Thursday, 14 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Kiran Arzoo Nadeem
  4. Roti Ki Chori, Aah Reha

Roti Ki Chori, Aah Reha

روٹی کی چوری، آہ ربا

سورہ دہر کی ابتدائی آیات میں اللہ کہہ رہا ہے کہ ایسا معاشرہ نہ قائم کر لینا جہاں شر اڑ کر لگا کرتا ہے، پھر اس کی لپیٹ میں سب آ جاتے ہیں، اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایسا معاشرہ قائم کرو جس میں کوئی رات کو بھوکا نہ سوئے۔

معاشی نظام کو قرآن نے بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔

قرآن کا معاشی نظام پڑھتے ہوئے اچانک ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو کہ دل بند کر دینے والا تھا۔ ایک خاتون کو صرف روٹی چرانے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا اور اس پر مقدمہ چلایا گیا اور جب مقدمہ عدالت میں پیش ہوا تو جج نے عورت سے روٹی چوری کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس کے شوہر کی وفات ہو چکی ہے اور بچے بھوکے تھے تو اس نے مجبور ہو کر روٹی چرائی پھر تندور کے مالک نے اس کو گرفتار کروایا اور بعد ازاں اس پر مقدمہ درج کروا کر اس کو گرفتار کروایا گیا۔

معاشرے کی بے حسی دیکھیں کہ گرفتار کرنے اور کروانے والے کے ضمیر اس قدر مردہ ہو چکے تھے۔ جب معاشرہ اس حد تک پہنچ چکا ہو تو بھر تباہی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

اس تمام واقعہ میں جو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے وہ جج کا فیصلہ ہے جس کے مطابق تندور کے مالک کو دو سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کیا گیا، واقعہ میں ملوث ایک آفیسر کو معطل بھی کیا گیا اور اسسٹنٹ کمشنر کو ہدایات جاری کی گئیں کے اس خاندان کی کفالت ریاست کرے گئی۔

اس فیصلے سے پہلے اس خاتون کا خاندان کس کرب سے گزرا ہوگا۔ یہ صرف یہ بھوک کی ماری خاتون کا واقعہ ہے جو منظر عام پر آگیا نا جانے اور کتنے بھوکے اس دیس میں اپنی زندگی کی گاڑی کو گھسیٹ رہے ہیں۔

ہم اس جملے کو بار بار دہراتے ہیں کہ اس پر ہر جاندار کے رزق کی ذمہ داری خدا نے اپنے سر لے رکھی ہے۔ یہ بات سو فی صد درست ہے لیکن ہم یہ نہیں سمجھتے کہ یہ ذمہ داری اللہ انسانوں ہی کے ہاتھوں سے پوری کرواتا ہے اگر ایسی بات نہ ہوتی تو حضرت عمر یہ ہر گز نہ کہتے کہ دجلہ کے کنارے اگر ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو عمر رظہ سے اس کی باز پرس ہوگی۔

اس سلسلے میں حاطب بن ابی بلقہ کے غلاموں کا واقعہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ انھوں نے ایک شخص کا اونٹ چرا کر زبح کرکے کھا لیا۔ ان کے خلاف چوری کا جرم ثابت ہوگیا۔ آپ نے حد سزا نافذ کرنے سے پہلے ان سے پو چھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ حاطب ہم سے کام تو سخت لیتا ہے لیکن کھانے کو اس قدر کم دیتا ہے کہ اس سے ہمارا پیٹ نہیں بھرتا۔ ہم نے انتہائی مجبوری کے عالم میں ایسا کیا ہے۔

یہ سن کر آپ نے غلاموں کو تو معاف کر دیا اور حاطب کو بلا کر کہا کہ چاہیے تو یہ کہ چوری کے جرم کی سزا میں تمھارا ہاتھ کٹوا دیا جائے کہ اس جرم کے مرتکب تمھارے غلام نہیں، تم ہو جس نے انہیں اس حالت تک پہنچا دیا کہ وہ چوری کرنے پر مجبور ہو گئے، لیکن میں تم سے نرمی برتا ہوں، اس دفعہ تو اتنی سزا ہی کافی سمجھتا ہوں کہ تم اونٹ کی قیمت اس کے مالک کو ادا کر دو۔ اگر آئندہ تمھارے غلاموں کی یہی حالت ہوگئی تو پھر تمھارے لئے سخت سزا کا سوچا جائے گا۔

اس سے عظیم معاشی اصول مستنبط ہوتا ہے کہ رب نے ہر شخص کے رزق کی ذمہ داری لے رکھی ہے لیکن وہ یہ ذمہ داری انسانوں ہی کے ہاتھوں پوری کرواتا ہے اور جب اسلامی ریاست قائم ہو تو یہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ کوئی فرد بھوکا نہ رہے۔

Check Also

Roti Ki Chori, Aah Reha

By Kiran Arzoo Nadeem