Friday, 16 January 2026
  1.  Home
  2. Amir Khakwani
  3. Dehshat Gardon Ke Khilaf Operation, Riyasat Ko Kya Karna Chahiye?

Dehshat Gardon Ke Khilaf Operation, Riyasat Ko Kya Karna Chahiye?

دہشت گردوں کے خلاف آپریشن، ریاست کو کیا کرنا چاہیے؟

سوال ایک ہی ہے کہ کیا دہشت گرد قوتوں کے خلاف آپریشن ہونا چاہیے یا پھر سکیورٹی ادارے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں؟ اس کا جواب آسان ہی ہے۔ ہمارے پڑوس میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے بعد تو فیصلہ کرنا مشکل نہیں رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے جو حالات بن چکے ہیں، جس طرح دہشت گردقوتیں ہم پر حملہ آور ہیں اور اگر ان کا مناسب اور بروقت سدباب نہ کیا گیا تو کم وبیش وہی نقشہ مستقبل میں ابھر سکتا ہے جو ہم نے ایران کے بعض شہروں میں دیکھا۔

بی بی سی اردو پر ایک تازہ رپورٹ دیکھی جس میں انہوں نے ایران سے واپس آنے والے پاکستانیوں سے بات چیت کی۔ ان سب کا یہ کہنا تھا کہ یہ مظاہرے تعداد کے اعتبار سے تو اتنے زیادہ نہیں، مگر ان میں خوفناک قسم کی شدت اور سخت دلی موجود تھی۔ اس رپورٹ میں ایک اہم بات کی نشاندہی کی گئی جو کہ ایک عینی شائد نے بتائی۔ اس نے بتایا کہ مظاہرین کے پاس ایم فور رائفلیں تھی اور وہ واکی ٹاکی پر بات کررہے تھے، یہ لوگ ایرانی موبائل نیٹ ورک استعمال نہیں کر رہے تھے۔ یہی رائفلیں فائرنگ کے لئے استعمال ہوتی رہیں۔ ان سب لوگوں نے اپنے چہرے رومالوں سے ڈھانپے ہوئے تھے۔

صرف اس ایک رپورٹ کاتجزیہ کرکے سمجھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ان عوامی مظاہروں کو غیر ملکی ایجنٹوں، دہشت گردوں نے ہائی جیک کیا، ورنہ عام شہریوں کے پاس کیسے یہ رائفلیں آ گئیں، سیٹلائٹ فونز آ گئے؟ یاد رہے کہ یہ پاکستانی قبائلی علاقوں کی نہیں، ایران کی بات ہو رہی ہے جہاں طویل عرصے سے اسلحہ رکھنا سختی سے منع ہے، فوری گرفتاری ہوجاتی ہے۔

دراصل یہی ففتھ جنریشن وار فیئر ہے۔ پہلے سوشل میڈیا، ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے غلط خبریں پھیلائو۔ افراتفری، ایجی ٹیشن اور ہنگامہ آرائی ہو، لوگ باہر سڑکوں پرنکلیں اور پھر عوامی مظاہرے کو ہائی جیک کر کیاس میں تشدد، توڑ پھوڑ اور خون خرابے کا عنصر شامل کر دو۔

یہ سب کچھ کسی نہ کسی حد تک ہم پختون خوا کے بعض علاقوں میں دیکھتے رہے ہیں۔ منظور پشتین کی پی ٹی ایم سے وابستہ کچھ لوگ دانستہ یا نادانستہ استعمال ہوتے رہے۔ یہ لوگ ریاست اور ریاستی اداروں کیخلاف غلط، منفی پروپیگنڈہ کرتے رہے، شرپسندانہ نعرے تخلیق کرکے عوامی جذبات بھڑکاتے رہے۔ یہ تو الحمدللہ انہیں عوامی پزیرائی کبھی حاصل نہیں ہوئی۔ آج کل بعض دیگر سیاسی عناصر بھی اپنا سیاسی غصہ، تلخی اور فرسٹریشن اس طریقے سے نکال رہے ہیں۔ یہ سب غلط ہے کیونکہ اس سے دہشت گرد گروپوں کو سپورٹ فراہم ہوتی ہے۔

اگلے روز میرے پاس کسی نے ایک تحریر بھیجی، جسے مختلف فیس بک گروپوں اور واٹس گروپوں کے ساتھ ٹوئٹر ایکس کے اکاونٹس سے بھی پھیلایا جا رہا تھا۔ اس میں یہ مقدمہ پیش کیا گیا کہ وادی تیراہ میں اگر آپریشن کیا گیا تو یہ انسانی حقوق کے قواعد، ضوابط، قوانین کے خلاف ہوگا۔ یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ یہ پشتون دشمنی ہے، پشتونوں پر ظلم ہے، مقامی آبادی کو ڈس پلیس ہونا پڑے گا، وغیرہ وغیرہ۔

ہمارے خیال میں معاملہ بڑا صاف اور سادہ ہے۔ وادی تیراہ ہو یا کسی اور جگہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن، اس پورے ایشو کے تین حصے ہیں: ریاست کے لئے آئینی تقاضا کیا ہے؟ زمینی اور اصل حقائق کیاہیں؟ بیانئے کی جنگ کو کس خاص رخ پر موڑا جا رہا ہے؟

پہلی بات یہ ہے کہ ریاست کا اپنے شہریوں سے بنیادی وعدہ "تحفظِ حیات" ہوتا ہے۔ شہریوں کی جان ومال کا تحفظ۔ ریاست کا یہ فرض کسی سیاسی دباؤ یا بیانیے کے تحت معطل نہیں کیا جا سکتا۔ جب مسلح گروہ کسی علاقے میں اپنی رِٹ قائم کر لیں، تو ریاست کے پاس کارروائی کے سوا کوئی آئینی راستہ باقی نہیں رہتا۔ پاکستان کا دستور، بالخصوص آرٹیکل 9 اور 245، ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ شہریوں کو مسلح تشدد اور داخلی انتشار سے محفوظ رکھے۔

جب دہشت گرد گروہ وادی تیراہ یا ایسے کسی بھی دشوار گزار علاقوں کو ڈھال بنا کر حملوں کی منصوبہ بندی کریں، تو ریاست کے پاس خاموش رہنے کا آپشن ختم ہو جاتا ہے۔ عدم مداخلت کا مطلب آئینی ذمہ داری سے فرار ہوگا۔ انسانی حقوق کا قانون یہ نہیں کہتا کہ دہشت گرد شہری آبادی میں چھپ کر محفوظ ہو جائے۔ قانون یہ کہتا ہے کہ ریاست طاقت استعمال کرے تو ضرورت، تناسب اور ہدف واضح ہو۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر بھی اس بات کا پابند ہے کہ وہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرے اور ان کی نقل و حرکت پر پہرا بٹھائے۔

زمینی حقائق یہ ہے کہ ان علاقوں میں دہشت گردوں نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں، وہ اسیسیف ہیون بنانے پر تلے ہیں۔ ایسے میں تیراہ کے اصل متاثرین وہ پشتون خاندان ہیں جن کے سکولوں کو جلایا گیا، بزرگوں کو نشانہ بنایا گیا اور جن کی معیشت کو بھتہ خوری کے ذریعے تباہ کیا گیا۔ "فتنہ الخوارج" اور ٹی ٹی پی (TTP) نے برسوں تک اس علاقے کے سماجی ڈھانچے کو یرغمال بنائے رکھا۔ یہ دہشت گرد گروہ سویلین آبادی میں گھس کر انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس کا مقصد سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کو مشکل بنانا ہوتا ہے۔ تو زیادتی دہشت گردوں کی ہے، آپریشن کرنے والوں کی نہیں۔ نقل مکانی کو ریاستی ظلم بنا کر پیش کرنا ایک آسان مگر گمراہ کن بیانیہ ہے۔

پختون خوا میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو پشتون دشمنی قرار دینا پرلے درجے کی بدیانتی، ظلم اور نرا بے بنیاد پروپیگنڈہ ہے۔ درحقیقت یہ پشتونوں کی قربانیوں کی توہین ہے۔ پشتون سب سے زیادہ شہید بھی ہوئے، سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار بھی۔ اگر ریاست پشتون دشمن ہوتی تو سب سے آگے مورچوں پر پشتون سپاہی کیوں کھڑے ہوتے؟ پشتون دشمن تو وہ ہے جو پشتون بستیوں میں دہشت گرد لا کر بٹھائے، نہ کہ وہ جو انہیں نکالے۔ بار بار امن کے لئے مذاکرات کی رٹ لگانا بھی حقائق سے آنکھیں چرانا ہے۔ اگر مسلح دہشت گرد آپ کے علاقے میں موجود ہوں، جو غیر ملکی فنڈنگ لیتے ہوں، بیرون ملک سیان کی سپورٹ کی جا رہی ہو تو ان سے آپ کیا مذاکرات کر لیں گے؟ ویسے مذاکرات کتنی بار ہوچکے ہیں، ہر بار ناکام ہوئے، کیا ہم نہیں جانتے؟ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ امن مذاکرات سے نہیں، ریاستی رِٹ سے جنم لیتا ہے۔ جب تک مسلح گروہ موجود ہوں، بات چیت خواہش رہتی ہے، حل نہیں بنتی۔ دنیا کی کوئی ریاست پہلے امن نہیں دیتی، پہلے امن نافذ کرتی ہے۔

اصل انسانی حق یہ نہیں کہ بندوق اٹھانے والے محفوظ رہیں، بلکہ یہ ہے کہ عام شہری خوف کے بغیر جی سکیں۔ جو ریاست یہ ذمہ داری نبھاتی ہے، وہ جابر نہیں بلکہ اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کرتی ہے۔ یہ تیراہ میں ہو، وزیرستان یا باجوڑ میں یا کسی اور دہشت گردوں کے گڑھ میں، ہر جگہ آپریشن جائز اور درست تصورہوگا۔ ہمیں دہشت گردوں کے بجائے ہم سب کو دہشت گردی کا خاتمہ کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ یہی زمینی حقائق، یہی درست بیانیہ اور یہی ٹھیک طرزعمل ہے۔

Check Also

Tawajo Ka Baais Bana Ishrat Fatima Ka Pegham

By Nusrat Javed