Netanyahu Ne Arab Amarat Ka Daura Kya Ya Nahi?
نیتن یاہو نے عرب امارات کا دورہ کیا یا نہیں؟

اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران بنیامن نیتن یاہونے خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے "تاریخی" ملاقات کی۔ امارات نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات باضابطہ تعلقات ہیں اور خفیہ دورے کی بات بے بنیاد ہے۔ ان متضاد بیانات نے مشرقِ وسطیٰ کی نئی سیاست، ایران کے خلاف ابھرتے اتحاد اور ابراہام معاہدوں کے مستقبل پر کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
اسرائیلی اخبار ہاریتز کے مطابق نیتن یاہونے جنگ کے دوران خفیہ طور پر امارات کا دورہ کیا تھا۔ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر نے اس ملاقات کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں تاریخی پیشرفت قرار دیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ نیتن یاہو خلیجی ریاست گئے تھے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے امارات کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے آئرن ڈوم دفاعی نظام فراہم کیا تھا اور اسے آپریٹ کرنے کے لیے اسرائیلی فوجی اہلکار بھی بھیجے تھے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے خبر دی تھی کہ اسرائیل نے پہلی بار اپنی سرزمین سے باہر کسی ملک میں آئرن ڈوم نظام نصب کیا۔ امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی تل ابیب میں ایک تقریب کے دوران اس تعاون کی تصدیق کی۔ انھوں نے امارات کو ابراہام معاہدوں میں شامل ہونے والا پہلا ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے امارات کو آئرن ڈوم بیٹریاں اور عملہ فراہم کیا۔
نیتن یاہو کے دورہ امارات کی خبر عام ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد اماراتی خبر رساں ادارے ڈبلیو اے ایم کے ذریعے ابوظبی نے اس کی تردید کردی۔ الجزیرہ کے مطابق امارات نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات عوامی اور باضابطہ ہیں، اس لیے کسی خفیہ دورے یا خفیہ انتظام کی بات بے بنیاد ہے، جب تک کہ اس کا اعلان خود اماراتی حکام نہ کریں۔ خلیجی سیاست میں سفارتی زبان عموماً بہت محتاط ہوتی ہے، اس لیے ایسی کھلی تردید کو غیرمعمولی سمجھا جارہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اماراتی تردید سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل شاید اس معاملے کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ امارات داخلی اور علاقائی دباؤ سے بچنے کی کوشش کررہا ہو۔ غزہ جنگ کے بعد عرب دنیا میں اسرائیل مخالف جذبات میں اضافہ ہوا۔ نیتن یاہو کے دورہ امارات کی خبر سے عرب عوام میں ردعمل پیدا ہوسکتا تھا۔
اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ابراہام اکارڈز کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات بڑھتے جارہے ہیں۔ الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں یاد دلایا کہ 2020 میں امریکا کی ثالثی سے ہونے والے ان معاہدوں کے تحت امارات اور اسرائیل کے تعلقات قائم ہوئے تھے۔ الجزیرہ ہی نے ان دنوں خبر دی تھی کہ نیتن یاہونے سعودی عرب کا دورہ کیا اور شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ تب سعودی عرب نے بھی اس دورے اور ملاقات کی سختی سے تردید کی تھی۔
ہاریتز کی رپورٹ کے مطابق موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا بھی جنگ کے دوران کم از کم دو مرتبہ خفیہ طور پر امارات گئے تاکہ ایرانی خطرے کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا جاسکے۔ اخبار نے بتایا کہ اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی ایران میں ایسے میزائل نظاموں کو نشانہ بنایا جو خلیجی ممالک تک پہنچ سکتے تھے۔ الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایران نے اسے اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ قرار دیا ہے۔
امارات نے نیتن یاہ کے دورے سے انکار کے باوجود اسرائیل سے تعلقات ختم یا محدود کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون جاری ہے لیکن محتاط سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

