Sindh Ki Mehroomi: Sirf Karachi Ka Ghalba Ya Hukumran Ashrafia Ki Nakami?
سندھ کی محرومی: صرف کراچی کا غلبہ یا حکمران اشرافیہ کی ناکامی؟
سندھ برصغیر کی قدیم ترین تہذیبوں کا وارث اور پاکستان کی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے۔ کراچی کی بندرگاہ، صنعتیں، مالیاتی ادارے اور تجارتی سرگرمیاں نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی اقتصادی شہ رگ سمجھی جاتی ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کراچی کی ترقی پاکستان کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اتنی ہی اہم ہے کہ سندھ کے بیشتر دیہی اضلاع آج بھی غربت، بے روزگاری، خراب انفراسٹرکچر، ناقص تعلیم اور ناکافی صحت کی سہولیات کا شکار ہیں۔
یہ مؤقف درست ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد ریاستی وسائل، صنعتوں اور سرمایہ کاری کا بڑا حصہ کراچی میں مرتکز ہوتا چلا گیا۔ اس ارتکاز نے حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص، نواب شاہ اور تھرپارکر جیسے علاقوں کی ترقی کو محدود کیا۔ نوجوان روزگار اور بہتر زندگی کی تلاش میں مسلسل کراچی کی طرف ہجرت کرتے رہے، جبکہ اندرونِ سندھ معاشی مواقع سے محروم ہوتا گیا۔
لیکن اس پوری بحث میں ایک بنیادی سوال اکثر پس منظر میں چلا جاتا ہے: آخر اندرونِ سندھ کی ترقی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
سندھ پر کئی دہائیوں سے ایسی سیاسی جماعت کی حکومت رہی ہے جس کی قیادت زیادہ تر سندھی دیہی اشرافیہ سے تعلق رکھتی ہے۔ ان رہنماؤں میں وڈیرے، جاگیردار، بڑے زمیندار اور نسبتاً تعلیم یافتہ سیاسی خاندان شامل رہے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جس نے ہمیشہ سندھ کی شناخت، سندھی ثقافت اور صوبائی حقوق کی سیاست کی۔ اگر یہی قیادت سندھ کی اصل نمائندہ تھی تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے اندرونِ سندھ کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے سنجیدہ اور دیرپا اقدامات کیوں نہ کیے؟
اصل مسئلہ شاید صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ حکمرانی کے تصور کی خرابی ہے۔ سندھ میں سیاسی طاقت ایک محدود اشرافیہ کے ہاتھ میں مرتکز رہی، جس نے عوامی ترقی کے بجائے سیاسی وفاداریوں، برادری نظام اور انتخابی کنٹرول کو ترجیح دی۔ دیہی سندھ میں تعلیم کا کمزور نظام، سرکاری اسپتالوں کی بدحالی، ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور زرعی بحران محض حادثات نہیں بلکہ ایک مسلسل انتظامی ناکامی کا نتیجہ ہیں۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ اندرونِ سندھ کی پسماندگی بعض اوقات خود سیاسی طاقت کے تحفظ کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔ جب عوام تعلیم، روزگار اور شہری شعور سے محروم رہیں تو روایتی سیاسی ڈھانچے کو چیلنج کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کے کئی اضلاع دہائیوں سے ایک ہی سیاسی قیادت کے زیرِ اثر رہنے کے باوجود بنیادی تبدیلی نہیں دیکھ سکے۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تمام ذمہ داری صرف صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ وفاقی پالیسیوں، تاریخی عدم توازن، وسائل کی تقسیم اور مرکزیت نے بھی سندھ کے مسائل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مگر یہ دلیل اب مکمل نہیں سمجھی جا سکتی کہ اندرونِ سندھ کی تمام محرومیاں صرف کراچی کے غلبے یا وفاقی ناانصافی کا نتیجہ ہیں۔ اگر صوبائی خودمختاری، بجٹ، انتظامیہ اور سیاسی اختیار دہائیوں تک ایک ہی جماعت کے پاس رہا ہے تو عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ پھر نتائج کہاں ہیں؟
سندھ کا اصل مسئلہ شہری اور دیہی آبادی کے درمیان دشمنی پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا ترقیاتی ماڈل تشکیل دینا ہے جو پورے صوبے کو ساتھ لے کر چلے۔ کراچی کو مضبوط ہونا چاہیے کیونکہ وہ پاکستان کی معیشت کا مرکز ہے، مگر ساتھ ہی سکھر، حیدرآباد، میرپورخاص، لاڑکانہ اور تھرپارکر کو بھی جدید تعلیمی اداروں، اسپتالوں، صنعتی زونز اور روزگار کے مواقع ملنے چاہئیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ کی سیاست محض شناختی نعروں سے آگے بڑھے اور حقیقی گورننس، شفافیت اور علاقائی ترقی کو اپنی ترجیح بنائے۔ عوام اب صرف یہ سننا نہیں چاہتے کہ سندھ کے ساتھ زیادتی ہوئی، وہ یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ سندھ کے حکمرانوں نے سندھ کے لیے کیا کیا۔
ایک مضبوط سندھ وہی ہوگا جہاں کراچی اور اندرونِ سندھ ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی ترقی کے شریک ہوں۔ مگر یہ شراکت اسی وقت ممکن ہے جب صوبے کی سیاسی قیادت دیہی سندھ کی محرومی کو محض تقریروں کا موضوع بنانے کے بجائے عملی تبدیلی کا ایجنڈا بنائے۔

