Thursday, 14 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Pakistan Mein Inqilab Kaise Aaye Ga?

Pakistan Mein Inqilab Kaise Aaye Ga?

پاکستان میں انقلاب کیسے آئے گا؟

پاکستان میں انقلاب کا لفظ سُنتے ہی ذہن میں سڑکوں پر نکلے ہوئے لوگ نعروں کی گونج اور طاقت کے ایوانوں سے ٹکراتی ہوئی آوازیں اُبھرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پاکستان انقلاب کے دہانے پر کھڑا ہے یا یہ صرف غصے اور محرومی کی ایک وقتی کیفیت ہے۔ انقلاب صرف حکومت گرانے کا نام نہیں، یہ ایک ایسے فکری اور سماجی تغیر کا نام ہے جو پورے معاشرے کی بنیادیں بدل دیتا ہے۔ فرانس، روس، بنگلہ دیش، ایران اور دیگر ملکوں میں آنے والے انقلابات محض مہنگائی یا بے روزگاری کی وجہ سے نہیں آئے بلکہ وہاں عوام کے اندر ایک اجتماعی شعور پیدا ہوا تھا جس نے ظلم کے نظام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

پاکستان میں آج مہنگائی عام آدمی کی سانس پر بوجھ بن چکی ہے۔ تنخواہیں ختم ہو جاتی ہیں مگر مہینہ ختم نہیں ہوتا۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے دربدر پھرتے ہیں۔ مزدور دن بھر محنت کرکے بھی بچوں کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔ کسان اپنی فصل کا جائز معاوضہ نہیں لیتا جبکہ سرمایہ دار کے محلات بنتے جارہے ہیں۔ ان حالات میں تاریخ بتاتی ہے کہ عوام کے اندر غصہ ضرور پیدا ہوتا ہے۔ بعض قومیں اس لیے ظلم سہتی رہتی ہیں کیونکہ ان کے اندر مزاحمت کی طاقت پیدا نہیں ہو پاتی۔

پاکستان میں عوام سڑکوں پر آتی ضرور ہے مگر جلد تھک جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ خوف ہے۔ ریاستی طاقت کا پورا ڈھانچہ بغاوت کو روکنے کے لیے موجود ہے۔ پولیس لاٹھی چلاتی ہے، گرفتاریاں ہوتی ہیں، مقدمے بنتے ہیں اور میڈیا کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ عدلیہ بعض اوقات طاقتور حلقوں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے جبکہ فوج ملک کے سب سے طاقتور ادارے کے طور پر ہر بحران میں اثر انداز ہوتی ہے۔ جب ریاستی ادارے متحد ہو کر احتجاج کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو عام آدمی کے لیے دیر تک مزاحمت کرنا آسان نہیں رہتا۔

پاکستانی سیاست بھی انقلاب کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ یہاں سیاسی جماعتیں عوام کو نظریات نہیں بلکہ شخصیات کے گرد جمع کرتی ہیں۔ ہر جماعت اقتدار میں آ کر انہی طاقتور طبقات کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے جن کے خلاف وہ اپوزیشن میں نعرے لگاتی ہے۔ عوام کو بار بار اُمید دی جاتی ہے مگر نتیجہ وہی رہتا ہے۔ اسی لیے لوگ سیاست سے بدظن ہوتے جا رہے ہیں۔ جب قوم کو کسی مخلص قیادت پر یقین نہ رہے تو انقلاب کا جذبہ کمزور پڑ جاتا ہے۔

پیسہ اس پورے کھیل کا سب سے اہم ہتھیار ہے۔ طاقت ہمیشہ سرمایہ کے گرد گھومتی ہے۔ پاکستان میں دولت چند خاندانوں اور طبقوں تک محدود ہے۔ امیر مزید امیر ہو رہا ہے جبکہ غریب کے حصے میں صرف صبر آتا ہے۔ سرمایہ دار میڈیا خریدتا ہے، سیاست خریدتا ہے، رائے عامہ خریدتا ہے۔ یہاں تک کہ لوگوں کی خاموشی بھی خرید لی جاتی ہے۔ ایک غریب آدمی انقلاب کے بارے میں سوچنے سے پہلے اپنے بچوں کی روٹی کے بارے میں سوچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی کمزوری عوام کو مزاحمت سے دور رکھتی ہے۔

تعلیم انقلاب کی سب سے بڑی بنیاد ہوتی ہے کیونکہ تعلیم انسان کو سوال کرنا سکھاتی ہے۔ جن قوموں میں شعور بیدار ہوتا ہے وہاں لوگ ظلم کو قسمت ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں تعلیم کا نظام طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف مہنگے انگلش میڈیم ادارے ہیں جہاں حکمران طبقے کے بچے پڑھتے ہیں جبکہ دوسری طرف سرکاری سکول ہیں جہاں بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں۔ جب قوم کے زیادہ تر افراد معیاری تعلیم سے محروم رہیں تو ان کے اندر اجتماعی شعور کیسے پیدا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اکثر جذباتی نعروں کے پیچھے چل پڑتے ہیں مگر دیرپا فکری تبدیلی پیدا نہیں ہو پاتی۔

دُنیا کے جن ملکوں میں انقلاب آیا وہاں صرف غربت نہیں تھی بلکہ اُمید بھی تھی۔ فرانس کی عوام نے بادشاہت کو اس لیے چیلنج کیا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہ ایک بہتر نظام قائم کر سکتے ہیں۔ روس میں مزدوروں اور کسانوں نے اس لیے بغاوت کی کیونکہ انہیں مساوات کا خواب دکھایا گیا۔ ایران میں مذہبی قیادت نے عوام کو متحد کیا، اسی طرح بنگلہ دیش میں نوجوانوں نے موروثی سیاست کو چلینج کیا۔ ہر انقلاب کے پیچھے ایک نظریہ، ایک قیادت اور ایک اجتماعی خواب موجود تھا۔ پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ قوم ابھی تک واضح منزل پر متفق نہیں۔ کوئی مذہبی نظام چاہتا ہے، کوئی لبرل جمہوریت اور کوئی فوجی نظم کو بہتر سمجھتا ہے۔ یہ تقسیم انقلاب کی طاقت کو کمزور کرتی ہے۔

مذہبی طبقے نے پاکستان میں بہت پیچیدہ کردار ادا کیا ہے۔ ایک طرف مذہب نے لوگوں کو ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے کا حوصلہ دیا اور دوسری طرف بعض مذہبی حلقوں نے عوام کو صبر اور خاموشی کی تلقین کی۔ حکمران طبقات نے تبرکاً مذہب کو اپنے حق میں استعمال کیا تاکہ لوگ سوال نہ کریں۔ جب غربت کو آزمائش اور ظلم کو تقدیر کہہ کر قبول کروایا جائے تو مزاحمت کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ تاریخ میں بہت سے انقلابات مذہبی جذبے سے ہی پیدا ہوئے۔ اس لیے مذہب بذات خود رکاوٹ نہیں بلکہ اس کی تعبیر کا درست نفاذ شکوک کا شکار ہے۔

پاکستان کا نوجوان اس وقت شدید ذہنی کشمکش کا شکار ہے۔ اس کے پاس خواب تو ہیں مگر راستے نہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر دُنیا دیکھتا ہے، ترقی یافتہ معاشروں کو دیکھتا ہے۔ نوجوان آزادی اظہار اور انصاف کو دیکھتا ہے مگر اپنے اِردگرد سفارش، بے روزگاری اور ناانصافی دیکھ کر مایوس ہو جاتا ہے۔ یہی نوجوان اگر اُمید کھو دے تو معاشرہ اندر سے مرنے لگتا ہے۔ یہی نوجوان شعور، علم اور تنظیم کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔

پاکستان میں انقلاب اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک عوام صرف چہروں کی تبدیلی کو انقلاب سمجھتے رہیں گے۔ حقیقی انقلاب ذہنوں میں آتا ہے۔ جب لوگ ذات، برادری، فرقہ اور وقتی مفاد سے اوپر اُٹھ کر اجتماعی بھلائی کے بارے میں سوچنا شروع کرتے ہیں تو معاشرہ بدلنے لگتا ہے۔ اگر قوم تعلیم، انصاف اور میرٹ کو اپنی ترجیح بنا لے تو طاقتور طبقات کا تسلط کمزور پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر انقلاب خونریزی نہیں ہوتا۔ کچھ قومیں شعور، ووٹ، علم اور مسلسل جدوجہد سے بھی نظام بدل دیتی ہیں۔ پاکستان کے لیے شاید یہی راستہ زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ کیونکہ پُرتشدد انقلاب اکثر نئے ظلم کو جنم دیتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ انقلاب کب آئے گا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی قوم اپنے اندر اتنی اخلاقی اور فکری طاقت پیدا کر پائے گی کہ وہ ایک بہتر نظام کی تعمیر کر سکے۔ اگر شعور پیدا ہوگیا تو تبدیلی کو کوئی طاقت زیادہ دیر نہیں روک سکے گی۔

Check Also

Firdous e Arzi Ka Saheefa e Jamal Gilgit Baltistan (2)

By Sher Azam