Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Amir Khakwani
  3. Afghanistan Ke Halaway Se Yaksu Hone Ki Zaroorat

Afghanistan Ke Halaway Se Yaksu Hone Ki Zaroorat

افغانستان کے حوالے سے یکسو ہونے کی ضرورت ہے

دوسری جنگ عظیم میں اتحادی افواج کے ایک بڑے جرنیل منٹگمری کا ایک خوبصورت قول ہے کہ جنگ میں بہت کنفیوژن رہتا ہے، بہت سی چیزوں کا پتہ نہیں چل رہا ہوتا، مگر اسے وہی فریق جیتتا ہے جو یکسو اور فوکسڈ رہے جو اپنے کنفیوژن سے باہر آجائے۔

مجھے لگتا ہے کہ پاکستانیوں کو بھی سب سے زیادہ اسی بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم اس وقت دو تین اطراف سے پھنسے اور الجھے ہوئے ہیں۔ اسے بدقسمتی ہی کہیں کہ ہمارے مشرقی پڑوسی ہندوستان نے کبھی ہمارے وجود کو خوشدلی سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ ہمیشہ ہمارےاوپرجنگ مسلط رکھی، کبھی کھلی جنگ کی صورت میں تو کبھی پراکسی وار کے شکل میں محاز گرم رکھا۔

دوسری طرف مغربی پڑوسی افغانستان کو بھی خدا واسطے کا بیر رہا۔ یہ واحد ملک تھا جس نے پاکستان کو اقوام متحدہ کا رکن بنانے کی مخالفت کی۔ اس کے بعد بھی افغانستان میں حاکم خواہ ظاہر شاہ جیسا کمزور بادشاہ رہا، سردار داود جیسا بزعم خود انقلابی صدر یا پھر بعد میں کمیونسٹ سوویت یونین کے آلہ کار ترکئی، حفیظ اللہ امین، ببرک کارمل اور جنرل نجیب وغیرہ، ان سب نے پاکستان کے خلاف مسلسل ریشہ دوانی جاری رکھی۔ دہشت گردوں کو سپورٹ کئے رکھا۔

نوے کے عشرے میں ایک قلیل وقت ایسا رہا جب مغربی سرحد پرسکون رہی، مگر تب بھی جو وہاں حکمران تھے، پاکستان دوستی کے دعووں کے باوجود انہوں نے بھی ڈیورنڈ لائن پر کوئی حق اور انصاف کی بات نہیں کی اور اسے متنازع بنائے رکھنے کی کوشش کی۔ جبکہ اسی دور میں افغانستان میں پاکستان کی فرقہ ورانہ دہشت گرد تنظیموں کے اہم رہنمائوں ریاض بسرا وغیرہ کو نہ صرف پناہ دی گئی بلکہ فرقہ ورانہ قتل وغارت کرنے والے دہشت گردوں کو نجانے کس اصول کے تحت مجاہد بھی قرار دیا گیا۔

نائن الیون کے بعد تو پورا منظرنامہ بدل گیا۔ نیٹو فورسز افغانستان آ کر بیٹھ گئیں، انہوں نے پہلے حامد کرزئی اور پھر اشرف غنی کو اقتدار سونپا، ان کی مکمل سپورٹ، معاونت اور سرپرستی کی۔ بدقسمتی سے ان بیس برسوں میں افغان حکومتیں مکمل طور پر بھارت کے زیراثر بلکہ زیرقبضہ چلی گئیں۔ افغان خفیہ ایجنسی کو درحقیقت بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ہینڈلر ہی چلاتے رہے اور پاکستان ان کے لئے ایک ہدف بنا رہا۔

امریکہ کے اس ریجن سے جانے کے بعد افغان طالبان برسراقتدار آئے تو پاکستان میں بہت سے لوگوں کو یہ امید اور توقع تھی کہ یہ پاکستان کے ساتھ خوشگوار ہمسائیگی کا تعلق رکھیں گے۔ اس لئے بھی کہ دوہا معاہدے میں انہوں نے امریکہ اور دنیا بھر کو یہ یقین دلایا کہ وہ آئندہ افغان سرزمین کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

نہایت افسوسناک حقیقت یہ ہےکہ افغان طالبان کی موجودہ حکومت اور خاص کر ان کے امیر مولانا ہبت اللہ اخوندزادہ کا رویہ نہایت مایوس کن رہا ہے۔ انہوں نے نہ صرف دہشت گرد گروپوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی کھلی اجازت دی بلکہ قوی ثبوت موجود ہیں کہ وہ اب غیر سرکاری اور درپردہ نہیں بلکہ سرکاری سطح پر ان کی معاونت، سرپرستی اور مالی مدد تک دے رہے ہیں۔ نہتے عوام کو نشانہ بنانے والے اور سفاکی کے بدترین ریکارڈ بنانے والے ان خوارج (ٹی ٹی پی وغیرہ) کی یوں کھلی مدد کرنے کے لئے پرلےد رجے کی ڈھٹائی، بے حسی اور بے ضمیری درکار تھی۔ افسوس کہ خود کو امارات اسلامیہ کہنے والے کھلم کھلا ایسا کر رہے ہیں۔

پچھلے دنوں افغانستان میں ان کے علما کا ایک اجتماع ہوا، اس نے جو فتویٰ جاری دیا، اس میں دراصل دو نکات اہم ہیں جو افغانستان کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی کے حوالے سے تھے کہ اگر افغانستان میں کسی نے بھی کوئی حملہ کیا تو ہر افغان شہری پر مزاحمت فرض عین ہوجائے گی۔ یہ فرض عین کے الفاظ شائد پاکستانی میڈیا نے سرسری لئے۔ افغان طالبان میں چونکہ مولوی صاحبان زیادہ ہیں، اس لئےوہ ان الفاظ کی حساسیت اور اہمیت کو جانتےاور سمجھتے ہیں۔ انہوں نے دانستہ طور پر فرض عین کا فتویٰ جاری کرایا یعنی اب فقہی اعتبار سے کسی دوسرے فتوے کی ضرورت نہیں، دوبارہ کسی علما کے اجتماع کی بھی ضرورت نہیں۔ اس نام نہاد فتوے کی آخری دو شقوں میں دنیا کو دھوکہ دینے کیی خاطر برائے نام یہ الفاظ بھی ڈال دئیے گئے کہ کوئی افغان کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی نہ کرے، وغیرہ وغیرہ۔

درحقیقت افغان علما کا یہ فتویٰ افغان طالبان حکومت کی ایک سوچی سمجھی موو تھی، جس کا مقصد پورے ملک اور قوم کو یکسو کرنا تھا۔ ظاہر ہے اس وقت ان کی یہ یکسوئی پاکستان کے خلاف ہی ہے۔ دیگر ہمسایوں سے بھی ان کے تعلقات خراب ہی ہیں، مگر پاکستان کو انہوں نے دشمن نمبر ون قرار دیا ہوا ہے۔ اس کی اور تو کوئی وجہ نہیں۔ بس یہی ایک نکتہ سمجھ میں آتا ہے، باب العلم سیدنا علی کرم اللہ وجہ کا وہ مشہور قول کہ "جس پر احسان کیا، اس کےشر سے بچو۔ "

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان پر احسان کیا۔ امریکہ کے خلاف ان کی مزاحمت کے دو عشروں میں طالبان قیادت اور ان کے کمانڈروں کو درپردہ سپورٹ کیا۔ ان کے لوگوں کو پکڑے جانے سے بچایا، ورنہ ملا برادر دس سال پاکستان میں آرام سے رہنے کے بجائے گوانتاناموبے کے خوفناک زندان میں سڑتا رہتا۔ پاکستان ہی نے کوئٹہ شوریٰ اور حقانی نیٹ ورک کو کسی نہ کسی طرح انتہائی نوعیت کا امریکی دباو برداشت کرکے بچائے رکھا۔ طالبان کے زخمی جنگجو یہاں علاج کراتے رہے، ان کے بچے پاکستانی مدارس، سکولوں میں پڑھتے رہے۔ یہ لوگ اپنے گھروں میں اپنے اہل خانہ کےساتھ یہ وقت گزار پائے۔ یہ سب پاکستان کی درپردہ مدد اور سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ پاکستان نے ایسا کر دکھایا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سب کے بعد جب افغان طالبان افغانستان میں برسراقتدار آئے تو وہ پاکستان کے شکرگزار ہوتے۔ پاکستانی قوم اور ہمارے اداروں کے احسان مند رہتے کہ انہوں نے جانے کیسے جوکھم میں اپنی زندگیوں کو ڈال کر ہمیں بچایا اور یہ مزاحمتی تحریک ممکن بنائی۔ ایسا کرنے کے بجائے یہ افغان طالبان نجانے کس قسم کی نرگسیت کا شکار ہوکر الٹا پاکستانی قوم اور ریاست ہی کےدرپے ہوگئے۔

افغان طالبان حکومت، طالبان مولوی صاحب اور ان کے حامی تو پوری طرح یکسو اور فوکسڈ ہیں۔ پاکستان دشمنی ان کا واحد اور نمبر ون ایجنڈا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم پاکستانی آخر کیوں کنفیوژن کا شکار ہیں؟ ہمارے لوگ کیوں نہیں سمجھ پا رہے کہ افغان طالبان کا ایک چہرہ وہ تھا جب وہ مظلوم تھے، نیٹو کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے۔ تب وہ نرم میٹھی میٹھی باتیں کرتے اور سنہری الفاظ سے بُنے وعدے کیا کرتے۔ دوسرا چہرہ مگر وہ ہے جب وہ اقتدار میں آئے۔ یہ نہایت بے رحم، سفاک، بے لحاظ، بے دید اور شقی القلبی پر مبنی ہے۔ ہمیں اس چہرے کو پہچاننا چاہیے۔ یہی لمحہ موجود کی حقیقت ہے۔ یہی ہمارے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ہمارے علما کرام کو بھی اس حوالے سے یکسو ہونے کی ضرورت ہے۔ افسوس کہ ہمارے مولانا فضل الرحمن جیسے بڑے دینی سیاسی رہنما اور کئی جید علما بھی افغان جارحیت اور دہشت گردی کو کھل کر اعلانیہ مذمت کرنے کے بجائے نہایت کنفیوزڈ کمزور بیانیہ بنا رہے ہیں۔ ان میں نجانے کیوں اتنی اخلاقی جرات بھی نہیں کہ وہ کھل کر پاکستان کی بات کر سکیں۔ افغان طالبان حکومت کے ناروا اقدامات اور کھلی جارحیت کی غیر مشروط مذمت کریں۔

دینی طبقے سے البتہ ایک بڑی قدآور دینی شخصت اور عالم دین مفتی عبدالرحیم صاحب نے بڑی جرات اوردلیری سے یہ سب باتیں کی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ٹی ٹی پی کے خوارج بلکہ افغان طالبان کے خلاف بھی مضبوط، جامع اور اصولی بیانیہ تشکیل دیا ہے۔ وہ کھل کر پاکستان اور پاکستانیوں کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ مفتی عبدالرحیم صاحب کے افغانستان اور افغانوں پر بہت احسانات ہیں۔ ماضی میں کئی برس وہ افغانوں کی مدد ومعاونت کے لئے افغانستان میں مقیم رہے، اپنی کئی عیدیں وہاں گزاریں۔ آج مگر جب افغان طالبان غلط کر رہے ہیں، تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے ہیں تو مفتی عبدالرحیم صاحب اور ان کا عظیم الشان دینی مدرسہ جامعتہ الرشید پوری قوت اور اخلاقی جرات کے ساتھ حق کے ساتھ ہے۔ وہ جارحیت کرنے والے افغان طالبان کے خلاف اور پاکستانی بیانیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمارے دیگر علما، دینی مدارس، دینی سیاسی جماعتوں اور ان کے حامیوں کو بھی اب کنفیوژن سے نکل کر یکسو ہونا چاہیے۔ انہیں پہچاننا چاہیے کہ کون پاکستان کا دشمن ہے؟

یہ کلیریٹی کا دور ہے۔ صاف، واضح، غیر مبہم بیانیہ دینے کا وقت۔ ہر پاکستانی اپنا جائزہ لے اور واضح پوزیشن لے، حق کے ساتھ، باطل اور دہشت گردوں کے خلاف۔ اگر دیر ہوگئی تو یہ آگ ہم سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ کوئی گھر بھی تب محفوظ نہیں رہے گا۔

Check Also

Iqtisadi Mahireen Ke Afrat e Zar Mein Kami Ke Daway Aur Zameeni Haqaiq

By Nusrat Javed