Thursday, 16 April 2026
  1.  Home
  2. Arif Anis Malik
  3. Bharat Ko Pakistan Kyun Charh Gaya Hai?

Bharat Ko Pakistan Kyun Charh Gaya Hai?

بھارت کو پاکستان کیوں چڑھ گیا ہے؟

اسی ہفتے بھارت کے انگریزی اخبار دی ٹریبیون چنڈی گڑھ میں ایک دلچسپ کالم شائع ہوا۔ لکھنے والی جیوتی ملہوترا ہیں جو بھارتی سفارتی صحافت میں ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ کالم کا عنوان تھا "India's obsession with Pakistan"، بھارت کے سر پر پاکستان کا جنون کیوں سوار ہے؟ عنوان ہی اتنا دلچسپ تھا کہ میں نے فوراً پڑھا۔

دراصل جیوتی ملہوترا کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت اپنی جسامت سے بہت اونچے مکے مار رہا ہے اور بھارت اپنی طاقت سے بہت نیچے۔ وہ لکھتی ہیں کہ پرانے دنوں میں جب عام بھارتی اور پاکستانی ایک دوسرے سے مل سکتے تھے، لاہور میں لنچ، پٹیالہ میں ڈنر، کراچی میں شادیاں، قادیان میں جنازے، تب پاکستانی اکثر چین اور پاکستان کے تعلقات پر فخر سے بات کرتے تھے۔ "ہمالیہ سے اونچی، سمندر سے گہری" دوستی کا ذکر ہوتا تھا۔ آج کی دنیا میں یہ جملہ فلم دھرندھر تھری کے ڈائیلاگ جیسا لگتا ہے مگر اس کے پیچھے ایک بہت گہری حقیقت ہے۔

ملہوترا لکھتی ہیں کہ سیرینا ہوٹل میں صرف تین ملک نمائندگی کر رہے ہیں۔۔ امریکہ، ایران اور پاکستان۔ مگر اس کمرے کے باہر کئی اور بھی ہیں جو سائے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔۔ چین، روس، اسرائیل، لبنان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات۔ ملہوترا پوچھتی ہیں کہ چین اس کمرے میں نہیں ہے مگر کمرے کے باہر سے طاقت کا کھیل کھیل رہا ہے۔ چین نے پاکستان کو دہائیوں سے سہارا دیا ہے۔۔ سڑکیں، بندرگاہیں، فضائیہ، ایٹمی اور میزائل پروگرام۔ پاکستانی خود مانتے ہیں۔۔ آف دی ریکارڈ، ایف سکس ریسٹورنٹ میں کافی پیتے ہوئے۔۔ کہ چین ان کے "آل ویدر فرینڈ" ہیں اور وہ اس کی "کلائنٹ ریاست" ہیں۔ مگر چین یہ ثالثی کا کردار خود نہیں ادا کر سکتا تھا اگر پاکستان کے تمام فریقوں سے تعلقات نہ ہوتے۔

اس کے بعد ملہوترا ایک بہت اہم بات کہتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکرنے پاکستان کو "دلال" کہا تھا۔۔ یعنی بروکر یا بیچولیا۔ مگر ملہوترا کہتی ہیں کہ یہ لفظ پاکستان کی حیثیت بیان کرنے کی بجائے بھارت کی بے بسی ظاہر کرتا ہے۔ آخر بھارت اتنا طاقتور ملک، ایٹمی ہتھیاروں والا، دنیا کی پانچویں بڑی معیشت۔۔ اسکے سر پر پاکستان سے اتنا جنون کیوں سوار ہے کہ بھارت کے سینما گھروں میں دھرندھر ٹو ایک ہزار کروڑ کما رہی ہے۔

ملہوترا کہتی ہیں کہ بھارت کے لیے پہلا سبق یہ کہ عاجزی اختیار کرو، تکبر مت کرو۔ وہ دینگ ژیاؤ پنگ کا مشہور چوبیس حرفی اصول نقل کرتی ہیں۔۔ "تاؤ گوانگ یانگ ہوئی"۔۔ یعنی اپنی طاقت چھپاؤ اور وقت کا انتظار کرو۔ صرف امریکہ اور اسرائیل نہیں جنہیں ایک کمزور ایران کے سامنے جھکنا پڑا۔۔ جے شنکر بھی متحدہ عرب امارات میں ہیں اسی دن جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت نے ایک اہم سبق سیکھا ہے۔۔ چین کا کڑوا گھونٹ پی کر بڑی تصویر دیکھنا۔ 2020 میں لداخ میں بیس بھارتی فوجی مارے گئے مگر بھارت چین سے تجارت کرتا رہا کیونکہ وہ اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مگر پھر ملہوترا ایک بڑا سوال اٹھاتی ہیں۔۔ بھارت اپنی طاقت سے نیچے کیوں مکے مار رہا ہے؟ خاص طور پر جب اس کا اصل حریف چین ہے، تو وہ پاکستان میں اتنا الجھا کیوں ہے؟ بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے خود اپنے ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔۔ نہ سفارتی تعلقات، نہ تجارت، نہ کرکٹ۔ پاکستان سے نفرت کو ایک پالیسی بنا دیا گیا ہے مگر اس پالیسی سے بھارت کو کیا ملا؟ چین کا پاکستان میں اثر بڑھتا گیا اور بھارت میز سے غائب رہا۔

ہمارے ہاں لوگ یہ بات نہیں سمجھتے کہ بھارتی میڈیا میں پاکستان کا ذکر کتنا ہوتا ہے۔ ہر نیوز چینل پر، ہر بحث میں، ہر پینل ڈسکشن میں پاکستان۔ یہ جنون کی طرح ہمارے سروں پر سوار ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی تمام تر مشکلات، معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام کے باوجود ایک ایسی سفارتی جگہ بنا لی ہے جو بھارت کے پاس نہیں ہے۔ پاکستان ایران سے بھی بات کر سکتا ہے، امریکہ سے بھی، سعودی عرب سے بھی، چین سے بھی۔ اس کی فوج کے سربراہ کو ٹرمپ "اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل" کہتے ہیں اور ایرانی آئی آر جی سی کی قیادت سے بھی ان کے تعلقات ہیں کیونکہ وہ ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ یہ وہ پوزیشن ہے جو بھارت کے پاس نہیں ہے اور جس کا نہ ہونا اسے تکلیف دے رہا ہے۔

اب تازہ ترین صورتحال دیکھیں۔ اسلام آباد مذاکرات ناکام رہے مگر ناکامی میں بھی کامیابی چھپی ہے۔ دونوں فریقوں نے پاکستان کی ثالثی کو سراہا۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ "اسلام آباد مذاکرات نے ایک سفارتی عمل کی بنیاد رکھی"۔ امریکی حکام نے بھی تسلیم کیا کہ دونوں فریق ایک MoU سے صرف چند انچ دور تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لکھا کہ "ہم اسلام آباد ایم او یو سے انچوں کی دوری پر تھے"۔ پاکستان نے فوراً اگلا قدم اٹھایا۔۔ خبریں ہیں کہ امریکی اور ایرانی ٹیمیں اس ہفتے پھر اسلام آباد آ رہی ہیں اور صدر ٹرمپ کے دورے کی بازگشت ہے۔ پاکستانی حکام اسے "اسلام آباد پراسیس" کا نام دے رہے ہیں۔۔ یعنی یہ ایک بار کی کوشش نہیں، ایک مسلسل سفارتی ٹریک ہے۔

پاکستان میں آنے والی دنیا کا منظرنامہ بن رہا ہے مگر پوری تصویر میں بھارت کہاں ہے؟ جے شنکر ابوظہبی میں ہیں۔ بھارتی میڈیا الجھا ہوا ہے کہ پاکستان کو کیا کہا جائے۔۔ طاقتور ثالث، غیر متعلق پیام بر، بیک روم بوائے، یا صرف ایک کمزور ملک جو کنارے پر کھڑا ہے؟ ملہوترا کہتی ہیں کہ شاید یہ سب ہے اور شاید کچھ بھی نہیں۔ مگر ایک بات یقینی ہے۔۔ پاکستان نے وہ کام کیا ہے جو بھارت نہیں کر سکا۔

میں خود بھی حیران ہوں۔۔ ایک ملک جہاں پیٹرول ساڑھے چار سو روپے لیٹر ہو چکا ہے، جہاں مہنگائی سے لوگ پریشان ہیں، جہاں سیاسی بحران ہے۔۔ وہی ملک عالمی امن کی ثالثی کر رہا ہے۔ یہ پاکستان کی خوبی بھی ہے اور عجیب بات بھی۔

خیر، ملہوترا کا کالم پڑھ کر ایک بات ذہن میں آئی۔ بھارتی صحافی جب یہ لکھتی ہیں کہ بھارت کو پاکستان کا جنون ہے تو یہ خود ایک بڑا اعتراف ہے۔ ہمارے ہاں بھی بھارت کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جاتا ہے مگر وہ ایک مختلف قسم کی بات ہے۔ پاکستان بھارت سے خطرہ محسوس کرتا ہے کیونکہ بھارت بڑا ہے۔ مگر بھارت پاکستان سے کیوں اتنا پریشان ہے جبکہ وہ آٹھ گنا بڑا ہے؟ ملہوترا کا جواب صاف ہے۔۔ کیونکہ پاکستان نے ایسے تعلقات بنائے ہیں جو اسے اپنی جسامت سے بہت بڑا بنا دیتے ہیں۔ چین، سعودی عرب، ترکیہ، امریکہ، مصر، ان سب کے ساتھ بیک وقت تعلقات رکھنا ایک فن ہے اور اس فن میں پاکستان ماہر ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کبھی اس جنون سے باہر نکل پائے گا؟ اور کیا پاکستان اپنے شاندار سفارتی سرمائے کو اپنے عوام کی بہتری میں بھی لگا پائے گا؟ دونوں سوال اہم ہیں مگر دونوں کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں ہے۔

Check Also

Pakeeza Khayal Ki Tarseel

By Aamir Mehmood