Tuesday, 03 February 2026
  1.  Home
  2. Abu Nasr
  3. Urdu Nashariyati Idare Apna Mazaq Na Urwayen

Urdu Nashariyati Idare Apna Mazaq Na Urwayen

اُردو نشریاتی ادارے اپنا مذاق نہ اُڑوائیں

کراچی سے زبیر واسطی صاحب شکوہ کناں ہیں: "اخبارات میں اکثر ہم پڑھتے ہیں کہ تفصیلی بریفنگ، دی جائے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ بریفنگ، تو شاید اختصار کو کہتے ہیں۔ بریف کیس، مختصر چیزیں ساتھ لے جانے کے لیے ہوتا ہے۔ بریفنگ، کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ مختصر انداز میں بات سمجھا دی جائے گی۔ تو یہ تفصیلی بریفنگ، کیا ہے؟ اس پر کچھ روشنی ڈالیے اپنے کسی کالم میں"۔

صاحب! روشنی ڈالتے ڈالتے تو خود ہمارے ہی چودہ طبق روشن ہوگئے ہیں، مگر اخبارات و نشریات میں شاید تاریکی پسند شب زادے اور شب زادیاں براجمان ہیں۔ روشنی ڈالنے سے اُن کی آنکھیں چُندھیا جاتی ہیں۔ ہماری آنکھیں بھی اُس وقت چُندھیا گئیں جب ہم نے ایک حیرت انگیز خبر دیکھی۔ یہ خبر پاکستان میں انگریزی زبان کے سب سے مستند اور سب سے معیاری اخبار کے اُردو نشریاتی ادارے کے پردے پر نمودار ہوئی تھی۔ آج سے چار دن قبل سُرخ چہچہاتے رنگ کی تختی پر روشن حروف میں یہ "اہم خبر" خطِ نستعلیق میں درج نظر آئی:

"ایم کیو ایم پاکستان کا کل یومِ سیاح منانے کا اعلان"۔

خبر تحریر کرنے والے صاحب نے شاید سیاہ رنگ خوب گاڑھا کرنا چاہا تھا۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ انگریزی صحافت کی دنیا میں انتہائی وقیع مقام رکھنے والا یہ اخبار انگریزی زبان کے ساتھ ایسی حرکت کرنے کی آزادی ہرگز نہ دیتا ہوگا۔ انگریزی زبان کے ایسے نصیب کہاں؟ اپنی قومی زبان کے ساتھ ملک کی دانشور اشرافیہ کا یہ خصوصی سلوک دیکھ کر اُردو کو یقیناً فخر محسوس ہوا ہوگا اور ذوقؔ کا شعر یاد آگیا ہوگا:

سر بوقتِ ذبح اپنا، اُس کے زیرِ پائے ہے
یہ نصیب اللہ اکبر! لوٹنے کی جائے ہے

توکہیے حضور پڑ گئی روشنی؟ اب آئیے آج کے سوال کی طرف۔

جی جناب! آپ نے جو سمجھا اور جو سمجھایا، وہی درست ہے۔ انگریزی میں "Brief" مختصر اور جامع خلاصے کو کہتے ہیں۔ دستاویزات کی تلخیص یا اجمالی یادداشت بھی"Brief" کہلاتی ہے۔ جب کہ "Briefing" میں واقعات وغیرہ کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے اور کسی کام کو کرنے سے پہلے اُس کے متعلق مختصر ضروری معلومات فراہم کی جاتی ہیں یا ابتدائی ہدایات دی جاتی ہیں۔ تفصیل، کے بوجھ سے بچنے ہی کے لیے تو یہ مختصرات، پیش کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لہٰذا تفصیلی بریفنگ عجیب اور مضحکہ خیز ترکیب ہے۔ اُردو اور انگریزی الفاظ کا یہ ملغوبا جس بقراط نے بھی بنایا وہ تفصیل، کا مفہوم زیرغور لایا نہ بریفنگ، کا۔ پس تفصیلی بریفنگ، کی ترکیب استعمال کرنے والے شخص کے متعلق یہ تاثر قائم کرلینا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ وہ دونوں الفاظ میں سے کسی لفظ کا مطلب نہیں جانتا۔ بے سمجھے بوجھے بس بولے جارہا ہے۔

بے سوچے سمجھے اور بے جانے بوجھے بولنے کا مرض عام ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں اس مرض کا اصل سبب یہ ہے کہ بولنے والے جن تعلیمی اداروں سے نکل کر آتے ہیں، وہیں ان کے منہ سے ان کی زبان چھین لی جاتی ہے اور ایک ملغوبا زبان ان کے منہ میں ڈال دی جاتی ہے۔ یہی زبان لیے لیے وہ اُردو کے مطبوعہ اور برقی ذرائع ابلاغ کی مسندوں پر آبیٹھتے ہیں۔ پھر اُردو بولنے کے بجائے مضحکہ خیز لسانی تماشے کرتے رہتے ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ انھیں اُردو آتی ہے نہ انگریزی۔ اُردو ان کو سکھائی نہیں گئی، انگریزی ان کے منہ میں زبردستی ٹھونس دی گئی، سکھائی وہ بھی نہیں گئی۔ نتیجہ یہ کہ اُردو نشریاتی اداروں کا کوئی فرد مسلسل چار پانچ فقرے اُردو کے بول سکتا ہے نہ انگریزی کے۔ انگریزی ملی اُردو بولتے بولتے ایک آدھ فقرہ انگریزی کا بولتا (یا بولتی) ہے، اتنے میں اس کا سانس پھول جاتا ہے۔ اپنی اوقات بھول جاتا ہے۔ ضرب المثل بالکل اُلٹ گئی ہے "ہنس چلا کوے کی چال، اپنی چال بھی بھول گیا"۔ ہمیں اپنے اُردو نشریاتی اداروں سے محبت اور ہمدردی ہے۔ چناں چہ ہماری آرزو ہے کہ ہمارے اُردو نشریاتی ادارے اپنا مذاق نہ اُڑوایا کریں۔ مگر، اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔

اچھے دن جو گزرے ہیں، اُن کی باتیں یاد آتی ہیں۔ ایک زمانہ اس ملک میں ایسا بھی تھا جب قوم کے بچوں کو قومی زبان میں تعلیم دی جاتی تھی۔ اُنھیں اُردو پڑھائی جاتی تھی تو الفاظ کے معانی و مفاہیم بھی بتائے جاتے تھے۔ زبان کے قواعد سکھائے جاتے تھے۔ نکتے اور نقطے کا فرق سمجھایا جاتا تھا۔ بتایا جاتا تھا کہ فلاں ترکیب محاورے کے مطابق ہے اور فلاں محاورے کے خلاف۔ یہ بھی جتایا جاتا کہ الفاظ کے اِعراب اور تلفظ میں تبدیلی سے مفہوم کس طرح تبدیل ہوجاتا ہے۔ کس مفہوم کے ابلاغ کے لیے موزوں ترین لفظ کون سا ہوگا۔ اُس زمانے کے تعلیم یافتگان کی زبان آج سنیے تو سنتے ہی رہ جائیے۔ اُس دور کے پروردہ سیاست دان، صحافی، انتظامیہ کے افسران اور سائنس دان آج بھی ہمارا قابلِ فخر قومی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں۔ اچھے وقتوں میں صحافت، سیاست اور سفارت میں موزوں ترین لفظ کا استعمال بولنے والے کا کمال سمجھا جاتا تھا۔ اب اس ملغوبا زبان میں جو کچھ بولا جاتا ہے بے سوچے سمجھے اور بے جانے بوجھے بولا جاتا ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ زبان کے معاملے میں سند سمجھے جاتے تھے۔ ہمارے اساتذہ معیاری انگریزی سیکھنے کے لیے انگریزی اخبارات اور اُردو سیکھنے کے لیے اُردو اخبارات پڑھنے کی ہدایت کرتے تھے۔ درست تلفظ جاننے کے لیے ریڈیو پاکستان سننے اور پاکستان ٹیلی وژن سے نشر ہونے والی خبریں بغور دیکھنے کی تاکید کرتے تھے۔ "کسوٹی" اور "شیشے کا گھر" جیسے نشریے تہذیب کا مرقع ہوتے تھے۔

اب تو ہمارے برقی ذرائع ابلاغ کی نشرگاہ میں بیٹھی ہوئی خبرخواں خاتون اپنے فاصلاتی نمائندے سے فرمائش کرتی ہیں: "فرقان! اگر آپ ہمیں سُن پا رہے ہیں تو اس سانحے پر ہمیں تازہ ترین Update، دیجیے"۔

صاحبو! ہم کیسے مان لیں کہ ادارے نے اُردو میں خبریں پیش کرنے کے لیے ایسے نااہل افراد کا انتخاب کیا ہے جنھیں تازہ ترین، کا مطلب ہی نہیں معلوم کہ اُنھوں نے انگریزی لفظ، Update بھی اُردو فقرے میں ٹھونکنا ضروری سمجھا۔ "سُن پا رہے ہیں " بھارتی نشریات سے سُن سُن کر بولا گیا ہے۔ ہمارے ہاں تو "اگر آپ سُن رہے ہیں " یا "اگر آپ سن سکتے ہیں " بولا جاتا ہے۔ بھارتی نشریات سے سنے ہوئے اور بھی کئی مضحکہ خیز فقرے ہمارے ہاں بولے جانے لگے ہیں۔ فہرست اُن کی طویل ہے۔ مگر آپ نے ضرور سنا ہوگا کہ اکثر کہا جاتا ہے "اپنے بچوں کو اچھے سے پڑھائیے"۔ کیا مطلب ہوا اس فقرے کا؟ اچھے تعلیمی ادارے سے پڑھائیے، اچھے نصاب سے پڑھائیے، اچھے استاد سے پڑھائیے یا اچھے طریقے سے پڑھائیے؟ بس بے سوچے سمجھے اور بے جانے بوجھے بول دیا کہ "اچھے سے پڑھائیے"۔ اچھا، اچھی یا اچھے قاعدے کے مطابق "صفت" ہے۔ صفت کے ساتھ موصوف لگانا ضروری ہے ورنہ جملہ مہمل ہوجائے گا۔ اچھا لڑکا، اچھی کتاب اور اچھے لوگ۔ ہاں خوب یاد آیا کہ ملیرکراچی میں ہم لوگ "اچھے" سے چائے پیتے تھے، کیوں کہ اچھے نے ملیر توسیعی کالونی کے بس اسٹاپ نمبر ایک پر اپنا ہوٹل کھول رکھا تھا۔ وہ "اچھے کا ہوٹل" کہلاتا تھا۔ ہمارا نشرکار سنتا تو "اچھے کا ہُٹیل" کہنے لگتا۔

اب پھر واپس آتے ہیں فرقان صاحب کی طرف۔ فرقان صاحب سے "تازہ ترین Update، دینے" کی فرمائش کی گئی تو اُنھوں نے سب سے پہلے فرمایا: "جی بالکل!"

کیوں فرمایا؟

اس راز سے برقی ذرائع ابلاغ کا کوئی خبر رساں ہی ہمیں باخبر کرسکے گا۔

مگر اس "جی بالکل!" کا کیا مطلب ہے؟ شاید کوئی اور کبھی نہ بتا سکے۔ بس ایک بھیڑ چال ہے کہ "جی بالکل!" سے گفتگو کا آغاز کرنے کا رواج ہے، سو، بے سوچے سمجھے بول دیا: "جی بالکل"۔

اب اگر فرقان صاحب "سن پارہے" تھے تو وہ بھی اسی ملغوبا زبان میں "تازہ ترین Update، دینے"کا شغل شروع کردیں گے۔ اگر "نہیں سن پا رہے" تھے تو اپنے دائیں کان پر ہاتھ رکھ کر اپنا آلۂ سماعت سیدھا کرتے ہوئے فرمائیں گے:

"فرقانہ! اپنا سوال دوبارہ Repeatکیجیے"۔

اے صاحبو! اب توہم بھی اپنی باتیں "دوبارہ Repeat "کر کرکے تھک گئے ہیں۔

Check Also

Daur e Jadeed Ke Ghunde

By Abdul Hannan Raja