Saturday, 17 January 2026
  1.  Home
  2. Abu Nasr
  3. Zuban Badal Dijye, Nizam Badal Jaye Ga

Zuban Badal Dijye, Nizam Badal Jaye Ga

زبان بدل دیجے، نظام بدل جائے گا

پچھلا کالم پڑھ کر پشاور سے پلوشہ خان نے پوچھا: "صدیقی صاحب!"Postcolonialism"کو اُردو میں کیا کہیں گے؟ مجھے اپنے مقالے کا عنوان رکھنا ہے"۔

بی بی! اُردو میں اِس انگریزی شرارت کے لیے دو اصطلاحات رائج ہیں۔ پہلی "مابعدِ نوآبادیات" اور دوسری "مابعدِ استعماریت"۔ مگر مابعدِ نوآبادیات، بولتے ہوئے ب اور د، کی تکرار سے ہماری تو زبان لڑکھڑانے لگتی ہے اور اِس اصطلاح پر اَدبدا اَدبدا کردانت پیسنے کا دل چاہنے لگتا ہے۔ اس باعث ہمیں "مابعدِ استعماریت" زیادہ رواں اصطلاح محسوس ہوتی ہے۔ اپنے مقالے کے لیے عنوان پسند کرنا ہو تو دونوں میں سے جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔

دیکھیے! مابعد، کے معنی ہیں کسی چیز کے خاتمے پر جو صورتِ حال ہو، یا کسی وقوعے کے تمام ہوجانے پر جو واقعات پیش آئیں۔ چوں کہ بُعد، کا مطلب دُوری ہے، چناں چہ مابعد، کا ایک مطلب کسی چیز سے پَرے، کسی چیز سے فاصلے پر، یا کسی چیز سے بلندی پر بھی لیا جاتا ہے۔ مثلاً مابعد الطبیعیات، کا مطلب ہے حسّیات سے ماورا۔ اسی طرح مابعد استعماریت، کا مطلب ہوا استعماریت کے خاتمے پر۔ مگر صاحب! استعماریت کا خاتمہ ہوا ہی کب ہے؟ استعماریت تو برقرار ہے اور آج بھی پریس کانفرنس کر کرکے دھڑلّے سے نعرے لگا رہی ہے: "ظلم و تشدد، ظلم و تشدد، جاری رہے گا، جاری رہے گا"۔

برقرار استعماریت کی مثال دینے کو ہم یہ بُقراطی نہیں شروع کردیں گے کہ وینرویلا میں کیا ہوا، گرین لینڈ میں کیا ہورہا ہے، یا کولمبیا اور نائیجیریا میں کیا ہونے والا ہے۔ صاحبو! ان دیاروں کا مرثیہ پڑھنا اور پڑھ پڑھ کر یاکُڑھ کُڑھ کر اپنا ہی سینہ کُوٹنا ہمارے اِن کالموں کی بساط سے باہر ہے۔ ہمیں تو اغیار سے پہلے اپنی قوم کو اور اپنی قومی زبان کو استعماریت کے شکنجے سے چھڑانے کی فکر ہے۔ بقول اعجاز گُل:

کسی خطے میں قتلِ روشنی ہو
میں اپنے شہر پر نوحہ کہوں گا

یہ نوحہ زبان کا نوحہ ہے۔ تاہم پہلے اچھی طرح جان لیجے اورمان لیجے کہ غیر زبان سیکھنا اپنی علمی قابلیت میں اضافہ کرنا اور قابلِ تحسین عمل ہے۔ لیکن کسی قوم کے منہ سے اُس کی زبان کھینچ لینا اور اُس کے ہرشعبۂ حیات پر اجنبی اور غیر زبان بالجبر مسلط کردینا استعماریت اور قابلِ نفرین عمل ہے۔ صاحبو! انگریزی ہم پر انگریز استعمار نے بالجبر مسلط کی تھی۔ ہم میں سے کسی سے پوچھ کر نہیں کی تھی۔

اب کہ جب فیضؔ بھی کہہ گئے ہیں، "بول کہ لب آزاد ہیں تیرے" تب تو آپ پوچھ ہی سکتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں تو ہماری عدلیہ کی زبان انگریزی کیوں ہے؟ ہماری انتظامیہ کس وجہ سے تمام احکامات انگریزوں کی زبان میں جاری کرتی ہے؟ ہماری مقننہ قانون سازی کرتی ہے تو انگریزی زبان میں کیوں کرتی ہے؟ ہمارے تعلیمی اداروں میں ہمارے بچوں کو ہر قسم کے علوم کی تعلیم صرف انگریزی زبان میں آخرکس کے فائدے کے لیے دی جاتی ہے؟ وطنِ عزیزپاکستان کے تمام حکام پاکستان کی سرکاری سرگرمیوں میں پاکستانی حاضرین سے برطانوی زبان میں کیوں خطاب کرتے ہیں؟ اسی پربس نہیں، وہ تو چین، جاپان، ترکیہ اور عرب ممالک سے پاکستان آئے ہوئے مہمانوں سے بھی برطانوی زبان ہی میں اَٹک اَٹک کر خطاب فرماتے ہیں، آخر کیوں؟ ہے اس کا کوئی جواز؟ اورہے اس کیوں، کا کوئی جواب؟

ہاں ایک جواب ہمارے چچا چودھری چراغ دین چکڑالوی نے بھی اپنی اَدَق فلسفیانہ زبان میں دیا ہے۔ دیکھیں یہ جواب کسی کی سمجھ دانی میں سماتا بھی ہے یانہیں؟ چچا فرماتے ہیں: "اپنی استعماریت برقرار رکھنے کو انگریزی استعمار برعظیم سے جاتے جاتے ایک اُپائے کرتا گیا۔ یہاں کی منتظمہ، عدلیہ، عسکریہ اور اشرافیہ کے ہر بچہ جمہورا کو انگریزی زبان کی آہنی ٹوپی پہناتا گیا۔ نتیجۃً ان کے دماغ پچک گئے اور ذہنی ارتقا رُک گیا۔ شاہ دولہ کے یہ چوہے اب اپنے ذہن سے کچھ سوچ سکتے ہیں نہ اپنی بولی بول سکتے ہیں۔ سب بیٹھے مکھی پر مکھی مارتے رہتے ہیں اور انگریزکی نقل اُتارتے رہتے ہیں۔ قائداعظمؒ نے قومی و سرکاری زبان اُردو کو قرار دیا تھا۔ بھلا قائدؒ کے حکم پر عمل درآمد میں رکاوٹ کون ہے؟ یہی شاہ دولہ کے چوہے!"

چچا مزید فرماتے ہیں: "انگریز ڈیڑھ ہُشیار تھا۔ اُسے معلوم تھا کہ صرف زبان بدل دینے سے سب کچھ بدل جائے گا۔ دعوے سے کہتا ہوں، تم آج بھی انگریزی زبان کو قومی زبان سے بدل کر دیکھ لو۔ سب کچھ بدل نہ جائے تو میرا نام بدل کر شہبازشریف رکھ دینا"۔

محض چچا کا نام بدلنے کو ہماری منتظمہ اتنا بڑا خطرہ کیوں مول لینے لگی؟ استعماریت میں اُن کے جو مزے ہیں وہ آزادی اور حریت میں کہاں؟ سچ پوچھیے تو، "گوشے میں قفس کے اُنھیں، آرام بہت ہے"۔

مگر یہ آرام تابہ کَے؟"یہی عیش ایک دن اہلِ ہوس کا خون چاٹے گا"۔ دن سدا ایک سے نہیں رہتے۔ ہر عروج کو زوال ہے۔ یہ قانونِ الٰہی ہے۔ استعماریت کا غلبہ ہمیشہ نہیں رہے گا۔ بظاہر وطنِ عزیز کی گردن پر استعماریت کا شکنجہ سختی سے پیوست نظر آتا ہے۔ انصاف کا سائل عدالتوں کی زبان سمجھ سکتا ہے، نہ وکلا کے دلائل اور نہ عدالتی فیصلے۔ پارلیمان کے ارکان قانون کی زبان سمجھنے سے قاصر ہونے کی وجہ سے بے سمجھے بوجھے، آنکھیں بند کرکے"Ayes"کہتے ہوئے استعماری قوانین کی منظوری دے دیتے ہیں۔

سرکاری دستاویزات اور سرکاری گوشوارے استعماری زبان میں ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آتے۔ تعلیم کا حال اور بُرا ہے۔ ہمارے بچے اُردو سے تو ناواقف کر ہی دیے گئے، انگریزی پر بھی عبور نہیں ہوا۔ یہ کسی زبان کے ماہر نہیں رہے اورکسی زبان میں شرحِ آرزو پر قادر نہیں ہوسکے۔ نقل و چسپاں کرکے اسناد حاصل کرلینا ان کی منزلِ مراد ہے۔ علمی قابلیت نہیں پیدا ہوتی۔ اِن طلبہ سے غور و فکر اور تحقیق و ایجاد کی صلاحیت استعماری زبان نے سلب کرلی ہے۔ حالاں کہ ہماری قوم کے بچے ذہانت میں کسی قوم سے پیچھے نہیں۔ فرق بس یہ ہے کہ دیگر اقوام کے بچے اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ استعماری زبان میں تعلیم کی وجہ سے ہماری قوم کے بہت سے بچے ابتدائی جماعتوں ہی میں تعلیم کا میدان چھوڑ بھاگتے ہیں۔

نظامِ تعلیم پر استعماری زبان نے اپنے تباہ کُن پنجے اس قدر گہرائی سے گاڑ دیے ہیں کہ آپ کو گھر کے دروازوں پر نصب تختیاں انگریزی میں نظر آتی ہیں۔ شادی بیاہ کے دعوت نامے انگریزی میں پیش کیے جاتے ہیں۔ پورے پاکستان کے بازاروں میں بڑے بڑے اشتہاری تختے اور دُکانوں کے نام انگریزی میں لکھے دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی نام اُردو میں ہوا بھی تو وہ استعماری حروفِ تہجی یعنی رومن میں لکھا نظر آئے گا۔ باغات میں انگریزی، سڑکوں شاہراہوں پر انگریزی، ریل گاڑیوں، بسوں اور ہوائی جہازکے اڈّوں پر انگریزی، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں انگریزی، خبروں اور اشتہاروں میں انگریزی، گفتگو میں انگریزی اور تقریروں میں انگریزی۔ استعماری زبان نے کہاں کہاں اپنے پنجے نہیں گاڑے؟ مگر استعماریوں کا یہی عروج ان کے زوال کی تمہید بنے گا۔ عروج کے مابعد بھلا اور کیا ممکن ہے؟

اب استعماری نظام کا کھوکھلا پن سب پرکھل چکا ہے۔ ہر طرف نظام بدلنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ ابلاغ کی رفتار تیز ہوجانے سے تبدیلیوں کی رفتار بھی تیز ہوگئی ہے۔ "دم بہ دم منقلب ہیں زمین و زماں، یہ جہاں اور ہے"۔ برق رفتار برقی انقلابات کی آغوش میں پلنے والی نئی نسل پچھلی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ پُرجوش ہے۔ نظام بدلنے کا عزم بالجزم رکھنے والے اگر آج سے فرداً فرداً یہ طے کرلیں کہ استعماری زبان کی جگہ قومی زبان کو فروغ دیں گے تو جو تبدیلیاں پچھلے پچہتر برسوں میں نہ لائی جا سکیں وہ آیندہ پانچ برسوں میں رُونما ہوتی ہوئی نظر آنے لگیں گی۔ عزیزو! ہر زبان اپنے تہذیبی و نفسیاتی اثرات رکھتی ہے۔ کلیدی نکتہ یہی ہے کہ زبان بدل دیجے نظام بدل جائے گا۔

Check Also

Taleemi Nizam Ko 20vi Sadi Mein Chore Kar Hum 21vi Sadi Mein Aagaye

By Muhammad Waqas