالت کے سامنے، حلف کے ساتھ، یہ بات اٹھارہ سال پہلے ریکارڈ کرا دی تھی۔

سرے یوو کے محاصرے کی کل مدت ایک ہزار چار سو پچیس دن تھی اور یہ جدید یورپ کا سب سے طویل محاصرہ ہے۔ اس میں گیارہ ہزار پانچ سو سے زیادہ شہری مارے گئے، جن میں سے سولہ سو ایک بچے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے "محفوظ" ہوائی اڈے کی پہاڑیوں سے، جنہیں "سنائپر ایلی" کہا جاتا تھا، روزانہ ہزاروں گولیاں شہر کی طرف داغی جاتی تھیں۔ کاراد جچ اور ان کے فوجی کمانڈر سٹانیسلاؤ گالچ، دونوں کو نسل کشی اور انسانیت سوزی کے جرائم میں عمر قید کی سزا ہوئی اور وہ بالترتیب برطانیہ اور جرمنی میں قید ہیں۔

یہی فہرست، یہی نام، یہی شکایت، یہی ٹیرف کارڈ۔۔ اس وقت ملان کے ایک کمرے میں ایزیو گاوازینی کی میز پر رکھا ہوا ہے۔

اور وہ اٹھاون سال کا شخص اپنے باورچی خانے میں اپنی دوسری چسکی لے رہا ہے۔

اس کی بیوی نے ٹوسٹ کی پلیٹ اس کے سامنے رکھ دی ہے اور اب وہ خود بھی میز پر بیٹھ گئی ہے اور اپنے فون پر آج کے دن کا کیلنڈر چیک کر رہی ہے۔

اور یہاں، اس باورچی خانے کی دوسری طرف، آپ کھڑے ہیں۔

آپ یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ بیوی کو، جو اپنے فون پر کیلنڈر چیک کر رہی ہے۔ شوہر کو، جو ایوکاڈو ٹوسٹ کا لقمہ چبا رہا ہے۔ صبح کی نرم روشنی کو، جو سفید پردوں کے درمیان سے اندر آ رہی ہے۔ گھڑی کی ہلکی سی ٹک ٹک کو۔ ل اور اس انگوٹھے کو، جو کافی کے کپ کو ابھی بھی مستقل گرفت میں رکھے ہوئے ہے اور جس نے 1993 میں ایک بندوق کا ٹریگر دبایا تھا۔

آپ کا دل کرتا ہے کہ شور مچائیں۔ آپ کو دروازہ توڑنے کی خواہش ہوتی ہے۔ آپ بیوی کو ہلانا چاہتے ہیں اور پوچھنا چاہتے ہیں، "میڈم، کیا آپ جانتی ہیں کہ آپ نے گزشتہ تیس سال سے کس کے ساتھ سونے، کس کے بچوں کی پرورش کرنے اور کس کے ساتھ بڑھاپے کا منصوبہ بنانے میں گزارے ہیں؟"

مگر آپ نہیں جا سکتے۔ کیونکہ آپ تیس سال تاخیر سے ہیں اور یہ ایک ایسی تاخیر ہے جس کی قیمت کوئی ادا نہیں کر سکتا۔

اور یہ تیس سال کی تاخیر کا حساب صرف وہ پانچ سال کی بچی نہیں دے گی جو سرے یوو کی کسی گلی میں اپنی ماں کا ہاتھ تھامے گری تھی۔ یہ حساب وہ بچی بھی دے گی جو آج صبح میناب یا غزہ میں گری ہے اور وہ بچی بھی جو کل صبح کسی اور جگہ گرے گی۔ کیونکہ وہی ٹیرف کارڈ، نئے روپ میں، نئی زبان میں، نئے ہوٹل کی لابی میں، چائے کی کسی اور پیالی پر، آج بھی تہذیب کی کسی نہ کسی پالش کے نیچے پھیلایا جا رہا ہے۔ خریدار بدل گئے ہیں، طریقۂ ادائیگی بدل گیا ہے، رائفلیں ڈرونوں میں بدل گئی ہیں۔ کارڈ بدستور اپنی جگہ موجود ہے۔

ملان میں ایزیو گاوازینی نے فائل میز پر رکھ کر سرکاری وکیل کی طرف سرکا دی ہے۔ تفتیش کار کاغذ پلٹ رہے ہیں، نام مرتب کر رہے ہیں، گواہوں کے ساتھ رابطے کر رہے ہیں۔ اطالوی ٹرک ڈرائیور سے پہلا انٹرویو ہو چکا ہے۔ امریکی کانگریس وومن نے اپنی تحقیقات کا اعلان کر دیا ہے۔ کاغذ آہستہ آہستہ، اپنی پرانی، تھکی ہوئی رفتار سے، حرکت کر رہے ہیں۔

اور وہ اٹھاون سال کا شخص اپنے باورچی خانے میں اپنی تیسری چسکی کے بعد ٹوسٹ کا آخری لقمہ بھی نگل چکا ہے اور اب اپنی بیوی سے کہہ رہا ہے کہ آج وہ شام کو روبرٹو کے ہاں جاتے ہوئے ایک پھولوں کا گلدستہ اور بچی کے لئے کوئی تحفہ ساتھ لے کر جائیں گے۔ بیوی متفق ہے۔

شاید اس شخص کو کبھی ہتھکڑی پہنائی جائے گی۔ شاید یہ کسی صبح، اپنے دروازے پر پولیس کی دستک سن کر، اپنا سرمئی ڈریسنگ گاؤن بدلنے کی فرصت پائے گا۔ شاید ایسا کبھی نہیں ہوگا اور یہ اپنی پنشن، اپنی پوتیوں، اپنی صبح کی کافی کے ساتھ اپنی موت تک رہے گا اور اس کے کفن پر کسی پادری کی تقریر یہ کہے گی کہ "آج ہم ایسے انسان کا ماتم کر رہے ہیں کو ایک شاندار شوہر اور ایک شفیق باپ تھا، ایک ایسا انسان جس نے اپنی برادری کو ہمیشہ سہارا دیا۔ "

مگر وہ پانچ سال کی بچی، جس کا نام اس ٹیرف کارڈ پر کبھی نہیں لکھا گیا، جو صرف "بچہ، چھ سال سے کم، ایک لاکھ پچیس ہزار" کے خانے میں آتی تھی -- وہ بچی کبھی پنشن پر نہیں جا سکی۔ نہ کبھی شادی کر سکی، نہ کبھی پی ایچ ڈی، نہ کبھی فلسفے کا کوئی مقالہ، نہ کبھی "Just War Theory in the Modern Era" کے موضوع پر کوئی تحریر۔ اس کی زندگی۔۔ اپنی تمام تر ممکنہ خوبصورتیوں، اپنے تمام تر ممکنہ بیٹوں اور بیٹیوں، اپنے تمام تر ممکنہ خوابوں، اپنی تمام تر ممکنہ صبحوں اور شاموں کے ساتھ، اسی صبح، سرے یوو کی کسی گلی میں، اپنی ماں کا ہاتھ تھامے، چھ سو میٹر دور سے آنے والی ایک گولی کے سامنے، اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔

اس بچی کے کھاتے کی بقایا رقم، تیس سال کے سود سمیت، ابھی واجب الادا ہے۔

اور ادا کرنے والا کوئی نہیں۔

Check Also

Abdali Missile: Difai Istehkam, Wazeh Paigham

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi