Wednesday, 03 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sohail Bashir Manj
  4. Wohi Roshani, Wohi Musafir

Wohi Roshani, Wohi Musafir

وہی روش، وہی مسافر

برف پوش چوٹیوں کے سائے تلے آباد گلگت بلتستان کا سیاسی منظرنامہ اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں انتخابی بگل بجتے ہی تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے منشور اور دعووں کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہیں۔ ماضی قریب پر نظر دوڑائیں تو یہاں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم تھی جبکہ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی اس خطے کی باگ ڈور سنبھالنے کا موقع ملا ان تمام ادوار میں سڑکوں کے جال بچھانے، صحت و تعلیم کے چند منصوبوں اور انتظامی اصلاحات کے دعوے تو بہت کیے گئے مگر زمینی حقائق آج بھی عوامی محرومیوں کا نوحہ پڑھتے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ تعمیر و ترقی کے ترازو میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ادوار کو انفراسٹرکچر اور آئینی پیکج دینے کے حوالے سے قدرے نمایاں مانا جاتا ہے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے روایتی سیاسی نظام کی تمام تر خامیاں اس پاکیزہ خطے پر بھی بری طرح اثر انداز رہی ہیں۔

ہمارا سیاسی ڈھانچہ، اقربا پروری، کرپشن، جھوٹے وعدے اور سیاسی کارکنان نظریات کی بجائے محض وقتی مفادات اور وفاداریاں بدلنے کے عارضے میں مبتلا ہیں جہاں الیکشن تو باقاعدگی سے ہوتے ہیں مگر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر عوامی فلاح کے بجائے ذاتی تجوریاں بھرنے اور مقتدر حلقوں کو خوش رکھنے کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔ ووٹر کو محض ایک مہر تک محدود کر دینے والے اس فرسودہ انتخابی نظام اور مرکز کی اندھی تقلید نے گلگت بلتستان کے غیور عوام کو ان کے بنیادی آئینی حقوق اور حقیقی پائیدار ترقی سے محروم رکھا ہے جس کا ازالہ اب روایتی نعروں سے نہیں بلکہ ایک مخلص اور انقلابی قیادت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

جمہوریت کی بنیاد ہی اس اصول پر قائم ہے کہ ہر سیاسی فکر کو عوام کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرنے کی مکمل آزادی ہو مگر گلگت بلتستان کے انتخابی معرکے میں اپوزیشن رہنماؤں بالخصوص جنید اکبر اور اسد قیصر جیسے سینیئر سیاستدانوں کی گرفتاری یا قدغن اور پاکستان تحریک انصاف کے قائدین پر وادی کے راستے بند کرنا اس پاکیزہ جمہوری روایت کے چہرے پر ایک گہرا داغ ہے۔ اگر مقتدر حلقے اور موجودہ حکومتی جماعتیں اپنے تئیں بے پناہ ترقیاتی کاموں اور مثالی کارکردگی کے دعوے دار ہیں تو پھر میدانِ عمل میں کسی دوسرے کی موجودگی سے یہ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ کیا ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ عوام جب کسی کی پرفارمنس سے مطمئن ہوں تو وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے خود ہی سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔

سیاسی پنڈتوں کے یہ ہتھکنڈے دراصل اس تلخ سچائی پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ آج بھی عوامی شعور کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں اور اپوزیشن کو انتخابی مہم سے جبراً دور رکھنا ان کی اپنی سیاسی کمزوری کا کھلا اعتراف ہے۔ جب طرزِ حکومت اور انتقامی سیاست کا یہ بدترین تسلسل برقرار رہے تو عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ چہرے بدلنے سے نظام نہیں بدلتا اور ماضی میں اپوزیشن کو دبانے کا جو شکوہ موجودہ حکمران خود کیا کرتے تھے آج وہ خود اسی روش پر گامزن ہو کر اپنے اور اپنے حریفوں کے درمیان فرق مٹا چکے ہیں۔ اس پرتشدد اور یکطرفہ ماحول کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے کیونکہ کسی بھی خطے کے غیور عوام کو بند کمروں کے فیصلوں کے ذریعے ہانکنے کی کوشش ہمیشہ جمہوریت کو کمزور کرتی ہے اور انتخابی عمل کی شفافیت پر ایسے سوالات کھڑے کر دیتی ہے جن کا جواب تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔

سیاست کے اس بے رحم کھیل میں جب اصولوں کی قربانی دے کر اقتدار حاصل کیا جائے تو اخلاقیات کا جنازہ نکلنا ناگزیر ہو جاتا ہے اور آج کا سیاسی منظرنامہ اسی گندے نظام کا ایک بھیانک عکس ہے جمہوری اقدار کا بنیادی تقاضا تو یہ تھا کہ گلگت بلتستان کے پرامن انتخابات میں ہر جماعت کو آزادی کے ساتھ اپنا بیانیہ پیش کرنے کا حق ملتا مگر بدقسمتی سے یہاں تاریخ خود کو دہراتی نظر آ رہی ہے۔ سال دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں جس طرح نون لیگ کے رہنماؤں کو دباؤ کا نشانہ بنایا گیا وفاداریاں تبدیل کرائی گئیں اور طاقت کے زور پر ایک مخصوص لاڈلے کے لیے راستہ ہموار کیا گیا اگر وہ جبر اور ناانصافی تھی تو آج تحریک انصاف کے رہنماؤں کو سکردو جانے سے روکنا اور اسد قیصر جیسے سیاستدانوں کو پابندِ کرنا بھی اسی سیاہ تاریخ کا تسلسل ہے۔

موجودہ حکمران جو کبھی خود کو اس ریاستی جبر کا مظلوم کہتے تھے آج اقتدار کے نشے میں چور ہو کر اپنے ہی ماضی کے زخموں کو اپنے حریفوں کے سینے پر سجا رہے ہیں۔ جب انتقام کی آگ میں جل کر نون لیگ بھی اسی روش پر گامزن ہو جائے جو کبھی تحریک انصاف کا طرہ امتیاز تھی تو پھر ان دونوں کے طرزِ حکومت اور سوچ میں رتی برابر فرق باقی نہیں رہتا۔ یہ طرزِ عمل اس تلخ سچائی کو عیاں کرتا ہے کہ اس فرسودہ سیاسی نظام میں چہرے اور جھنڈے تو بدلتے ہیں مگر فسطائیت کی روح وہی رہتی ہے جہاں طاقتور ہمیشہ کمزور کو کچلنے کے لیے آئین اور قانون کا مذاق اڑاتا رہتا ہے۔

کسی بھی قوم کی بقا اور حقیقی مادی ترقی کا راز ایک ایسے مستحکم اور طاقتور جمہوری نظام میں پنہاں ہوتا ہے جہاں اصولوں کی حکمرانی اور میرٹ کو اولیت حاصل ہو۔ اگر ہم واقعی پاکستان کو خوشحالی اور سرفرازی کی راہوں پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں تو وقت کے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے نفرت اور سیاسی انتقام کی اس فرسودہ روش کو اب ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہوگا جہاں اپوزیشن کو دیوار سے لگانا ہی واحد کمال سمجھا جاتا ہے۔ جمہوریت کی خوبصورتی تو اس رواداری میں ہے کہ گلگت بلتستان ہو یا ملک کا کوئی بھی دوسرا حصہ تمام سیاسی قوتوں کو بلا خوف و خطر اور بغیر کسی بیرونی مداخلت کے اپنا انتخابی مقدمہ عوام کی عدالت میں پیش کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہو۔

مقتدر حلقوں کو یہ سنہری اصول یاد رکھنا ہوگا کہ اقتدار کوئی دائمی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے اور اگر انتخابی معرکے میں شکست مقدر بن جائے تو شرافت کے ساتھ اپوزیشن کے بینچوں پر بیٹھ کر تعمیراتی کردار ادا کرنا ہی اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔ جب تک ہماری سیاسی اقدار سے اشتعال انگیزی اور ذاتی عداوت کا خاتمہ نہیں ہوتا اور جب تک نظام میں ہر سطح پر کڑے میرٹ اور شفافیت کو رائج نہیں کیا جاتا تب تک ترقی کا ہر خواب ادھورا اور ہر دعویٰ بے بنیاد رہے گا۔ فتح پر عاجزی اور شکست پر باوقار پسپائی کا یہ کلچر ہی وہ واحد کلید ہے جو ملکی استحکام کی ضامن بن سکتی ہے کیونکہ جب عوام کی حقیقی صوابدید کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت وطنِ عزیز کو عروج کی بلندیوں تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔

Check Also

Mulazmat Behtar Ya Karobar

By Mohsin Khalid Mohsin