روف کلاسرا جیسا میں نے انہیں دیکھا

رؤف کلاسرا ممتاز صحافی، کالم نگار اور ٹی وی اینکر ہیں۔ ان کی بڑی آڈینس اورریڈرشپ ہے۔ تین عشروں سے زیادہ انہیں جرنلزم میں ہوچکے ہیں۔ کلاسرا صاحب کا تعلق جیسا کہ بہت لوگ جانتے ہیں لیہ سے ہے، جیسل کلاسرا وہاں کا ایک گاوں ہے، سنا ہے کہ وہاں اب خاصے ترقیاتی کام ہوچکے ہیں، سڑکیں اور دیگر سہولتیں وغیرہ۔ مطلب رؤف صآحب نے اپنی جنم بھومی کو بھلایا نہیں اور اس کے لئے خاصا کچھ کیا۔
ویسے تو کلاسرا برادری کو بھی ان کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ یہ کلاسرا نام بھی انہوں نے ہی مشہور کیا ہے۔ کسی کے نام کے ساتھ کلاسرا لگا ہو، وہ کہیں بھی پاکستان میں، اوورسیز پاکستانیوں کے پڑھے لکھے طبقے میں اپنا نام بتائے تو لوگ اسے چونک کر دیکھیں گے اور رؤف کلاسرا کے ساتھ کسی تعلق، رشتے داری کا پوچھیں گے۔ رؤف کو دیکھ کر ان کےخاندان کے بعض نوجوان صحافت میں آئے، کئیوں کو انہوں نے خاصا سپورٹ کیا اور سیٹ ہونے میں مدد دی، یہ اور بات کہ اکثر ایسے تجربے ناخوشگوار نکلے اور جن پر احسان کیا، ان کےشر سےرؤف کلاسرا کو نقصان اور تکلیف پہنچی۔
رؤف کلاسرا میرے اچھے، پیارے عزیز دوست ہیں۔ ہم بے شک مہینوں آپس میں بات نہ کریں مگر دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ جب بھی کبھی رؤف کلاسرا کو آواز دی، وہ لبیک کہیں گے۔ میں تو خیر ماڑا سا آدمی ہوں، مجھ سے رؤف کو کبھی کام پڑ ہی نہیں سکتا، البتہ میں اپنے دوست کے لئے ہمیشہ دعا گو رہتا ہوں۔
ہمارے سیاسی اور فکری نظریات میں بھی اختلاف چلتا رہتا ہے، بعض امور پر ان کی اور میری رائے مختلف اور کہیں پر متضاد بھی ہے۔ ہم نے البتہ کوشش کی ہے کہ ان مختلف آرا کو اپنے تعلق پر اثرانداز نہ ہونے دیا جائے۔ میں نے بھی کئی بار کسی موضوع یا ایشو پر اس لئے نہیں لکھا کہ کہیں آپس میں بحث شروع نہ ہوجائے، مجھےلگتا ہے کہ یہی رؤف کلاسرا بھی کرتے ہیں، بہت بار وہ طرح دے جاتیں ہیں، حالانکہ وہ اپنے موقف کو مضبوطی اور دلیری سے بیان کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔
میں رؤف کلاسرا کی ایک بات کا بڑا قائل اور مداح ہوں کہ وہ ہر کسی کے کام آتے ہیں۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ کسی انجان نوجوان نے بھی انہیں فون کیا یا کسی طریقے سے رابطہ کیا اور مدد کے لئے پکارا تو رؤف کلاسرا نے خاموشی سے کسی کو بتائے بغیر اس کا کام کر ڈالا۔ ہمارے ایک اور دوست جن کا تعلق بھی لیہ سے ہے، چند سال پہلے وہ ایک مشکل میں آگئے، ان کا بھانجا جو ہائی سکول کا طالب علم تھا اور میٹرک بورڈ کے پیپرز ہونے والے تھے، کسی دوسرے بچے سے لڑائی کے بعد اس پر موبائل چوری کا الزام لگایا گیا اور چونکہ دوسری پارٹی بااثر تھی، یہ غریب پکڑ کر اندر کر دیا گیا۔ اس دوست نے کسی طرح رؤف کلاسرا سے رابطہ کیا۔ ان کی پہلے کبھی پرسنلی ملاقات ہوئی تھی نہ فون پر بات ہوئی۔ صرف یہ کہ اس دوست کی بعض تحریریں رؤف کلاسرا نے پڑھ رکھی تھیں۔ پورا ماجرا سن کر رؤف نے صرف اتنا پوچھا کہ بچہ واقعی بے قصور ہے۔ دوست نے یقین دہانی کرائی تو رؤف کلاسرا نے کہا ٹھیک ہے۔
کچھ دیر بعد اسی بدبخت تھانے دار کا انہیں فون آیا جو پہلے بات سننا گوارا نہیں کرتا تھا۔ اس نے تھانے بلایا، منت کرکے چائے بسکٹ کھلائے، بچے کو پہلے ہی حوالات سے باہر نکال کر عزت سے کرسی پر بٹھا رکھا تھا۔ تھانے دار نے معذرت کی، شکایتی پارٹی کی جھوٹی درخواست خارج کی اور بچے کو ساتھ لے جانے کا کہا۔ معلوم ہوا کہ شائد وہاں کا ڈی پی او کلاسرا صاحب کا جاننے والا تھا، کلاسرا صاحب نے انہیں صرف یہ کہا کہ دیانت دارانہ تفتیش کرائیں، بچہ بے قصور ہے تو اسے فوری چھوڑ دیں، اس کے میٹرک کے پیپرز ہونے والے ہیں۔ کیس جھوٹا تھا، فوری پتہ چل گیا اور یوں ہمارے اس دوست کی مشکل آسان ہوگئی۔ آج وہ بچہ انٹر بھی کر چکا ہے۔
ایسی کئی مثالیں، بہت سے واقعات ہیں۔ میرے جاننے والوں میں ہی سے آٹھ دس مثالیں نکل آئیں گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رؤف کلاسرا بہت زیادہ لکھنے والوں میں ہے، کالم وغیرہ کے علاوہ بھی وہ پوسٹیں کرتا رہتا ہے، ولاگ، فیس بک پر کلپس وغیرہ۔ کئی ہلکی پھلکی پوسٹیں بھی کرتا ہے، اپنے بعض پرانے دوستوں جیسے شفیق لغاری کے حوالے سے بھی پوسٹ کرتا رہتا ہے۔ مگر کبھی آپ نے کلاسرا کی وال پر، اس کے قلم یا زبان سے ایسا کوئی واقعہ نہیں سنا ہوگا جس میں اس نے کسی کی مدد کرنے کا قصہ بیان کیا ہو۔ حالانکہ ایسے قصے، و اقعات ہزاروں میں نہ سہی تو سینکڑوں میں ضرور ہیں۔ یہ اس کی وضع داری اور اعلیٰ ظرفی ہے کہ وہ کسی کی مدد کرکے اسے آرام سے بھلا دیتا ہے، کبھی نام تک نہیں لیتا۔
رؤف کلاسرا کے مخالفین بھی یہ بات مانتے ہیں کہ وہ بے فیض آدمی ہرگز نہیں، اگر اس سے کسی کا کام ہوسکتا ہے تو وہ فوری کر ڈالتا ہے۔ ہچکچاتا نہیں، اگرچہ اکثر ایسا ہوا کہ جس پر احسان کیا، اس نے جواب میں ڈسنے میں کسر نہیں چھوڑی۔ رؤف کلاسرا مگر ایسا کشادہ دل آدمی ہے کہ وہ آج بھی اپنی انہی پرانی وضع داری پر قائم ہے۔
رؤف کلاسرا کی ایک اور خوبی مجھے اچھی لگتی ہے کہ وہ ایک بڑا سٹار اور صحافتی سیلبریٹی بننے کے باوجود بھی نہایت ڈاون ٹو ارتھ ہیں۔ ہمبل، نکسرالمزاج، سادہ، درویشانہ طبعیت والے۔ وہ زکریا یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ تیس بتیس سال قبل ان کے یونیورسٹی فیلوز، کلاس فیلوز سے جو تعلق تھا، آج بھی ویسا ہی ہے۔ آج کا رؤف کلاسرا ایک بڑا سپرسٹار کالمسٹ، ٹی وی اینکر بن چکا ہے، دنیا وہ گھومتا ہے، اللہ نے ہر سہولت اسے دے رکھی ہے، اسلام آباد کلب کا وہ ممبر ہے، اس کے حلقہ احباب میں بہت سےنامور لوگ ہیں۔ اس کے باوجود رؤف کا اپنے کلاس فیلوز سے ویسا، پہلے جیسا صیغہ واحد والا تعلق ہے۔ تو تڑاخ والی بے تکلفی، دوستانہ ہلکی پھلکی گالی گلوچ بھی جو کہ کالج یونیورسٹی کے لڑکے بے تکلفانہ گفتگو میں استعمال کرتے ہیں۔ اپنے پرانے دوستوں سے تعلق ویسا رکھا ہوا ہے۔ ملتان، لاہور کا چکر لگے تو ان سے ملتا، کھاتا پیتا۔ بے تکلفانہ گھنٹوں کی نشستیں کرتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو اب بہت کم رہ گئی ہے۔ جیسے ہی کوئی زندگی میں کامیاب ہوتا ہے، اس کی کسی حد تک کلاس تبدیل ہوتی ہے، اس کے پرانے دوست سب سے پہلے بچھڑتے ہیں کہ وہ تو، تم کے انداز میں بات کرنے کے عادی ہوتے ہیں، نئے نئے کامیاب لوگ ماضی کے ان تعلق کو بوجھ سمجھ کر فوری اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رؤف کلاسرا ان لوگوں میں سے ہرگز نہیں۔ اللہ اسے اپنی ان اچھی صفات پر قائم رکھے، آمین۔
میں ایک اور چیز کو بھی پسند کرتا ہوں وہ ہے رؤف کلاسرا کا ان تھک محنتی ہونا۔ اس کی زندگی میں نجانے یہ ڈسپلن ہے یا انرجی اتنی ہے کہ ماشااللہ اپنی بے پناہ صحافتی مصرؤفیات کے باوجود وہ واک کےلئے بھی وقت نکالتا ہے، جو دو چار قریبی دوست ہیں ان کے ساتھ بھی اپنی فیورٹ ہیزل نٹ کافی پینے کا وقت نکال لیتا ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر نجانے کتنی کتابیں بھی پڑھ ڈالتا ہے اور ان پر بے تکان لکھ ڈالتا ہے۔ یہ سب چیزیں مینیج کرنا بہت مشکل ہے۔ (کم از کم میرے جیسے سست آدمی کے لئے تو یہ ایک حیران کن امر ہے۔ لکھنا پڑھنا تو چلو تھوڑا بہت ہم بھی کر لیتے ہیں، مگر واک کی ڈبلیو سے بی واقف نہیں۔ جبکہ می ٹائم بھی نہیں نکال سکتے۔ کافی بھی ہمیں گھر ہی میں پینا پسند ہے، باہر کہیں جاتے کم وبیش موت نظر آتی ہے۔)
یہ تو خیر ذاتی حوالے ہیں، شخصی اوصاف ہیں، ان کی اہمیت کم نہیں، مگر میرے نزدیک زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اپنے تیس بتیس سالہ صحافتی کیرئر میں رؤف کلاسرا کا دامن بے داغ رہا، اس کا کیریر شفاف ہے، کسی بھی قسم کے کرپشن سکینڈل سے پاک، دھلا دھلایا۔ یہ بہت ہی اہم بات ہے۔
رؤف کلاسرا نے ابتدا ہی سے اہم اور بڑے اخبارات میں کام کیا۔ پہلے ڈان جیسے اخبار میں کام کیا اور پھر دی نیوز میں اہم رپورٹنگ بیٹ رہی۔ اس نے اپنی رپورٹنگ ہی سے نام کمایا اور بہت سے ایسے سکینڈلز بے نقاب کئے جو بعد میں سپریم کورٹ میں بھی ڈسکس ہوئے۔ اس کے بعد ایکسپریس ٹریبون جوائن کر لیا اور ایکسپریس اخبار ہی میں اردو میں کالم لکھنے شروع کر دئیے۔ پھر ایک ناخوشگوار واقعے کے بعد ایکسپریس چھوڑ دیا۔ کلاسرا کی ایک سٹوری رک گئی اور اس کی وجہ ایسی تھی کہ کلاسرا کا دل ٹوٹ گیا، اس نے ادارہ چھوڑ دیا۔
پھر دنیا چینل جوائن کیا، جب دنیا اخبار شروع ہوا تو رؤف کلاسرا اسلام آباد میں سپیشل ایڈیٹر انویسٹی گیشن تھے، میں دنیا اخبار کا میگزین ایڈیٹر اور کالم نگار تھا۔ رؤف کلاسرا نے بھی پہلے دن سے کالم لکھنے شروع کر دئیے۔ نزیر ناجی صاحب گروپ ایڈیٹر تھے، ہارون الرشید صاحب ایڈیٹر ایڈیٹوریل تھے۔ کئی بڑے اور مقبول کالم نگار تھے۔ ابتدا میں حسن نثار بھی ایک سال تک کالم لکھتے رہے۔ نذیر ناجی، ہارون الرشید، حسن نثار، اظہار الحق، خالد مسعود، مفتی منیب الرحمن وغیرہ لکھتے تھے، بعد میں ارشاد احمدعارف بھی سینئر ایڈیٹر بن کر دنیا اخبار میں آ گئے۔ یہ خاکسار بھی ہفتے میں تین کالم لکھتا تھا۔ رؤف کلاسرا کے کالم ٹاپ تھری رینکنگ میں ہوا کرتے کلکس کے حساب سے۔ یہ اس لئے بتا رہا ہوں کہ میں بھی اس ای پیپر کے کلکس والی رپورٹ دیکھا کرتا تھا۔ کبھی ہم بھی ٹاپ تھری میں آ جاتے تھے، مگر کلاسرا صاحب کی ریٹنگ بہت اچھی تھی۔
وہاں پر ایک دلچسپ ماجرا ہوا۔ نیا اخبار تھا مگر ہماری خبریں مارکیٹ میں زیادہ ڈسکس نہیں ہو رہی تھیں، ایک خبر رؤف کلاسرا نے دی جسے لیڈ بننا چاہیے تھا، مگر گروپ ایڈیٹر نے حوصلہ نہیں کیا۔ ان دنوں سوئس عدالت میں خط لکھنے کا معاملہ چل رہا تھا، خط نہ لکھنے پر یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ ختم ہوگئی تھی۔ ایک دن رؤف کلاسرا نے سٹوری دی کہ پاکستان نے خاموشی سے سوئس عدالت کو خط لکھ دیا ہے۔ یہ خبر لیڈ بنتی تھی، ایکسکلیوسو لیڈ۔ ناجی صاحب کو خطرہ تھا کہ خبر غلط نکلی تو نیا اخبار ہے، بہت نقصان ہوجائے گا۔ آخر اخبار کے مالک میاں عامر محمود کی مداخلت پر تین کالمی خبر لگی۔ میاں صاحب کا کہنا تھا کہ ہمارا اتنا اہم اور سٹار رپورٹر ہے اور وہ اپنی خبر پر اس قدر اصرار کر رہا ہے کہ اگر غلط نکلی تو استعفا دے دوں گا، تب تو اس کی خبر لگانا چاہیے۔ خبر تو لگ گئی، اگلے روز وہ درست بھی نکلی مگر وہ لیڈ لگتی تو زیادہ امپیکٹ بنتا۔
خیر بعد میں کلاسرا صاحب نے ٹی وی کی طرف زیادہ توجہ دی، پہلے دنیا میں صبح کا ایک پروگرام کیا، اے آر وائی گئے وہاں پر پروگرام کیا، پھر نائنٹی ٹو نیوز جوائن کر لیا، ان کا عامر متین کے ساتھ پروگرام شروع ہوا۔ اس ٹی وی پروگرام نے انہیں بطور اینکر اسٹیبلش کرا دیا۔ اس کے بعد ان کا سفر جاری رہا۔ نائنٹی ٹو نیوز سے آپ چینل اور پھر جی ٹی وی، نیو وغیرہ میں۔ آج کل وہ نیو ٹی وی میں پروگرام کر رہے ہیں۔ اب تو خیر ان کا اپنا فیس بک پیج بھی خاصا معرؤف ہوچکا۔
اس طویل صحافتی کیرئر میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ رؤف کلاسرا نے کسی حکمران سے فائدے لئے ہوں۔ پیسے پکڑے ہوں یا ان پر تنقید نہ کی ہو۔ ہر حکومت کے سکینڈلز انہوں نے بے نقاب کئے۔ میں اس لئے یہ بات جانتا ہوں کہ روزنامہ دنیا میں پانچ سال رہا۔ نائنٹی ٹو نیوز میں بھی سات سال رہا۔ دنیا اخبار کی ہر روز شام پانچ بجے ایڈیٹوریل میٹنگ ہوتی تھی جس میں ڈائریکٹر مارکیٹنگ بھی ہوتے تھے۔ ہر روز ہی ان کا یہ شکوہ ہوتا کہ کلاسرا صاحب کی رپورٹنگ سے کلائنٹس ناراض رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ کہتے کہ میں سی ڈی اے کا اشتہار لینے کے لئے رابطہ کروں تو وہ کہتے ہیں کہ دو دن پہلے ہی تو کلاسرا صاحب نے ہمارے خلاف خبر لگائی ہے اب آپ اشتہار مانگ رہے ہیں۔ یہی شکوہ ان کے بقول نیشنل بنک والے، دیگر سرکاری محکمے کرتے۔ کم وبیش یہی معاملات دیگر میڈیا ہاوسز میں بھی کلاسرا صاحب کے ساتھ رہے۔ نیب والے خفا رہتے، سرکاری محکمے، مختلف وزارتیں کلاسرا صاحب کی رپورٹنگ، ان کے کالموں سے ناراض، شاکی رہتے۔
میری آدھی سے زیادہ زندگی صحافت اور صحافیوں میں گزری ہے۔ میں جانتا ہوں کہ رؤف کلاسرا جیسے صحافی چند ایک ہی ہیں۔ اکا دکا، شائد ایک ہاتھ کی انگلیوں پر بھی پورے نہ آ سکیں۔ باقی جگہوں پر بیشتر صحافی انہی سرکاری محکموں کو خوش کرتے اور بہت سے مفادات اٹھاتے ہیں۔
مجھے حیرت ہوتی ہے جب تحریک انصاف والے رؤف کلاسرا کے خلاف کمپین چلاتے ہیں، نفرت انگیز پوسٹیں لگاتے، تضحیک آمیز کمنٹس کرتے ہیں۔ یہ زیادتی ہے۔ انہیں نجانے کس بات کا غصہ ہے۔
ایک بات تو واضح ہے کہ رؤف کلاسرا نے کبھی کسی سیاسی جماعت کی اس طرح سائیڈ نہیں لی۔ وہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ حکومتوں کے شدید ناقد رہے، ان کے بے شمار سکینڈلز بے نقاب کئے۔ تحریک انصاف اور عمران خان کے بھی وہ دور اقتدار میں ناقد رہے۔ خان صاحب نے وزیراعظم بننے کے بعد انہیں پہلی بار بلایا اور پھر ان سے فاصلہ رکھا۔ رؤف کلاسرا نے کبھی کسی حکومت میں کوئی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ جب وہ بیروز گار ہوئے اور ایسے وقفے کئی بار آئے تو وہ ہربار نہایت آسانی سے پی ٹی وی میں اچھے تگڑے کانٹریکٹ پر پروگرام لے سکتے تھے، ایسا مگر نہیں کیا۔ کسی نگران حکومت میں وہ شامل نہیں ہوئے، ورنہ وہ آسانی سے پچھلے چند برسوں میں ایسا کر سکتے تھے، وزارت لے سکتے تھے۔ یہ کیا معمولی بات ہے؟ رؤف کلاسرا بے شک بہت جارحانہ انداز میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ جرنلزم نہیں کرتے ہوں گے، مگر وہ کبھی پرو اسٹیبلشمنٹ نہیں رہے۔ ایک دن کے لئے بھی نہیں۔ جو اسٹیبلشمنٹ کا معرؤف بیانیہ ہے، اسے بھی انہوں نے اپنی تحریروں، پروگراموں کے ذریعے آگے نہیں پھیلایا۔
رؤف کلاسرا صاحب کی تحریروں، ان کے پروگرام، آرا سے کسی کو بھی اختلاف ہوسکتا ہے۔ ان کا اپنا ایک خاص سٹائل ہے، وہ ایک پرؤفیشنل انداز میں معاملات چلاتے ہیں، خود پارٹی نہیں بنتے اور بچ بچا کر کام کرتے ہیں جیسا کہ ہر وہ صحافی کرتا ہے جس نے بڑے میڈیا ہاوسز میں کام کیا ہو اور جس کی تربیت ہو کہ وہ بات نہیں کہنی یا نہیں کرنی جس کا ثبوت نہ دیا جا سکے۔ ویسے پچھلے دو ڈھائی برسوں میں ریاستی جبر اس قدر زیادہ رہا کہ اپنا سروائیول بھی کرنا آسان نہیں رہا۔ ایسے میں کسی بھی ذمہ دار منصب پر بیٹھے سینئر صحافی کے لئے بچ بچا کر احتیاط اور سلیقے سے کام کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ پاکستان میں رہ کر جرنلزم کرنا ہے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں جانا تو پھر کچھ سنبھل کر، احتیاط ہی سے کام کرنا پڑے گا۔ یہ سامنے کی بات ہے۔ اس کو آخر کیوں نہیں سمجھا جاتا؟
بڑے صحافیوں کے لئے زیادہ مشکل ہے کہ ان کا کہا ہر جملہ مانیٹر ہوتا ہے اور اس پر کارروائی بھی ہوجاتی۔ جرنلزم کرنا اب بہت مشکل ہوچکا ہے۔ اس کا اندازہ کسی عام شخص کو نہیں ہوسکتا، جسے اس کی گلی میں بھی کوئی نہیں جانتا۔
سمجھنا چاہیے کہ وہ صحافی جو عمران خان کا فین نہ رہا ہوں، اس کے دور اقتدار میں بھی کئی چیزوں کا ناقد رہا ہو، تو وہ غیر مشروط حمایت کیسے دے سکتا ہے۔ ایک پولیٹیکل ورکر اور ایک آزاد صحافی میں واضح فرق ہوتا ہے۔ افسوس یہ بات انصافین نہیں سمجھ پارہے۔
بات کہنے کے کئی طریقے ہیں، بہت کچھ بین السطور کہا جاتا ہے۔ ہر دور کی صحافت میں بڑے بڑے نامور صحافی ایسا کرتے رہے ہیں۔ آج البتہ تحریک انصاف کے حامیوں کا تقاضا ہے کہ نہیں بین السطور نہیں بلکہ ڈنڈہ اور کلہاڑا چلاتے ہوئے صحافت کی جائے۔ تو بھائی کرو لو ناں آپ، کس نے روک رکھا ہے؟
انصافین کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ عمران خان پر کسی نے زرا بھی تنقید کی تو یہ جنونی جتھوں اور دیوانے زومبیز کی طرح اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اسے اتنا ٹرول کرتے ہیں، اتنی گالیاں دیتے ہیں، اتنی تذلیل کی کوشش کرتے ہیں کہ اگلا قسم کھانے پر مجبور ہوجائے کہ زندگی بھر تمہارے خلاف ہی بات کہنی ہے۔ (سچی بات ہے کہ میرے جیسے لوگ تحریک انصاف کے حق میں جو تھوڑی بہت بات کر لیتے ہیں، یہ صرف اپنے اصول اور ضمیر کی وجہ سے کرتے ہیں، ورنہ تحریک انصاف کے بیشتر حامیوں کا رویہ اتنا برا، غلط اور زیادتی پر مبنی ہے کہ ہر بار یہی دل چاہتا ہے کہ آئندہ کے لئے ہمیشہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف لکھنے اور بات کرنے کی قسم اٹھا لوں۔ پھر یہی خیال آتا ہے کہ ان بے وقوف حامیوں اور جنونی کارکنوں کی وجہ سے اس پارٹی اور اس کے قائد کے خلاف کیوں ہوا جائے؟ پھر یہی طے کرتے ہیں کہ ایشو ٹو ایشو رائے دی جائے، ٹھیک کام پر سپورٹ اور غلط پر تنقید۔)
تحریک انصاف والوں سے سافٹ سپورٹ بردشت نہیں ہوتی۔ ان کے خیال میں صرف شہباز گل، شہزاد اکبر، عادل راجہ ٹائپ لوگ ہی صحافی ہیں اور حق بیان کر رہے ہیں۔ جو آدمی ویسے لب ولہجہ میں بات نہیں کرتا، وہ غدار ہے، پالشی ہے، اسٹیبلشمنٹ کا ٹاوٹ ہے وغیرہ وغیرہ۔ جب ایسی بے عقلی، عدم برداشت اور جنونی پن دکھایا جائے گا تو پھر وہی حال ہوگا جو اس وقت تحریک انصاف اور اس کے قائد اور رہنمائوں کا ہوا پڑا ہے۔
میرے نزدیک رؤف کلاسرا سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر اس کی دیانت پر شک نہیں ہوسکتا، اس کا دامن صاف، کردار شفاف اور کیرئر بے داغ ہے۔ کرپشن یا کسی بھی قسم کے مفاد لینے کے حوالے سے۔ باقی وہ انسان ہے، خامیاں، خوبیاں اس میں بھی موجود ہیں۔ آرا کا فرق تو ویسے بھی ہر ایک کا حق ہے۔ آپ کو کوئی مجبور نہیں کر رہا کہ آپ رؤف کلاسرا کو یا کسی کو بھی حق سچ کا پیکر مان لو۔ بے شک ایسا نہ کرو، اختلاف رکھو، ناپسند بھی کرنا چاہتے ہو تو کرو۔ تذلیل کرنے کا مگر کسی کو حق نہیں۔ اختلاف میں گالیان دینے، تضحیک کرنے کا بھی کسی کو حق نہیں۔ جو ایسا کرتے ہیں وہ سخت زیادتی اور ظلم کر رہے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے ہر ظلم، زیادتی، ایسی ہر ناانصافی کا انہیں روزآخرت جواب دینا پڑے گا۔

