Cocaine Queen, Kala Dhanda, Hamara Banda Aur Sharam o Haya
کوکین کوئین، کالا دھندا ہمارا بندہ اور شرم و حیا

ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے بعض اداروں کے کچھ افسران و اہل کار اتنے "پتھر دل" ہو سکتے ہیں علم نہ تھا۔ کوکین کوئین پنکی کیس کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ایسے" نادیدے" (سادہ زبان میں) اب بھی موجود کہ جنہیں جلال کا خوف اور نہ جمال کی پرواہ اور نہ انہوں نے محترمہ کے اعلی ترین روابط کا لحاظ رکھا اور نہ کروفر کا۔ سخت دل بھی اتنے کہ دلنشیں ادائیں بھی موم نہ کر سکیں اور نہ شاندار مالی حیثیت آنکھوں کو خیرہ، قانون نافذ کرنے والے خفیہ اداروں کے ان افسروں و اہل کاروں کو نہ کراچی سے لاہور اور اسلام آباد تک ہزاروں تڑپنے، مچلنے والوں پر کوئی ترس آیا کہ کوکین کوئین جن کے لیے تسکین کا سامان کرتی۔
گرفتار کرنے والوں کو بیسیوں گھرانے بے روزگار کرنے پر ترس تک نہ آیا اور نہ ان پر کہ جو جان ہتھیلی پر رکھ کر قانون اور ناکوں سے بچ کر گھر گھر دوا پہنچا کر اپنی اور خاندان کی کفالت کرتے۔ درست کہا کسی نے ظالم زمانہ ہے بھلا کسی کو کیا پرواہ۔ دوران تحریر ہی ذہن میں آیا کہ۔۔
کون تڑپتا ہے کسی کے لیے
درد مند ہی ترستے ہیں دوا کے لیے
اب جاں بلب۔ آہ و بکا کرتے، دوا کو ترستے ہزاروں کی آہوں اور سسکیوں کا وبال گرفتار کرنے والے ایجنسی کے اہل کاروں کے سر، آپس کی بات کہ ان ظالموں کے لیےداد تو بنتی ہے!
مگر اگلا خیال دل کو پریشان کرتا ہے کہ چال ڈھال اور کروفر والی سیکنڑوں دلوں کی کوئین کو گرفتار کرنے والے اہل کاروں کے مستقبل کی ضمانت؟ کہ اس سے قبل ماڈل گرل ایان علی اور اس جیسے کئی ایک کیسسز میں گرفتاری کی گستاخی کرنے اور مصلحت اختیار نہ کرنے والوں کا انجام! اور اب وہ اپنے رب کے حضور گوشہ عافیت میں۔
کوکین کوئین کی وائرل گفتگو اور پراعتماد لہجہ سے ہی محترمہ کے "اثر و رسوخ" اور "تعلقات" کی نوعیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یقین جانیے کہ جب کوئین کی عدالت میں پیشی کا فلمی منظر آنکھوں سے گزرا ہے اس وقت سے طاقت پر یقین پختہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ مگر شاید آپ کا دقیانوسی ذہن قانون کی طاقت کی طرف چلا گیا ہوگا، ڈھنگ سے جنہیں دو وقت کی روٹی میسر نہ بجلی کے بلوں کی سکت۔ چار، 5 لیٹر پٹرول کی اوقات نہیں ایسے ہی پس ماندہ، غریب اور زمینی کیڑے مکوڑوں کو ہی سب سے زیادہ آئین، قانون کا دورہ پڑتا ہے۔ بھئی طاقت وہ جو نظر آئے۔
آپ نے کبھی کسی وڈیرے، سردار، جاگیردار قاتل، افیسر، سیاست دان امیر، منی لانڈرنگ کے ملزم، انتہا پسند، کسی شوگر، آئی پی پیز مافیا کے رکن، کسی بدعنوان کو گرفتاری کے وقت وکٹری کا نشان بناتے نہیں دیکھا۔ یہی تو طاقت ہے نادانو! اگر آپ کے پاس نہیں تو اس معاشرے میں رہنے کے لیے حاصل کریں بھلا کوئی سا بھی کاروبار کرکے اور دھندا۔ پنکی اور ڈالر گرل آپ کے لیے روشن مثالیں۔ ایسے طاقتور ملزمان ہشاش بشاش کورٹ کچہری میں پیش اور جیل میں انہیں شہد، زیتون کا تیل، انجیر، کشید انگور اور انار سبھی کچھ میسر۔ مگر پاکستانیوں کا المیہ یہ کہ یہ کسی کو سکھ میں نہیں دیکھ سکتے شاید اسی وجہ سے تو ہمارے کسی وزیر اعظم نے اہم قیدیوں سے اے سی، کولر اور ٹی وی کی سہولت واپس لینے کی جرات مندانہ بات کی تھی۔
خاتون پر الزام کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سب سے بڑی منشیات فروش اور سال ہا سال سے اس ریاست میں اس کاروبار سے وابستہ کہ جس ملک کا مردہ قانون اسے جرم قرار دیتا ہے اور اسکی سزا واضح۔ مگر اتنی طویل مدت وہ اسلامی ریاست میں یہ دھندہ کیسے چلاتی رہی؟ کس کس کا تعاون حاصل اور سرپرستی؟ یہ نام پہلے کبھی منظر عام پر آئے اور یہ راز اب بھی نہیں کھلے گا، نادانوں کیا SHO کی معطلی کافی نہیں؟
طاقتور اور پھر خاتون بھی ہو! تو اس کے سامنے قانون کی درگت ایسے بنتی ہے جیسے اقتدار میں آنے کے بعد ووٹرز کی۔ قانون نافذ کرنے والوں کو جو تہذیب اور شائستگی ہمارے علما، اساتذہ، ہمارے سائنس دانوں، دیانت دار تاجروں و سرکاری اہل کاروں، ملک کے وفادار جوانوں اور دیانت داری کے ساتھ رزق حلال کمانے اور ٹیکس ادا کرنے والوں کو دکھانا چاہیے تھی وہ ہمارے معاشرے کے لٹیروں، بددیانتوں، بدکرداروں، منشیات فروشوں اور مجرموں کے لیے!
ملزمہ کی ادائے دلربا نے یہ واضح کر دیا کہ اس ملک میں طاقتور اور بااثر ملزمان کو آئین اور قانون کا مذاق اڑانے کی اجازت ہے اس سے آگے تو توہین! گرفتاری کے بعد بھی ہتھکڑی نہ لگنے کا استحقاق بھی اور عدالت میں عزت و احترام بھی انہی کو زیبا۔ یہ فاتحین کی طرح عدالت آتے ہیں اور وکٹری کا نشان بناتے پولیس وین میں بیٹھتے ہیں۔
اب مجرمہ کو بے گناہ ثابت کرنے اور اسکی صفائی اور اسے دیانت و امانت دار، شرم و حیا کا پیکر اور شریف زادی ثابت کرنے کے لیے عدالت لگے گی، بڑے، معتبر اور نامور قانون دان پیش ہوں گے قانونی موشگافیاں بیان ہوں گی اور انصاف کے علمبردار قطار اندر قطار محترمہ کے فضائل و مناقب اور ملک و قوم کے لیے اسکی خدمات بیان کرکے رہائی طلب کریں گے۔
یہ تو بھلا ہو ہماری ہر دل عزیز پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کا کہ جس نے کوکین کوئین کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیکر ہم جیسے ہزاروں لاکھوں قانون پسندوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ثابت کیا کہ سندھ سرکار اب اس کچھ " کر گزرنے" کا پختہ ارادہ کر چکی ہے۔ مگر نزلہ کس پہ گرتا ہے اس کے لیے طوفان کے تھمنے کا انتظار۔
نظام انصاف کی جرات کو بھی سلام کہ عام اور معمولی ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست رد کر دی۔ رواج اور ضوابط کے مطابق یہی بنتا تھا۔ ڈھائی، 300 گرام چرس کا جرم تھوڑی کہ 5 سات دن پولیس ریمانڈ کی ضرورت پڑتی۔ قانون نے بھی اپنا رنگ دکھانا اور اپنی دھاک بٹھانا شروع کر دی۔ وزارت داخلہ سندھ کا زبردست ایکشن قابل داد، کہ ملزمہ معذرت محترمہ کو ہتھکڑی نہ لگانے اور اعزاز کے ساتھ چہل قدمی پر براہ راست SHO کو معطل کر دیا، توبہ توبہ۔ اتنا سخت ایکشن۔ لگتا ہے سندھ سرکار کیس کو نمٹانے کا ارادہ کیے بیٹھی ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کیسے؟ پھر بقول خواجہ صاحب کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے
بہرحال یہ ایک جھلک تھی آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
اگلے کالم تک کے لیے اب دیں اجازت!

