Saturday, 25 April 2026
  1.  Home
  2. Ali Raza Ahmed
  3. Mazah Ki Wuqat

Mazah Ki Wuqat

مزاح کی وقعت

قبلہ عطاء الحق قاسمی صاحب نے عشروں سے اپنے ہر قاری کے سینے میں اپنے پرانے شہر وزیرآباد کو بڑے "چاقو چابند" طریقے سے آباد کیا ہوا ہے۔ مہینے میں ایک بار وہ اپنے اس شہر وزیرآباد کا ذکر نہ کریں یا ہر بدلتے موسم کے ساتھ وزیرآباد کو یاد نہ کریں ایسا تو کم از کم پچھلے چار پانچ عشروں سے کم از کم ان کے قارئین نے تو نہیں محسوس کیا۔ اس شہر سے Love لگاؤ اور برتاؤ کا ان کا اپنا ہی انداز ہے جو صرف قاسمی صاحب کے دل میں شادباد ہے۔ آپ کا ایک شعر ؎

وہ ایک شام جو پردیس میں اترتی ہے
تمہیں خبر ہی نہیں دل پہ کیا گزرتی ہے

ایک دوسرے سرد مقام کے بارے میں فرماتے ہیں ؎

صحرا کو نکل جائیں تو دل بھی ذرا بہلے
شہروں میں تو ہنگامہء تنہائی بہت ہے

نوائے وقت میں "روزن دیوار سے" کے مطالعہ کے دوران کئی ایک شگفتہ جملے ذہن میں ثبت ہو چکے تھے۔ قاسمی صاحب نے لاہور کے ایک علاقے کے بارے لکھا کہ "پکی ٹھٹھی کی سڑکیں کچی ہیں اگر کمزور مثانے والا گھوڑا ادھر سے گزر جائے تووہاں مہینوں پانی کھڑا رہتا ہے" مگر وزیر آباد کی کچی سڑکوں کا ذکر اب بھی بڑے پکے ٹھٹھے انداز میں کرتے ہیں۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ "انسان ساٹھ سال کا ہونے کے باوجود بھی نابالغ رہتا ہے کیونکہ انسان بالغ ہونے کے بعد سنی یا وہابی یا لیفٹ رائٹ ہو جاتا ہے" پھر ایک زمانہ آیا جب ہم قاسمی صاحب کے لکھے ہوئے معروف ڈرامے "خواجہ اینڈ سن" اور شب دیگ وغیرہ دیکھا کرتے تھے۔ ڈرامے کے اختتام پر جب یہ لکھا آتا: تحریر: عطا الحق قاسمی۔ تو دل میں یہ حسرت جاگتی کہ کاش زندگی میں کبھی اس محترم ہستی سے مصافحہ ہو جائے!

پھر ایک وقت ایسا بھی آیا اور میرے کئی اشغال متروک ہوئے اور پھر "لکھنا" باقی رہ گیا۔ چنانچہ دل میں ایک خواہش یہ بھی پنپتی پائی گئی تھی کہ میرا بھی کوئی مضمون قاسمی صاحب کے رسالے معاصر میں چھپ جائے۔ یہ سن دو ہزار ایک کی بات ہے یعنی ایک ربع صدی پرانی۔ چنانچہ میں نے ایک مضمون لکھا اور انارکلی لاہور والے ایڈریس پر بھیج کر قسمت آزمائی شروع کی اور سوچا کہ اگر میرا یہ مضمون معاصر میں چھپے تو میں کتنا خوش قسمت گردانا جاؤں گا لیکن میرا نصیب اُس سے بھی اُجل کر مزید جاگا! جب اس کے چند دن بعد قاسمی صاحب نے مجھ جیسے غیر معروف لکھاری پر روزنامہ جنگ میں ایک پورا کالم تحریر فرما دیا، میں نے وہ کالم بار بار دیکھا، کچھ اس شک و شبے میں کہ یہ کہیں کسی اور "علی رضا احمد" کا ذکر تو نہیں!

آپ جناب کی اس کرم فرمائی کے بعد مجھے لکھنے کا بہت حوصلہ ملا اورآپ کی اس ہمت افزائی کے بعد میرے دماغ پر ملاقات کا بھی ایک نیا جنون سوار ہوا چنانچہ میں نے اپنے دوست گل نوخیز اختر سے قاسمی صاحب کا فون نمبر لیا اور پھر ان سے رابطہ کرکے ملاقات کا وقت لیا اور حاضرِ خدمت ہوگیا۔ جیسے ہی میں نے ان کی سحر انگیز شخصیت پر پہلی نظر ڈالی تو؎

پھر پلٹ کر نگاہ نہیں آئی
تجھ پہ قربان ہوگئی ہوگی

پہلی ملاقات میں ہی یہ احساس ہوا کہ قاسمی صاحب نہ صرف بڑے لکھاری ہیں بلکہ بہت بڑے انسان بھی ہیں۔ میں نے جب پہلی بار دیکھا تو سبز کرتا سفید شلوار میں نمودار ہوئے۔ پاؤں میں اس دور کی آٹھ نمبر خان چپل پہنے ہوئے تھے آج کل تو اس جوتے کی میکانگی جنریشن میں بھی زیروتین سے زیرو چار تک اضافہ بھی ہو چکا ہے بلکہ اب اس چپل کی مقبولیت عام ہوتے ہوئے کئی جدید ورژن آ چکے ہیں اور بیرون ممالک میں اسی نمبر کے کئی ریستوران بھی کھل چکے ہیں اور ان میں سے کئی اپنی معیاد پوری کرکے ادھڑ بھی چکے ہیں۔

جب سے راقم نے ان سے پہلی ملاقات ہوئی بس یہی بات سامنے آئی ہے کہ جناب دل کھول کر ہنستے ہیں اور ساتھ دوسروں کے دل و دماغ بھی کھول دیتے ہیں لہٰذا راقم ہذا اُس دن سے لیکر آج تک حلقہء قاسمیہ سے باہر نہیں نکل سکا بلکہ اب تو معاملہ یہ ہے کہ میں نے بہت سے دوسرے غیر "مقید" عناصرین کو بھی اپنے اسی حلقے میں گھسیٹ کر دم لیا ہے۔ پہلی ہی ملاقات میں انہوں نے مجھے ہدایت کی کہ صرف طنزو مزاح ہی لکھنا کیونکہ باقی لکھنے والے ویسے بھی بہت ہیں اور یہ اتنے ہیں کہ اینٹ اکھاڑو تو نیچے سے ایک اور پرانی slab نکلتی ہے اور پھر اس کے نیچے سے اہرام مصر کے جیسا پورا بلاک۔ مگر طنز و مزاح کا میدان خشت و خاک سے خالی ہے کیونکہ طنز کے ہر لفظ ایک لُغوی معنی ہوتے ہیں اور ایک لَغوی۔

محترم قاسمی صاحب کی اعلی ظرفی کی ایک اور بات آپ کے گوش گزار کرتا چلوں: ایک دفعہ ہم "جشنِ عطاء الحق قاسمی" کے سلسلے میں ان کے دفتر میں بیٹھے پروگرام کی تفصیلات طے کر رہے تھے کہ اچانک ایک فون آیا۔ قاسمی صاحب نے دو تین منٹ گفتگو کی اور پھر اس شخص کو فرمایا: "میں اکیلا نہیں ہوں، میرے ساتھ چھ سات مزید کرم چاری بھی موجود ہیں اور وہ بھی میرے ساتھ آئیں گے! فون سنتے ہوئے ہم سمجھے شاید کہیں سے کھانے کی دعوت آ گئی ہے! دل ہی دل میں سوچا، "لو جی! دنبہ کھانے کا وقت ہوا چاہتا ہے"۔

فون ختم کرتے ہی قاسمی صاحب نے ہمیں بتایا کہ یہ عمان سے قمر ریاض سے بات ہو رہی تھی اس نے پوچھا ہے آپ کہاں بیٹھے ہیں میں نے اسے کہا ہے کہ "جشن عطاء الحق قاسمی کا پروگرام ترتیب دے رہے ہیں"۔ قمر ریاض نے مجھے کہا ہے یہ پروگرام لاہور کی بجائے دبئی میں ہونا چاہیے! آپ ادھر آ جائیں ہم آپ کو ادھر بلاتے ہیں۔ میں نے اسے کہا ہے کہ میرے ساتھ ابھی جو چھ سات اندبھگت بیٹھے ہیں وہ بھی ساتھ آئیں گے۔ اس نے کہا ہے کہ انہیں بھی ساتھ لے آئیں اور ان کے پاسپورٹ کی کاپیاں ابھی مجھے واٹس اَپ کریں۔ پھر یوں ہوا کہ چند روز میں ہم سب کرم چاری دوبئی پہنچ گئے اور یوں ہمارا "خیالی دنبہ" بھی لاہور سے دبئی جا پہنچا۔ قاسمی صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ چھوٹوں کو چھوٹا نہیں سمجھتے اور اپنے سامنے بڑوں کو زیادہ بڑا بننے کا موقع نہیں دیتے۔ وہ کسی کی طرف مسکرا کر دیکھ لیں تو وہ بھی صاحب کتاب ہو جاتا ہے اور اگر غصے سے دیکھیں تو اس کی کتاب بھی کھل جاتی ہے۔ جنابِ قاسمی صاحب! آپ کے بغیر ادبی دنیا میں مزاح کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

Check Also

Pakistan Aur Khurak Ka Ziyaa

By Hameed Ullah Bhatti