Thursday, 14 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Banam Dr. Muhammad Raza DPO Murree

Banam Dr. Muhammad Raza DPO Murree

بنام ڈاکٹر محمد رضا ڈی پی او مری

کراچی کی ایک خاتون ڈرگ ڈیلر "انمول پنکی" کی گرفتاری آج کل ملکی میڈیا کی سب سے بڑی خبروں میں شامل ہے۔ الزام ہے کہ وہ کوکین کی ریفائننگ، سپلائی اور بڑے پیمانے پر منشیات کے کاروبار میں ملوث تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک حساس ادارے سے وابستہ اعلیٰ شخصیت کے بیٹے کی مبینہ اوور ڈوز سے موت کے بعد قانون حرکت میں آیا اور پھر اچانک پورا نظام بیدار ہوگیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں منشیات کا کاروبار صرف کراچی تک محدود ہے؟ کیا ہر شہر، ہر قصبے اور ہر پہاڑی علاقے میں "انمول پنکی" جیسے کردار موجود نہیں جو خاموشی سے نسلوں کو تباہ کر رہے ہیں؟

انمول پنکی کو عدالت میں پیشی کے وقت جس شاہانہ انداز اور پروٹوکول کے ساتھ لایا گیا، وہ ہمارے عدالتی و سماجی نظام کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ محسوس ہوا۔ یہی منظر کبھی آیان علی کے مقدمے میں بھی دیکھا گیا تھا، جب ایک ہائی پروفائل اسمگلنگ کیس میں پورا ملک شور مچا رہا تھا، لیکن وقت گزرتے ہی سب کچھ دھندلا گیا اور طاقتور حلقوں کے سائے میں انصاف کا معیار بھی بدلتا دکھائی دیا۔ پاکستان میں قانون اکثر وہاں جاگتا ہے جہاں شور زیادہ ہو، جبکہ اصل المیہ وہاں جاری رہتا ہے جہاں خاموشی زیادہ ہو۔

پنکی کے ساتھ کیا ہوگا، یہ تو خدا بہتر جانتا ہے مگر اسی سارے منظرنامے میں مجھے اپنا علاقہ مری یاد آتا ہے۔ وہ مری جسے کبھی قدرت، شرافت، سادگی اور تہذیب کی پہچان سمجھا جاتا تھا، آج آہستہ آہستہ منشیات کے زہر میں لپٹتا جا رہا ہے۔ پچھلے دس برسوں میں مری شہر اور اس کے گرد و نواح میں منشیات کی وبا جس تیزی سے پھیلی ہے، وہ انتہائی تشویشناک اور ہوش رُبا ہے۔ نوجوان نسل چرس، آئس، ہیروئن اور دیگر نشہ آور اشیاء کی طرف جس رفتار سے دھکیلی جا رہی ہے، وہ صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی المیہ بنتا جا رہا ہے۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں سے بھی یہ حقیقت جھلکتی ہے کہ یہ مسئلہ معمولی نہیں رہا۔ حالیہ برسوں میں پنجاب پولیس نے صوبہ بھر میں ہزاروں چھاپوں اور منشیات فروشوں کی گرفتاریوں کی تفصیلات بھی جاری کیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی ریجن میں تعلیمی اداروں کے اطراف بھی منشیات فروشوں کے خلاف خصوصی آپریشن کیے گئے، جو اس ناسور کے بڑھتے ہوئے دائرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

افسوس یہ ہے کہ مری میں جب کوئی قتل ہوتا ہے تو پورا نظام متحرک ہو جاتا ہے۔ انتظامیہ حرکت میں آتی ہے، سیاستدان تعزیت کے لیے پہنچتے ہیں، سوشل میڈیا انصاف کے نعروں سے بھر جاتا ہے، مقتول کے لواحقین کی داد رسی کی جاتی ہے۔ مگر یہ جو خاموش قتل ہو رہا ہے، جس میں سینکڑوں خاندانوں کے نوجوان آہستہ آہستہ نشے کی دلدل میں ڈوب کر اپنی زندگیاں کھو رہے ہیں، اس پر کوئی اجتماعی اضطراب کیوں نہیں؟ یہ جو گھروں کے چراغ خاموش ہو رہے ہیں، ان کی آہٹ سوشل میڈیا کو کیوں سنائی نہیں دیتی؟

نومبر 2025 میں اسلام آباد پولیس نے مری سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ منشیات فروش کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے ہیروئن برآمد کی، جبکہ پولیس کے مطابق یہ نیٹ ورک تعلیمی اداروں کے اطراف نوجوانوں کو نشہ سپلائی کرنے میں ملوث تھا۔ یہ تمام واقعات اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ مری جیسے پُرفضا اور پُرامن سمجھے جانے والے علاقے بھی اب منشیات فروش مافیا کی پہنچ سے محفوظ نہیں رہے۔

میرا سوال ڈی پی او مری ڈاکٹر محمد رضا سے ہے، ابھی تک مری کے منشیات فروشوں کے خلاف کی گئی کوئی "اینٹی نارکوٹکس رپورٹ" کیوں نہیں پبلک کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب کی ایک بہترین پولیس منتظم کی شہرت ہے، مگر ان کو اس کا ادراک ہونا چاہیے کہ قتل یا دیگر جرائم سے کہیں زیادہ تشویشناک منشیات کے پھیلاؤ کا جرم ہے۔ آپ تو پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں، مگر کیا اب آپ منشیات فروشوں کے خلاف سرجری کر پائیں گے؟

پنجاب پولیس نے 2025 کے دوران صوبہ بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف 1 لاکھ 15 ہزار سے زائد چھاپے مارے، تقریباً 76 ہزار منشیات فروش گرفتار کیے اور ہزاروں کلو چرس، ہیروئن اور آئس برآمد کی۔ ڈسٹرکٹ مری کو بھی ایسی ہی شش ماہی موئثر کارکردگی رپورٹس عوام کے سامنے لانا ہوں گی، ورنہ ہم یہی سمجھیں گے پولیس افسران صرف ہل سٹیشن انجوائے کرنے آتے ہیں۔

اور یہ سوال آج بہرحال مری کے ہر باشعور شہری کے ذہن میں ہے کہ آخر اس خاموش نسل کشی پر قانون کب حرکت میں آئے گا؟ کیا صرف کسی بڑے سانحے، کسی بااثر خاندان کے نقصان یا کسی میڈیا ٹرائل کے بعد ہی ریاست جاگے گی؟

ہم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کیا ڈپٹی کمشنر مری اور ڈی پی او مری اس حوالے سے کوئی واضح اور مؤثر حکمتِ عملی قوم کے سامنے رکھیں گے؟ کیونکہ اگر آج بھی اس زہر کو معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کیا گیا تو آنے والے برسوں میں مری کی خوبصورت وادیوں سے زیادہ اس کے برباد نوجوانوں کی کہانیاں سنائی دیں گی۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Netanyahu Ne Arab Amarat Ka Daura Kya Ya Nahi?

By Mubashir Ali Zaidi