تیسرا موقع

سوشل میڈیا پر ہمارے ایک دوست اور معروف بلاگر نے لکھا کہ پاکستان کی جدید تاریخ کے تین دن بہت اہم، شاندار اور تاریخی ہیں۔ پہلا اٹھائیس مئی انیس سو اٹھانوے، جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے اور پوری مسلم دنیا میں پاکستان ایک ہیرو بن کر ابھرا۔ دوسرا پچھلے سال دس مئی کا دن جب افواج پاکستان نے پڑوسی ملک بھارت کی جارحیت کا دندان شکن جواب دیا۔ ان کے مہنگے ترین طیارے رافیل خاک میں ملا دئیے، ائیر ڈیفنس سسٹم تباہ کر دیا اور اپنی عسکری برتری ثابت کر دی۔ تیسرا واقعہ دو دن پہلے فیصلہ کن امریکی بمباری سے چند گھڑیاں قبل پاکستان کی جانب سے ایران امریکہ جنگ بندی کرانا اور پھر پاکستان ہی کی جانب سے اس کا تاریخ ساز اعلان کرنا ہے۔
یہ لکھاری اور ماسٹر ٹرینر دوست (عارف انیس) ٰیورپ میں مقیم ہیں، معروف مصنف، ایکسپرٹ، سپیکر ہیں۔ انہیں امریکہ، یورپ، لاطینی امریکہ یعنی میکسیکو وغیرہ کے ساتھ مصر جیسے عرب ممالک میں بھی بہت سے سفر کرنے، وہاں لیکچر دینے، ٹریننگ سیشنز کرانے کا موقعہ ملتا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کا اوورسیز ایکسپوژر بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ان تین مواقع پر مغربی دنیا میں پاکستان کی عزت، توقیر اور سربلندی واضح محسوس ہوئی۔
جب پاکستان نیوکلیئر قوت بنا تو اگرچہ مغربی ممالک نے پابندیاں لگائیں مگر وہاں کے لوگ اور مختلف شعبہ زندگی کی اہم شخصیات پاکستان کا سیریس لینا شروع ہوگئیں۔ عرب ممالک اور مجموعی طور پر پوری مسلم دنیا میں اسے ایک غیر معمولی کامیابی سمجھا گیا اور سراہا گیا۔
پچھلے سال مئی میں افواج پاکستان نے جو کر دکھایا، جس طرح شدید اعصاب شکن مرحلے پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے دلیری اور ہمت سے کام لیا اور شدید ترین جواب دیا، پھر پاکستانی عسکری مہارت اور صلاحیت جس طرح سامنے آئی اس نے مغرب میں بہت سوں کو مبہوت کر دیا۔ دنیا کے بڑے بڑے دفاعی، عسکری تجزیہ کار، ڈپلومیٹ وغیرہ تب سے پاکستان کو بہت سیریس لے رہے ہیں، بار بار کھل کر سراہتے ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے، زیادہ وسائل اور زیادہ جدید مہنگے ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی رکھنے والے ملک بھارت کو شکست دی ہے۔ ہمارے ہاں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کو پاکستانی حکومت نے خاصی تعریف کر کیرام کیا ہے، یہ بات درست نہیں۔ صدر ٹرمپ جتنا بے وقوف نظر آتا ہے، ویسا ہے نہیں۔ مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے اپنی اہمیت ثابت کی ہے، تب ہی صدر ٹرمپ پاکستان کے فیلڈمارشل کو کھل کر سراہتا ہے۔
سب سے اہم موقع اور عارف انیس ملک کے مطابق ماڈرن پاکستانی ہسٹری کا تیسرا تاریخ ساز دن تو ابھی ہمارے سامنے ہی ہے، یوں لگتا ہے کہ وہ دن چوبیس گھنٹوں کا نہیں تھا بلکہ ابھی تک ہمارے سامنے ہی چل رہا ہے۔ پاکستان نے جس ہوشیاری، سمجھداری، میچورٹی اور دانشمندی سے یہ سب کیا، اسے اب ہر کوئی مان رہا ہے۔ ہمارے فیلڈ مارشل جس طرح اس حوالے سے سعودیوں، ایرانیوں، چینیوں اور امریکیوں کے ساتھ مذاکرات میں جتے رہے، وزیراعظم شہبازشریف، وزیرخارجہ اسحاق ڈار اپنے اپنے انداز میں اور اپنے اپنے کردار کو زبردست طریقے سے نبھاتے رہے، وہ قابل تعریف ہے۔
پاکستان نے خود کو ایک مثالی غیر جانبدار ملک بھی ثابت کیا، اچھا ثالث بھی، اچھا مصالحت کنندہ اور اچھا پیغام پہنچانے والا بھی۔ دراصل یہ ماڈریٹر/میڈیئٹر/مسنجر/پیس میکر/ری کونسلیٹر ٹائپ کردار تھا۔ جن لوگوں کو ان الفاظ کے معنی اور ان کی وسعت کا اندازہ نہیں، وہ خواہ مخواہ کنفیوز ہو رہے ہیں۔ بہت بار ایسے پیچیدہ معاملات میں ملٹی پل رول یعنی کثیر الجہتی کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔
دنیا کے بڑے میڈیا ہاوسز، اخبارات، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ابھر کر سامنے آیا، اس کا بڑا قدآور سفارتی امیج بنا ہے۔ حتیٰ کہ بہت سے بھارتی تجزیہ کار، ریٹائرجرنیل، سابق ڈپلومیٹ اور دانشور تک پاکستان کی پالیسی کو سراہنے پر مجبور ہوگئے۔ وہ پاکستانی سول ملٹری لیڈرشپ کو کریڈٹ دے رہے ہیں، تعریف کر رہے اور بھارتی حکومت پر تنقید کر رہے، وزیراعظم مودی کو کوس رہے ہیں۔
جب پاکستان نے انیس سو اٹھانوے میں ایٹمی دھماکے کئے تو بھارت پہلے ہی کر چکا تھا، اسلئے وہ اس کی توقع کر رہے تھے، حیران نہیں ہوئے۔ پچھلے سال مئی میں انڈین تجزیہ کار، سفارتی، عسکری ماہرین بڑے حیران ہوئے بلکہ شاک میں گئے، مگر تب وہاں حب الوطنی کی ایسی زہریلی لہر چل رہی تھی کہ وہ مسلسل جھوٹ بولنے پر مجبور ہوگئے۔ اس بار مگر صورتحال مختلف ہے۔ اس بار تو عالمی اور مغربی میڈیا پوری طرح کھل کر پاکستان کو سراہ رہا ہے۔ سب کچھ بھارتی عوام کے سامنے بھی آشکار ہے۔ انڈین حکومت پاکستانی چینلز، نیوز ویب سائٹس اور پاکستانی ولاگرز، یوٹیوبرز کے اکاونٹ تک رسائی بند کر سکتی ہے، مگر الجزیرہ، بی بی سی، سی این این، فنانشل ٹائم، نیویارک ٹائمز، گارڈین وغیرہ کو تو نہیں روک سکتے۔ اس لئے پاکستان کی برتری سب پر ثابت ہوگئی ہے۔
اس بار پاکستان میں ایک خوشگوار بات یہ دیکھنے میں آئی کہ اس کامیابی کو قومی سطح پر سیلی بریٹ کیا جارہا۔ اپوزیشن کا رویہ بہت حوصلہ افزا اور مثبت رہا ہے۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بڑے واضح الفاظ میں اس سب کی تعریف کی اور ملک کی خاطر اکھٹے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔ تحریک انصآف اور جے یوآئی ف دونوں پنڈی، اسلام آباد میں اپنا سیاسی احتجاج کا پروگرام رکھ چکی تھیں۔ ایران امریکہ امن مذاکرات اس ویک اینڈ پر اسلام آباد میں ہونے ہیں، اس لئے حکومتی درخواست پر دونوں اپوزیشن جماعتوں نے اپنے احتجاج اور جلسوں کو ملتوی کر دیا۔ تحریک انصاف کا رویہ بھی مثبت رہا، ماضی میں ایسا کم ہوا۔ اسے لازمی سراہنا چاہیے۔
پاکستان میں ایک سوشل میڈیائی حلقہ البتہ مین میخ نکالنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین نے ایران کو راضی کیا، کریڈٹ چین کا ہے۔ اس کا جواب آسان ہے، چین کے کردار کو کون جھٹلائے گا، مگر پاکستان اس پورے عمل میں شریک رہا اور اگر پاکستان درمیان میں نہ ہوتا تو چین بھی آگے نہ بڑھتا۔ اسحاق ڈار ہی چین گئے تھے اور وہاں پاک چین مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا، یہ جنگ بندی بنیادی طور پر انہی نکات پر ہوئی ہے۔ پاکستان اس پورے عمل میں مرکزی پرزہ تھا، وہ اگر نہ ہوتا تو یہ جنگ بندی ہو ہی نہ پاتی۔ پاکستان نے اللہ کے فضل سے یہ کر دکھایا۔ اس بات کو ماننا چاہیے۔
ہم پاکستانی اکثر اپنے سر میں خوشی خوشی خاک ڈال کر خودملامتی کرتے ہیں۔ اس بار اگر قدرت نے ہماری کوششوں کو کامیاب کیا، ہمارے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالا جا رہا تو اس پر خوش ہونا چاہیے۔ ان پھولوں کو خوشدلی سے سونگھئیے اور ان کی خوشبو سے لطف لیں۔

