پاکستان، نام یاد رکھیں

7 اپریل 2026۔ رات گیارہ بج کر تینتالیس منٹ برطانوی وقت۔
ٹیلی گراف نے سرخی لگائی: "ٹرمپ نے آخری لمحے میں ایران سے جنگ بندی کا اعلان کیا"۔
نیویارک ٹائمز نے سرخی لگائی: "ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا، فوری تباہی کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ گیا"۔
ایکسیوز نے تصدیق کی: "امریکہ نے پاکستان کی تجویز کردہ دو ہفتے کی جنگ بندی قبول کرلی"۔
بارہ گھنٹے پہلے اسی آدمی نے لکھا تھا: "آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی"۔ اسی آدمی کے اپنے عہدیدار نے اسے "پاگل کتے کی طرح خونخوار" کہا تھا۔ اسی آدمی نے ایسٹر سنڈے کو گالیاں لکھی تھیں۔ اسی آدمی کی اپنی پارٹی کی مارجوری ٹیلر گرین نے پچیسویں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا۔ اسی آدمی نے کہا تھا "چار گھنٹے میں ہر پل اور ہر بجلی گھر تباہ"۔ اسی آدمی نے "پتھر کے دور میں بھیج دوں گا" کہا تھا۔
اور اب اسی پاگل سانڈ نے پاکستان کی تجویز مان لی ہے۔
ایکسیوز کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر بیان جاری کیا: "مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پرامن حل کی سفارتی کوششیں مستحکم، مضبوط اور طاقتور انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں اور مستقبل قریب میں ٹھوس نتائج کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ سفارتکاری کو اپنا کام کرنے کا موقع دینے کے لیے میں صدر ٹرمپ سے دو ہفتے کی توسیع کی درخواست کرتا ہوں"۔ پھر ایران سے مخاطب ہوئے: "پاکستان پوری خلوص نیت سے ایرانی بھائیوں سے درخواست کرتا ہے کہ دو ہفتے کے لیے خیر سگالی کے اظہار کے طور پر آبنائے ہرمز کھول دیں"۔
وائٹ ہاؤس ترجمان کارولین لیویٹ نے اے بی سی نیوز کو بتایا: "صدر کو تجویز سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور جواب آئے گا"۔
جواب آیا۔ ٹرمپ نے مانا۔
ایکسیوز نے بتایا کہ پاکستانی تجویز کے تحت ٹرمپ اپنی دھمکی روک لے گا اور ایران دو ہفتے کے لیے آبنائے ہرمز کھولے گا۔ ان دو ہفتوں میں وسیع تر معاہدے پر مذاکرات ہوں گے۔ نائب صدر وینس ممکنہ طور پر ذاتی مذاکرات کی قیادت کریں گے۔ ٹیلی گراف نے بتایا کہ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران پاکستانی ثالثوں کے تازہ ترین منصوبوں کا "مثبت جائزہ" لے رہا ہے۔
ذرا رکیں اور اس لمحے کی وسعت محسوس کریں۔
صبح خارگ جزیرے پر امریکی فوج نے "درجنوں فوجی اہداف" پر حملے کیے۔ اسرائیلی طیاروں نے ایران بھر میں ریلوے پل اور پٹریاں تباہ کیں۔ البرز صوبے میں رہائشی علاقوں پر حملوں میں 18 شہری مارے گئے جن میں دو بچے شامل ہیں۔ تہران کی خوراسانیہ عبادت گاہ "مکمل طور پر تباہ" ہوئی۔ کراج میں اعلیٰ وولٹیج لائنیں اڑائی گئیں اور شہر اندھیرے میں ڈوبا۔ ایرانی نوجوان بجلی گھروں کے گرد انسانی زنجیریں بنا رہے تھے۔ پوپ لیو نے ویٹیکن سے التجا کی کہ "جن کے ہاتھوں میں جنگ چھیڑنے کی طاقت ہے وہ امن کا راستہ چنیں"۔ سعودی عرب نے سات بیلسٹک میزائل اور 18 ڈرون روکے۔ استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے باہر فائرنگ ہوئی۔ اٹلی کے چار ہوائی اڈوں پر ایندھن کی راشننگ شروع ہوئی۔ برینٹ کروڈ 108 ڈالر۔ پاسداران انقلاب نے کہا کہ جواب "خطے سے باہر" تک جائے گا۔
اور ان سب کے درمیان پاکستان نے وہ کام کیا جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
21 مارچ سے ٹرمپ ڈیڈ لائن پر ڈیڈ لائن دے رہا تھا۔ 48 گھنٹے سے پانچ دن۔ پانچ دن سے دس دن۔ 6 اپریل سے 7 اپریل۔ ہر بار TACO. ہر بار پیچھے ہٹا مگر کسی نے اسے پیچھے ہٹنے کا باعزت راستہ نہیں دیا۔ آج پاکستان نے وہ راستہ دیا۔ دو ہفتے کا وقفہ۔ نہ ہار نہ جیت۔ سفارتکاری کو موقع۔ آبنائے خیر سگالی سے کھلے۔ بمباری رکے۔ مذاکرات ہوں۔
یہ وہی فارمولا ہے جو میں نے آج صبح لکھا تھا: "آخری لمحے میں ایک ترمیم شدہ مسودہ سامنے آتا ہے جسے دونوں فریق "ہاں" کہنے کے بجائے "نہیں نہیں" کہنا بند کر دیتے ہیں۔ نہ باقاعدہ معاہدہ ہوتا ہے نہ پاور پلانٹ ڈے۔ ایک دھندلا سا وقفہ بنتا ہے جسے دونوں طرف فتح کا نام دیا جاتا ہے"۔
بالکل یہی ہوا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر فون پر تھے۔ وینس، وٹکاف، عراقچی سے بات ہوتی رہی۔ وزیر اعظم شریف نے عوامی طور پر درخواست کی۔ ایران نے "مثبت جائزہ" لیا۔ ٹرمپ نے مانا۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا: "تباہی کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ گیا"۔
آج 7 اپریل 2026 کی تاریخ یاد رکھیں۔
آج وہ دن ہے جب ایک تہذیب مرنے سے بچی۔ ایک ملک جسے ایک سال پہلے "ناکام ریاست" کہا جاتا تھا اس نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو "باعزت" راستہ دیا اور پچیس سو سال پرانی تہذیب کے بجلی گھر بچا لیے۔ رومی نے کہا تھا کہ پاگل کے ہاتھ میں تلوار دینا خطرناک ہے۔ آج پاکستان نے وہ تلوار نیچے رکھوائی ہے۔
عارضی طور پر۔ دو ہفتے کے لیے۔ مگر دو ہفتے میں بہت کچھ ہو سکتا ہے اور دو ہفتے میں بہت کچھ نہ ہونے سے بہتر ہے کہ آج رات نوے لاکھ انسانوں کی بجلی بند نہ ہو۔
امید ہے کہ پاسداران اور ٹرمپ کوئی نواں چن نہیں چڑھائیں گے اور اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر امن کا باجا بجنے دیں گے۔ ہم بارود کے ڈھیر کو تیلی دکھانے سے چند لمحوں کے فاصلے پر ہیں۔
آج رات کے لیے ہی سہی، لیکن لندن، نیویارک، پیرس نہیں، اسلام آباد دنیا کا سب سے اہم شہر ہے۔
پاکستان - ہمیشہ زندہ باد

