Zakham Kuredne Walay Log
زخم کریدنے والے لوگ

رسول اللہ ﷺ کے پاس جب کسی کے انتقال کی خبر آتی تو آپ ﷺ غم زدہ خاندان کے لیے آسانی کا حکم دیتے تھے۔ آپ ﷺ تعزیت کو بوجھ نہیں، سہارا بناتے تھے۔ چنانچہ جب حضرت جعفر طیارؓ کی شہادت کی خبر آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ ان پر ایسا غم آیا ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے"۔
یہ چند الفاظ صرف ایک حکم نہیں، پورا معاشرتی سبق ہیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی غم زدہ انسان کے پاس جائیں تو اس کے دکھ کو کم کریں، اس کے لیے آسانی پیدا کریں، اس کے دل کو سہارا دیں، اسے صبر اور دعا دیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر اس کے برعکس ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں جب کسی گھر میں موت ہوتی ہے تو تعزیت کے لیے آنے والوں کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ لوگ آتے ہیں، بیٹھتے ہیں اور پھر سوالات شروع ہو جاتے ہیں۔
"کیا ہوا تھا؟"، "کیسے انتقال ہوا؟"، "آخری وقت میں کون پاس تھا؟"، "کچھ کہا تھا انہوں نے؟"، "ہسپتال پہنچ گئے تھے؟"
اور پھر یہی سوال ہر آنے والا دہراتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سوگوار خاندان تعزیت نہیں بلکہ کسی اذیت ناک انٹرویو سے گزر رہا ہو۔
میں ہمیشہ سوچتا ہوں کہ ہم لوگ غم کے آداب کیوں بھول جاتے ہیں؟ ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ جس شخص سے ہم یہ سوالات کر رہے ہیں وہ ابھی ابھی قیامت سے گزرا ہے۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ابھی اپنے پیارے کے آخری لمحے زندہ ہیں۔ وہ ہر رات اسی منظر کے ساتھ سوتا ہے اور ہر صبح اسی صدمے کے ساتھ اٹھتا ہے، لیکن ہم اسے سینکڑوں بار وہی لمحہ دہرانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
چند دن پہلے میں نے یہ اذیت بہت قریب سے دیکھی۔ میری بہت عزیز نمرہ ملک صاحبہ، شاعرہ، کالم نگار اور مصنفہ ہیں۔ ان کے بڑے بھائی حاجی خلیل الرحمٰن انتقال کر گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ نمرہ اپنے بھائی کے آخری وقت میں ان کے ساتھ تھیں۔ آپ ذرا تصور کیجیے، ایک بہن جس کے ہاتھوں میں اس کے جوان بھائی کی سانس ٹوٹ جائے، اس لمحے پر قیامت گزر جاتی ہے۔ لیکن ہماری سوسائٹی اس بہن کو جینے نہیں دیتی۔ ہر آنے والا اسی لمحے کی تفصیل مانگتا ہے۔
"پھر کیا ہوا تھا؟"، "انہوں نے آخری وقت میں کیا کہا؟"، "تم پاس تھیں؟"
اور وہ بہن ہر بار اپنے بھائی کی موت دوبارہ مرتی ہے۔
ہم شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہمدردی کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں ہم زخم کرید رہے ہوتے ہیں۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ جس گھر میں جوان بیٹا فوت ہو جائے وہاں سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک بوڑھا باپ جب اپنے جوان بیٹے کو قبر میں اتارتا ہے تو اس کے بعد اس کی آنکھوں کی روشنی صرف آنکھوں سے نہیں، روح سے بھی چلی جاتی ہے۔ ایک ماں کے لیے جوان بیٹے کی موت دنیا کا سب سے بڑا دکھ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیمؓ کی وفات پر فرمایا تھا: "آنکھیں آنسو بہاتی ہیں، دل غمگین ہے لیکن ہم وہی کہیں گے جس سے اللہ راضی ہو"۔
یہی اسلام کا مزاج ہے۔ غم کو سمجھنا، دل جوئی کرنا، صبر کی تلقین کرنا، نہ کہ اذیت دینا۔ لیکن ہمارے ہاں تعزیت بھی ایک سماجی رسم بن چکی ہے۔ لوگ آتے ہیں، بیٹھتے ہیں، چائے پیتے ہیں، پھر تجزیے شروع ہو جاتے ہیں۔
"بیماری کا تو سنا نہیں تھا" بیمار تھے تو بتایا ہی نہیں کسی کو "اصل بات کچھ اور ہے"، "وچ والی گل پتا نئیں کی اے"، یہ جملے صرف جملے نہیں ہوتے، یہ سوگوار خاندان کے سینے میں اترتے خنجر ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: "اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو، وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں"۔
سوچیے! اللہ تعالیٰ نے مصیبت زدہ انسان کے لیے "بشارت" کا لفظ استعمال کیا لیکن ہم اس کے لیے آسانی بننے کے بجائے اس کا امتحان مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ جب کسی غم زدہ شخص کے پاس جاتے تو مختصر، نرم اور تسلی دینے والے الفاظ فرماتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جو کسی مصیبت زدہ کو تسلی دے، اسے بھی اتنا ہی اجر ملتا ہے"۔
لیکن تسلی کیا ہے؟
تسلی سوالات نہیں ہوتی۔ تسلی تفتیش نہیں ہوتی۔ تسلی افواہیں نہیں ہوتیں۔ تسلی خاموش ساتھ ہوتی ہے۔ کندھے پر ہاتھ ہوتا ہے۔ ایک دعا ہوتی ہے۔ یہ کہنا ہوتا ہے: "ہم آپ کے ساتھ ہیں"۔
مجھے کبھی کبھی لگتا ہے ہم نے دکھ کو بھی تماشا بنا لیا ہے۔ خاص طور پر خواتین کی محفلوں میں تعزیت کم اور گفتگو زیادہ ہوتی ہے۔ ایک دوسرے سے سرگوشیاں، اندازے، قیاس آرائیاں، گھریلو کہانیاں اور بیچ میں وہ ماں بیٹھی ہوتی ہے جس کی دنیا اجڑ چکی ہوتی ہے۔
آپ کسی بھی سوگوار انسان سے پوچھ لیجیے، اسے سب سے زیادہ تکلیف کس چیز سے ہوتی ہے؟ وہ آپ کو بتائے گا، "لوگ مجھے رونے بھی نہیں دیتے، بار بار وہی لمحہ دہرانے پر مجبور کرتے ہیں"۔
نفسیات کہتی ہے کہ کسی بڑے سانحے کے بعد انسان کا ذہن صدمے میں ہوتا ہے۔ وہ ایک ہی منظر سے نکل نہیں پاتا۔ ایسے میں اگر بار بار اسی واقعے کو دہرانے پر مجبور کیا جائے تو صدمہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ یعنی ہم تعزیت کے نام پر اس انسان کے ذہنی زخموں کو اور بڑھا رہے ہوتے ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر سوال ضروری نہیں ہوتا۔ اگر موت کی وجہ معلوم بھی نہ ہو تو کیا فرق پڑتا ہے؟ اگر آخری الفاظ نہ بھی پتا چلیں تو کیا نقصان ہو جائے گا؟ اگر کسی نے آخری سانس اپنی بہن کی گود میں لی تو کیا ضروری ہے کہ وہ بہن ہر آنے والے کو یہ منظر سنائے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے"۔
کاش ہم تعزیت کے موقع پر اس حدیث کو یاد رکھیں۔
کسی کے گھر فوتگی ہو جائے تو وہاں جا کر کم بولیے۔ مختصر تعزیت کیجیے۔ دعا کیجیے۔ اگر ممکن ہو تو ان کے کام میں ہاتھ بٹائیے۔ کھانے کا انتظام کر دیجیے۔ بچوں کو سنبھال لیجیے۔ بوڑھے باپ کو پانی پلا دیجیے۔ خاموشی سے ان کے ساتھ بیٹھ جائیے۔ یہ سب سوال پوچھنے سے کہیں زیادہ بڑی نیکی ہے۔
ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم مرہم کی جگہ نمک چھڑکتے ہیں۔
اور پھر ایک ظلم ہم اور کرتے ہیں۔ ہم صبر کا مطلب غلط سمجھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سوگوار شخص فوراً نارمل ہو جائے۔ اگر وہ روئے تو کہتے ہیں "صبر کریں"، اگر خاموش رہے تو کہتے ہیں "اتنا دل پر نہ لیں"، اگر بات نہ کرے تو کہتے ہیں "حوصلہ کریں"۔ حالانکہ صبر کا مطلب دکھ محسوس نہ کرنا نہیں ہوتا۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان ٹوٹنے کے باوجود اللہ سے شکوہ نہ کرے۔
کسی ماں کو اس کے جوان بیٹے کے غم میں رونے دیجیے۔ کسی بہن کو اپنے بھائی کی یاد میں خاموش رہنے دیجیے۔ کسی باپ کو اپنے درد کے ساتھ بیٹھنے دیجیے۔
انسان جب بہت بڑے غم سے گزرتا ہے تو اسے الفاظ نہیں، احساس چاہیے ہوتا ہے۔
ہمارا معاشرہ اس وقت تک مہذب نہیں ہو سکتا جب تک ہم دکھ کے آداب نہیں سیکھتے۔ تعزیت صرف مرنے والے کے لیے دعا کا نام نہیں، یہ زندہ بچ جانے والوں کے زخموں کا احترام بھی ہے۔
کاش ہم اگلی بار کسی تعزیت میں جائیں تو خود سے صرف ایک سوال پوچھ لیں "میں اس گھر کے غم کو کم کرنے جا رہا ہوں یا بڑھانے؟" اگر اس سوال کا جواب ہم نے سچائی سے دے دیا تو شاید ہمارے معاشرے کے بہت سے زخم بھرنا شروع ہو جائیں۔

