آوارہ سنگھا (1)

یہ کہانی اس بارہ سنگھے کی ہے جسے ایک ایسی پیاس لگی جو ہر کس و ناکس کو نہیں لگتی اور وہ ایک جھیل کے کنارے اپنی پیاس بجھانے کے لیے نکلا۔ یہ واحد بے مثال جانور ہے جس کا نام اس کے جسمانی اعضاء کی تعداد پر رکھا گیا ہے اگر نام ایسے ہی رکھے جاتے تو سانپ کا نام کوئی اور ہی ملتا صرف ایک مور کا نام اس کے پروں کی گنتی کے حساب سے"آٹھ سو پرا" رکھا جاسکتا تھا حالانکہ گینڈے کا ایک ہی سینگ ہوتا ہے مگر اس کو کسی نے آج تلک سنگل سنگھا نہیں پکارا ورنہ یہ جنگل میں ساری عمر single یا کنوارہ سنگھا کہلاتا۔
جی ہاں! خر گوش کا نام بھی ایک دوسرے جانور کے کانوں سے مستعار لیا گیا ہے۔ بارہ سنگھا ایک سینگ کم یا زیادہ ہونے کے باوجود بارہ سنگھا ہی کہلاتا ہے اگر یہ بارہ سے دو زیادہ بھی ہو جائیں تو وہ زیادہ سے زیادہ "دوبارہ" سنگھا ہی کہلائے گا لیکن گیارہ سے مائنس ون سنگھا پھر بھی نہیں اگر وہ اپنا یہی سینگ کسی کے پیٹ میں گھونپ دے تو پھر بھی لاڈلے پن کی وجہ سے اسے کچھ استثنا مل سکتا ہے۔ اتفاق سے دوسری طرف کوے جیسے کئی دوسرے جانور طوطا چشم ہونے کے باوجود کسی اور نام سے مشہور نہیں ہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ گھنے جنگل میں ایک بارہ سنگھا اپنے خوبصورت اور قدرتی سجے دھجے سینگوں پر بہت ہی نازاں ہو رہا تھا اور ادھر ادھر ایک "آوارہ" سنگھا بن کر گھوم رہا تھا۔ صبح کی روشنی میں جب وہ جھیل کے کنارے آیا تواس نے ندی کے شفاف پانی میں اپنا عکس دیکھا، وہ اپنے عکس کو دیکھتے ہی خود پر ہی فریفتہ ہوگیا اور دل میں سوچنے لگا "بھئی میرے سینگ تو واقعی کمال کے پر کشش ہیں میں کتنا ہینڈ سم لگ رہا ہوں اگلی بار میں پورے جنگل سے "ہینڈ" کرکے رہوں گا لیکن ابھی ہاتھ ہولا رکھنا پڑے گا کیونکہ صرف میری وجہ سے ہی اس جنگل کی عزت ہے، دریں اثناء وہ اپنے سینگوں کو مختلف زاویوں سے دیکھنے لگا اور اسے اپنے سر پر ایک تاج سجا محسوس ہوا، پھر وہ خود کو کیا سے کیا سمجھنے لگ گیا دل میں کہنے لگا میں یہاں بھلے ایک آنکھ بند کرکے بھی چلتا ہوں توسب جانور میری چال دیکھ کر میرا چال چلن بھول جاتے ہیں حالانکہ میں نے اس جنگل کو بھی جیفری اپسٹین کا جزیرہ بنا رکھا ہے۔
میں اپنے سینگوں کو ہلاتے ہوئے اِدھر اُدھر جاتا ہوں تویہ سب سمجھتے ہیں کہ ایک سپرسونک "طفیلی" کاپٹر جا رہا ہے اور جب ہینگ کا پرفیوم لگا کر نکلتا ہوں تو ہاتھ میں استرا تھامے بندر کو بھی سانپ سونگھ جاتا ہے۔ اونٹ کی چوری اس وقت نہیں چھپتی جب اس نے منہ میں زیرہ ڈال رکھاہو۔ میری خوراک سب اعلیٰ ہے کیونکہ میرا ہر مینیو دیسی ہے۔ جن کی گلی سے گزرو وہ بھونکتے ہیں اور باقی دم ہلاتے رہتے ہیں اور میرا ایک پیڈل والا قافلہ چلتا رہتا ہے "ہاتھی کے پاؤں میں سانپ کے پاؤں" چونکہ میں نے طوطے سے اتفاق میں برکت والی کہانی سن رکھی تھی ہم چھ بھائی جن میں میں سب سے چھوٹا ہوں ہم پانچوں نے بڑے بھائی کے خلاف اتحاد بنا کر اسے ناکوں چنے چبا رکھے ہیں۔ بڑا بنتا تھا "بڑا"۔
لہٰذا اب مجھے شکاری جانوروں سے فوری طور پر شیروانی چھین لینی چاہئے، پھر اُس نے دل ہی دل میں کہا "کاش کہ میرا پورا جسم بھی اتنا ہی حسین ہوتا جتنے یہ سینگ ہیں میری دم بھی اگر ان کے جیسی شاخ دار ہوتی تو میں ڈبل بیرل بارہ سنگا ہوتا اور مور مجھے دیکھ کر اپنی چال بھول جاتا لیکن یہ سوچتے ہی اس نے دم سادھ لی، پھر اس نے مسکرا تے ہوئے اپنے دانتوں کا معائنہ کیا تو وہ بھی اسے اپنے سینگوں کی طرح شاخ دار لگے اور ان کا "چوگانہ" اسٹائل اسے بالکل پسند نہیں آیا چنانچہ اسے ہلکا سا "شاک" لگا اس نے جلدی سے جھیل میں دس بارہ گھونٹ بھرتے ساتھ اس بات کو بھی پی لیااور سینگوں کی جانب واپس یو ٹرن لے لیا اور سوچنے لگا اگر میں اپنے سینگوں کو سولہ سنگھار سے آراستہ کر لوں تو میری سمائل مزید "کلر" ہو جائے گی اور دنیا مجھے بارہ سنگھا پلس کہنے لگے گی۔ میں خوبصورتی کا ایک روشن برانڈ بن جاؤں گا مگر پتا نہیں کیوں میرے حسن اور سادہ پن کی وجہ سے چیتے بھیڑیے اور دوسرے خونخوار جانو ہر لمحہ میرے پیچھے لگے رہتے ہیں اور میری ترجیحات کے آڑھے آتے ہیں، یہاں جھیل کے پاس پانی پیتے ہوئے اسے اپنے شوخے پن کی بجائے تھوڑی "سنگھ جیدگی" دکھانا چاہئے تھی تاکہ اس مضمون سے طالب علموں کو امتحان میں نہ ڈالا جاتا۔
جھیل کنارے انہی "خیالی گھیراؤ" میں گم اُس کی نظر جیسے ہی اپنی ٹانگوں پر پڑی تو وہ ناک سکیڑتے ہوئے اپنے آپ سے گویا ہوا "ہائے! یہ ٹانگیں اُف! ان کی حالت اتنی پتلی اور بے ڈھنگی؟ جیسے یہ کسی قحط زدہ علاقے کے جانور کی ہوں۔ ان سینگوں کی شان دیکھو اِورٹانگوں میں جان دیکھو۔
اتنے میں وہاں ایک ہرن آ گیا اور اس سے کہنے لگا "دیکھو میری اور تمہاری ٹانگیں آپس میں کزن لگ رہی ہیں" کیوں اتنا فکر مند ہوتے ہو انہوں نے بالآخر ہونا تو روسٹ ہی ہے۔ شکاریوں نے کئی دفعہ زندہ پکڑنے کی کوشش میں مجھ پر بھی گولیاں بھی چلائی ہیں میں ان کے سامنے ذرا لنگڑا کر چلتا ہوں تاکہ یہ میرے اوپر ترس کھائیں لیکن وہ مجھے ہی کھانے کے درپے رہتے ہیں وہ جیسے ہی پکڑنے کے لئے میرے قریب آتے ہیں اور میں اسی لمحے اداکاری چھوڑ کر اپنی اوقات میں آجاتا ہوں، ٹانگیں پتلی ہونے کی وجہ سے ہی میں ان کی گولی یا نشانے سے بچ جاتا ہوں ورنہ آئے روز سب کو میری ٹانگ پر پلستر دکھائی دیتا۔
اسی اثناء دو عدد نر اور مادہ مچھر اپنی Pace بڑھاتے ہوئے اور ان دونوں کو لڑنے کیلئے ان کی طرف لپکے لیکن کسی بات پر وہ آپس میں ہی "لڑنا" شروع ہوگئے اور ان دونوں کی قسمت اچھی تھی کہ وہ خارش اور ڈینگی سے بچ گئے اپنی نزاکت اور Preen کے مارے ہوئے بارہ سنگھے کو ابھی بھی اپنے سینگ سیٹ کرنے کی پڑی ہوئی تھی۔ دریں اثناء زکام کا ماراایک واٹر پروف مینڈک جوجھیل کے کنارے بیٹھا یہ سارا تماشہ دیکھ رہا تھا کہنے لگا اوہ چوبارہ سنگھا! تو کون سی غلط فہمیوں کا شکار ہے جنگل میں صرف حسن پر ناز کرنے سے زندہ نہیں رہا جا سکتا۔

