Wednesday, 03 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Uzma Noreen
  4. Gharelu Nachaki Ki Wajah Aurat Hai?

Gharelu Nachaki Ki Wajah Aurat Hai?

گھریلو ناچاقیوں کی وجہ عورت ہے؟

گھر انسانی تہذیب کی سب سے پہلی درسگاہ ہے جہاں کردار بنتے ہیں، رویے پروان چڑھتے ہیں اور نسلوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اسی گھر کی دیواریں محبت، اعتماد اور برداشت سے قائم رہتی ہیں۔ جب یہ عناصر کمزور پڑ جائیں تو رشتے بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے تنازعات میں بدل جاتی ہیں۔ آج کے دور میں گھریلو ناچاقیوں میں اضافہ ایک حقیقت ہے مگر اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے جذباتی نعرے بازی کی بجائے سنجیدہ تجزیے کی ضرورت ہے۔ یہ سوال کہ کیا گھریلو ناچاقیوں کی وجہ عورت ہے ایک پیچیدہ سماجی سوال ہے جس کا جواب سادہ ہاں یا ناں میں دینا ممکن نہیں۔

گھریلو نظام ایک فریق پر قائم نہیں ہوتا بلکہ یہ دو انسانوں کے باہمی تعلق سے وجود میں آتا ہے۔ جب اس تعلق میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ معاشی دباؤ، معاشرتی تبدیلیاں، ذہنی تناؤ اور بدلتے ہوئے نظریات سب مل کر خاندان کے اندر فاصلے پیدا کرتے ہیں۔ تاہم ہمارے ہاں اکثر الزام ایک ہی فریق پر ڈالنے کا رجحان پایا جاتا ہے اور وہ فریق عموماً عورت ہوتی ہے۔ یہ طرزِ فکر مسئلے کو حل کرنے کی بجائے مزید گہرا کر دیتا ہے۔

یہ تاثر کہ عورت گھر کو بنانے کی بجائے تباہ کر رہی ہے دراصل ایک عمومی جذباتی ردِعمل ہے جو بعض انفرادی تجربات سے اخذ کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی عورت پہلے سے زیادہ تعلیم یافتہ اور باشعور ہے۔ وہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں شمولیت چاہتی ہے اور خاموشی سے ہر بات تسلیم کرنے کی بجائے سوال اٹھاتی ہے۔ یہ تبدیلی کسی بگاڑ کی علامت نہیں بلکہ شعور کی علامت ہے۔ جب اس شعور کو سمجھنے کی بجائے اسے ضد یا بغاوت سمجھ لیا جائے تو تنازع جنم لیتا ہے۔

ماضی میں خاندان کا ڈھانچہ نسبتاً سخت تھا جہاں مرد کو حتمی اختیار حاصل تھا اور عورت سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ زیادہ تر خاموشی اختیار کرے۔ اس نظام میں وقتی طور پر نظم ضرور تھا مگر بہت سی خواہشات دب جاتی تھیں۔ آج جب عورت اپنی خواہشات اور حقوق کے بارے میں بات کرتی ہے تو اسے بعض لوگ گھر کے نظام کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہ سوچ اصل مسئلے کی غلط تعبیر ہے۔

گھریلو ناچاقیوں کی ایک بڑی وجہ باہمی برداشت کی کمی ہے۔ جب دو افراد ایک ساتھ زندگی گزارتے ہیں تو ان کے مزاج، عادات اور توقعات مختلف ہو سکتی ہیں۔ ہر اختلاف کو اَنا کا مسئلہ بنا لیا جائے تو رشتہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ پہلے خاندانوں میں بزرگوں کی موجودگی ایک توازن قائم رکھتی تھی مگر اب خاندانی نظام نسبتاً چھوٹا ہوگیا ہے جس کی وجہ سے براہ راست ٹکراؤ زیادہ ہوگیا ہے۔

یہ کہنا کہ عورت وفاداری سے دور اور لالچ کے قریب ہوگئی ہے ایک عمومی اور غیر منصفانہ تاثر ہے۔ وفاداری اور لالچ کسی ایک جنس کی خصوصیت نہیں بلکہ انسانی رویے ہیں جو حالات، تربیت اور ماحول سے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی طرح مرد بھی بدلتے ہوئے حالات میں مختلف دباؤ کا شکار ہے۔ مہنگائی، روزگار کی غیر یقینی صورتحال اور سماجی توقعات نے مرد کے کردار کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اصل مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب گھر ایک تعاون کا نظام رہنے کی بجائے طاقت کی کشمکش بن جاتا ہے۔ جب ہر فریق یہ سمجھنے لگے کہ وہ زیادہ قربانی دے رہا ہے اور دوسرا کم تو شکایات بڑھنے لگتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے بھی رشتوں میں غیر حقیقی توقعات پیدا کی ہیں۔ لوگ اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں کی مصنوعی خوشیوں سے کرنے لگے ہیں جس سے عدم اطمینان بڑھتا جارہا ہے۔

گھریلو زندگی میں بگاڑ کو صرف عورت کی طرف منسوب کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہے۔ اگر گھر کو بچانا ہے تو دونوں فریقوں کو اپنی ذمہ داری تسلیم کرنا ہوگی۔ مرد کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عورت اب محض حکم کی پابند نہیں بلکہ ایک سوچنے سمجھنے والی شخصیت ہے اور عورت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ رشتہ صرف حقوق لینے کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری نبھانے کا نام بھی ہے۔

گھر کے استحکام کے لیے سب سے ضروری چیز مکالمہ ہے۔ جب بات چیت ختم ہو جائے تو غلط فہمیاں جگہ لے لیتی ہیں۔ اسی طرح احترام اور برداشت وہ بنیادیں ہیں جن کے بغیر کوئی بھی رشتہ دیرپا نہیں رہ سکتا۔ اگر ہر مسئلے کو الزام کی نظر سے دیکھا جائے تو حل ممکن نہیں رہتا۔ لیکن اگر مسئلے کو مشترکہ چیلنج سمجھا جائے تو راستے نکل آتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ معاشرہ ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ پرانے خاندانی ڈھانچے اور نئے انفرادی شعور کے درمیان توازن قائم نہیں ہو پا رہا۔ اسی کشمکش نے گھریلو زندگی کو متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ جذباتی فیصلوں کی بجائے شعوری رویہ اختیار کیا جائے۔ عورت کو مکمل طور پر قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے اور نہ مرد کو بری الذمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

اگر خاندان کو بچانا ہے تو الزام تراشی کی بجائے سمجھنے کا رویہ اپنانا ہوگا۔ ہر فرد کو اپنی اصلاح بھی کرنی ہوگی اور دوسرے کو سمجھنے کی کوشش بھی کرنی ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو گھریلو ناچاقیوں کو کم کر سکتا ہے اور رشتوں کو دوبارہ مضبوط بنیادوں پر استوار کر سکتا ہے۔

Check Also

IMF Ke Rozmarra Zindagi Mazeed Dushwar Banane Ke Mashware

By Nusrat Javed