Thursday, 14 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Ali Raza Ahmed
  3. Moonch Ka Baal

Moonch Ka Baal

مونچھ کا بال

لفظ وائرل بذات خود زیادہ پرانا نہیں ہے مگر اب یہ افواہ اور جھوٹ سے زیادہ تیزی سے پھیلنے میں سب کو پیچھے چھوڑ چکا ہے اور جھوٹ تو اس کے پاؤں جیسا بھی نہیں جس کے اپنے پاؤں بھی نہیں ہوتے۔ "Logy" کی طرح دوسری طرف دنیا میں جتنی تیزی سے ٹیکنالوجی، شوشیالوجی اور میتھالوجی تبدیل ہو رہی ہے محسوس ہوتا ہے کہ اب انہیں بھی پرانا ہونے میں دیر نہیں لگے گی اور وہ بھی عنقریب ڈی وائرل ہو چکے ہوں گے۔

آج کل صدرڈونلڈ ٹرمپ کی ہر پوسٹ اور خبر فوری وائرل ہو رہی ہے بلکہ ہر وہ خبر جس میں وہ مودی کو چھ سات بار نظروں سے گراتا ہے۔ مودی نے بھی اس کا "سنیاسی" حل نکال لیا ہے۔ پریزیڈنٹ ٹرمپ جب بھی پریس کانفرنس کے دوران سات طیاروں کے down ہونے کا ذکر کرتے ہیں مودی فوراً 7up پی کر دوبارہ بھارت کی ائیر فورس کو Up کرنے کوشش کرتا ہے اور پھر پوری بی جے پی ایک نئے Planeکے ذریعے فضائی "ہاضمے" کا شکار ہو جاتی ہے۔

ویسے ہر امریکی صدر ہر دور میں بڑا طاقتور ہوتا ہے بھلے وہ ریٹائرڈ ہو چیئر پر براجمان ہو یاویل چیئر پر۔ اسی طاقت کی وجہ سے امریکی صدور نے کانگریس سے من چاہا بل پاس کروانے کا ہمیشہ فائدہ اٹھایا سوائے بل کلنٹن کے جہاں پر اس کے اپنے خلاف "بل" آ گیا تھا۔ مگر جب سے ابراہام "Linkedin" کو پہلی بار"آن لائن" جاب ملی۔ اس وقت سے کسی امریکی صدر کو اندھیرے میں نہیں رکھا جا سکا کیونکہ ہر اچھی "ٹارچ" امریکہ ایجاد کرتا ہے اور وہ اس کی لائم لائیٹ سے مخالفین کو"ٹارچر"کرتا ہے۔ اسی لئے جارج Bush آج تک خود رُو بوٹی کی طرح ویسے ہی سرسبز ہے جیسے باروک اوبامہ سالاد کی "بار وکو لی" کی طرح ابھی تک مکمل Green..

امریکی عوام آگاہ ہیں ہر Bush میں کوئی نہ کوئی درنددہ چھپا ہوتا ہے جو وقت آنے پر ambush لگاتا ہے۔۔ بہرحال ہر امریکی صدر وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے پہلے اپنے تمام سیاہ و سپید کارنامے دھو دھلا کر جاتا ہے تبھی ان کے لئے خصوصی طور پر Washington" " شہر بسایا گیا ہے جو واشنگٹن نہیں "واشنگ ٹاؤن" ہے۔۔

یہ صدور منی لانڈرنگ شاید نہ کرتے ہوں لیکن Manual Laundring ضرور کرتے ہیں۔ تاریخی طور پر دو امریکی بڑے لاڈلے مانے گئے ہیں ان میں سے ایک "نکی" اور دوسرا "نکی سن" ویسے بھی عقل مند کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے لیکن امریکی صدور کے لئے ایک درمیانی انگلی کا بھی کافی مانا جاتا ہے۔۔ ایک فرانسیسی بچی اپنے باپ سے کہنے لگی جب میں بڑی ہوں گی تو میں بھی آپ کی طرح فرانس کی صدر بنوں گی۔ وہ پلٹ کر کہنے لگا۔ کیا تمہیں عقل نہیں۔۔ کیا تم واقعی پاگل ہو یا تمہارا دماغ چل گیا ہے؟ بچی کہنے لگی کیا صدر بننے کے لیے بس یہی صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں؟

فرانس کے صدر چارلس ڈیگال بھی ایک دلچسپ شخصیت تھے ایک دن میٹنگ میں کہنے لگے مجھے دو بیکار چیزوں کی کبھی سمجھ نہیں آئی ایک میرے جسم میں پروسٹیٹ گلینڈ دوسرا فرانس کے آئین میں صدر کا عہدہ اور دوخوبصورت چیزیں کبھی میرے کام نہیں آئیں ایک مور دوسرا للی کا پھول۔ نہ مور کا گوشت کھانے کے قابل نہ للی کاپھول کوٹ پر سجانے کے قابل۔ ہمیشہ بدصورت چیزیں ہی میر ے کام آئیں ہیں ایک میرا مالی اور دوسری میری گھروالی۔ ڈیگا ل پنیر کو پسند کرتے تھے بیوی نے ناشتے میں پنیر کھاتے ہوئے ان سے پوچھا آپ کسے زیادہ پسند کرتے ہیں مجھے، پنیر کو یا اپنے صدارتی عہدے کو۔ کہنے لگے ان میں سے جو پہلے ختم ہو جائے یقیناََ وہ پنیر ہی ہوتا۔

ایک دفعہ مسز ڈیگال سے کھانے میں نمک زیادہ ڈل گیا تو اس سے کہنے لگے میں سارا نیدر لینڈ ہضم کر سکتا ہوں لیکن یہ "نوڈَلز" نہیں۔۔ پھر اس سے بڑی محبت سے کہنے لگے تم فرانس کے کسی موضع کا نام لو میں وہ فوری تمہارے نام کر دوں گا۔ وہ بھی مسکرا کر کہنے لگی: چھوڑیں ان قصبوں اور موضعوں کو آپ اپنے موزے میرے حوالے کریں آپ نے یہ بڑے دنوں سے پہن رکھے ہیں۔ اسی اثناء اپنی ملازمہ سے کہنے لگی صدر ڈیگال دنیا کو بدلنا چاہتے ہیں اور میں ان کے موزے۔۔ جرابوں سے یاد آیا صدر ٹرمپ بغیر مونچھوں کے ہیں مگر ہیں بڑے دل گردے والے اس لئے دل گردوں کے ڈیزائن والی جرابیں پہن کر دل گردے والے کہلاتے ہیں۔ وہ اپنی باتوں اور ان جرابوں سے ہی دنیا کو ڈرانے میں کامیاب رہتے ہیں بلکہ اب وہ بھارت کے لئے "ڈراؤنل" ٹرمپ بن چکے ہیں۔ اگر وہ ابراہام لنکن کی طرح بڑی مونچھیں رکھ لیں تو پھر نوبل پرائز کو ان سے بھی اونچا رکھیں گے۔

وہ واحد امریکی سیاست دان ہیں جو ہیلری کلنٹن کی شہرت سے ویسے ہی ہار تسلیم کیے بیٹھے تھے اور اس کے انڈر کام کرنے کو بھی تیار تھے۔ ایک دور میں بل کلنٹن اور ہیلری کلنٹن کی صلح بھی انہوں نے کرائی تھی کیونکہ "نہایت" صلح جو ہیں آج کل سانپ اور نیولے کی صلح میں دلچسپی لینی بھی شروع کی ہے کیونکہ سیاست ہی ایک ایسا آرٹ جس سے سانپ اورنیولے کی عارضی صلح ممکن ہے۔ آج کل پلاسٹک کے سانپ نیولے حاصل کرنے چین پہنچ چکے ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کو شکوہ ہے کہ مودی نے ان کے چار فون نہیں اٹھائے جبکہ مسک کا آئی فون فوری اٹھا لیا تھا اگر صدر ٹرمپ مونچھوں والے ہوتے تو پھر مودی ان کی مونچھ کا بال ہوتا۔۔

Check Also

Zinda Lashon Ki Basti Aur Pensioners Ki Khamosh Qabren

By Muhammad Anwar Bhatti