Sunday, 01 February 2026
  1.  Home
  2. Abu Nasr
  3. Khabren Nashar Karne Walon Ki Khabar Lijye

Khabren Nashar Karne Walon Ki Khabar Lijye

خبریں نشر کرنے والوں کی خبر لیجے

خوشی کی خبر ہے کہ کچھ نشریاتی اداروں نے اُردو خبروں میں انگریزی کی جگہ اُردو الفاظ و اصطلاحات کا استعمال شروع کردیا ہے۔ اب اُردو زبان میں خبریں پیش کرتے ہوئے وہ اُردو کے جملوں میں انگریزی کی مضحکہ خیز پیوند کاری سے کسی قدر گریز کرنے لگے ہیں۔ مثلاً ایک ٹی وی چینل سے نشر ہونے والی اُردو خبروں میں "Growth Rate" کی جگہ "شرحِ نمو"، "Subsidy"کی جگہ "امدادی رقم" اور "Compensation" کی جگہ " تلافی" کی تراکیب اور الفاظ سن کر جی خوش ہوگیا۔ دیکھیے تلافی، جیسے سبک اور رواں الفاظ بھی عدم استعمال سے تلف ہونے لگے تھے۔ اب شاید معافی تلافی ہوجائے۔ تلافی، کے معنی تدارک، عوض اور بدل ہیں۔ حکیم مومن خان مومنؔ کہتے ہیں:

اگر غفلت سے باز آیا، جفا کی
تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی

جن نشر گاہوں (یعنی ٹی وی چینلوں) نے اُردو خبروں میں اُردو الفاظ اور اُردو تراکیب کے استعمال پر توجہ دینا شروع کیا ہے، اُن کی خبروں کا معیار بہتر ہوا ہے اور اِن اداروں کا وقار بڑھا ہے۔ اِن گنے چنے چند چینلوں کے شعبۂ خبر میں موجود جس فرد نے بھی اس کام کا بِیڑا اُٹھایا ہے وہ شکریے اور مبارک باد کا مستحق ہے۔ ایسے فرد یا ایسے افراد کو ادارے کی طرف سے تعریفی اسناد ملنی چاہییں۔ اس عمل کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ وہ انعام کے حق دار ہیں کہ اپنے چینل کو ناقص زبان کا شہکار اور نشرکار بننے سے بچا رہے ہیں۔ معیار بڑھا رہے ہیں۔

اُردو نشریات میں جو لوگ فرفرفرفر انگریزی بولتے رہتے ہیں وہ یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ اُن میں اُردو نشریات پیش کرنے کی اہلیت نہیں ہے۔ ناحق آگئے۔ اُنھیں ابھی اُردو الفاظ سیکھنے کی ضرورت تھی۔ سیکھ کر آتے تو اُردو ہی بولتے۔ اُن کی یہ نااہلی یا کم اہلی ادارے کے منتظمین کی نالائقی کا اشتہار بن جاتی ہے، جنھیں علم ہی نہیں کہ اُردو نشریات کے لیے کیسے افراد کا انتخاب کرنا چاہیے۔

مشہور مقولہ ہے "ناواقفیت کوئی عذر نہیں"۔ سڑک کے چوراہے پر اشارہ توڑ بیٹھنے والا شخص اگر عذر پیش کرے کہ وہ اشارہ سرخ ہوجانے پر گاڑی روک دینے کے اصول سے ناواقف تھا، تو اُس کا یہ عذر قبول نہیں کیا جائے گا، جرمانہ کر ہی دیا جائے گا۔ اگر گاڑی چلانے والے سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ سڑک پر آنے کے تمام اُصولوں، تمام قوانین، تمام علامتوں اور تمام اشاروں سے واقف ہوگا، اٹکل پچو سے کام لے کر اناڑی پن کا مظاہرہ نہیں کرے گا، تو برقی ذرائع ابلاغ پر اُردو نشریات پیش کرنے والوں سے بھی یہ توقع بے جا نہ ہوگی کہ وہ اُردو الفاظ سے واقف ہوں گے، تب ہی تو اُردو نشریات چلانے آئے ہیں۔ پس، وہ بھی اُردو الفاظ سے اپنی ناواقفیت کا عذر پیش کرنے پر قابلِ معافی نہیں ہوجائیں گے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ عدالتوں ہی میں نہیں، اداروں میں بھی قوانین اور قواعد و ضوابط سے ناواقفیت کا عذر قبول نہیں کیا جاتا۔ قواعد کی خلاف ورزی پر انضباطی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے اور بعض اوقات تو نوبت برطرفی تک جا پہنچتی ہے۔

رواں اُردو نشریات کا کوئی مشہور میزبان اگر علی الاعلان یہ اعتراف کرے کہ "میری اُردو کم زور ہے" تو یہ اعلان مذکورہ اُردو نشریہ پیش کرنے والے ہی کے لیے نہیں، اُس کے نشریاتی ادارے کے لیے بھی شرمندگی کا سبب اور ذلت کا باعث ہے۔ ایسے موقعے پر عام ناظر کے ذہن میں فوراً یہ سوال آتا ہے کہ

"میاں! تمھیں اُردو نشریات پیش کرنے کے لیے یہاں بٹھایا کس نے ہے؟"

اب سے کچھ عرصہ پہلے تک اُردو جملوں میں انگریزی الفاظ، ازراہِ تفنن اور لوگوں کو ہنسانے کے لیے ٹھونکے جاتے تھے۔ اب یہ کام بڑی سنجیدگی سے اور لوگوں کو رُلانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ قومی زبان کا چہرہ مسخ ہوتے دیکھ کر کسے رونا نہیں آئے گا؟

"غلطی ہائے مضامین" کا یہ سلسلہ اصلاً اُردو ذرائع ابلاغ کی خیر خواہی کی خاطر شروع کیا گیا تھا۔ جن لوگوں نے اپنا بھلا چاہا اُنھوں نے بھلی بات کو قبول کرلیا۔ مگر اب بھی بہت سے اُردو ذرائع ابلاغ اپنی اُردو نشریات میں انگریزی الفاظ ٹھونکتے ہیں اور اُردو بولتے ہوئے فقروں کے فقرے انگریزی زبان کے گھسیڑ دیتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُنھیں اُردو بگاڑنے کو ولایت سے منگوایا گیا ہے۔

یہ بھی ایک دلچسپ خبر ہے کہ اُردو میں خبریں پیش کرنے والے اُردو ہی سے بے خبر ہیں۔ جب تک وہ اپنی یہ بے خبری دور نہیں کر لیتے، اُن کی خبر لی جاتی رہے گی۔ انگریزی الفاظ، تراکیب اور اصطلاحات کی تکرار سے اُنھوں نے اُردو الفاظ کو اُردو خبروں سے بے دخل کردیا ہے۔ اب شاید ہی کسی چینل پر ضلعی عدالت، عدالتِ عالیہ اور عدالتِ عظمیٰ جیسی اُردو تراکیب سننے کو ملتی ہوں۔ یہ عذر ناقابلِ قبول ہے کہ قوم جو زبان بولتی ہے وہ زبان تو لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئے گی اور ٹی وی پر تکرار کے ساتھ جوتیتروں اور بٹیروں کی بولی بولی جارہی ہے بس وہی قابلِ فہم بولی ہے۔ اب یہی دیکھیے کہ "سُرخ لکیر" ہماری زبان میں ہمیشہ سے خونیں لکیر اور خطرے کی لکیر کا مفہوم دیتی آئی ہے۔ مگر ذائع ابلاغ سے تکرار کے ساتھ "ریڈلائن" کا اتنا چرچا کیا گیاکہ وہ کہتے ہیں اب "سُرخ لکیر" کسی کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔ اسی طرح اب "خبرنامہ"کسی کی سمجھ میں آئے گا، نہ" تازہ خبر"، نہ "خاص خاص خبریں " اور نہ" اہم خبروں کی سرخیاں "۔

اُردو زبان میں نشریات پیش کرنے والے اکثر اداروں میں، دیکھیے کہ کس سطح کی اُردو کا علم رکھنے والے ملازم رکھے گئے ہیں۔ فقط ایک خبر کی چند مثالوں سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ہفتۂ رفتہ کی بات ہے۔ کراچی کے گُل پلازا میں آتش زدگی کا سانحہ پیش آیا۔ بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کا زیاں ہوا۔ اِس ناقابلِ تلافی جانی نقصان کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بھی خاصا خطیر ہوا۔ قیمتی اشیائے فروختنی سے بھری ہوئی ہزار، بارہ سَو دُکانوں پر مشتمل عمارت راکھ کا ڈھیر بن گئی اور تقریباً پوری زمیں بوس ہوگئی۔ نشریاتی اداروں نے اس سانحے کی لمحہ بہ لمحہ صورتِ حال سے آگاہ رکھنے کے لیے مسلسل نشریات پیش کیں، جن کو "میراتھن ٹرانسمیشن" کہا گیا۔ ان نشریات میں ہمارے نشریاتی اداروں کی اُردو دانی بھی بار بار زمیں بوس ہوئی۔

چناں چہ معمول کے مطابق عام اُردو تراکیب کی جگہ بھی، اُردو جملوں میں جگہ جگہ انگریزی الفاظ ٹانک کر "اُردو خبریں " پیش کی گئیں۔ مثلاً آگ بجھانے کو "فائر فائٹنگ" کا نام دیاگیا اور آگ بجھانے والے کو "فائر فائٹر"کہا گیا۔ لوگوں کو بچانا "ریسکیو"کہلایا۔ جب کہ پھنسے ہوئے افراد کی جان بچانے کی کوششوں اور امدادی سرگرمیوں کو مستقلاً "ریسکیو آپریشن" کہا جاتا رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اُردو انگریزی ملا کر مضحکہ خیز تراکیب بھی استعمال کی جاتی رہیں۔ مثلاً امدادی عملے کے لیے "ریسکیو اہل کار" اور اُن کے افسروں کے لیے "ریسکیو حکام" کی ترکیب استعمال کی گئی۔ حفاظتی دروازے کو بار بار "سیفٹی گیٹ" کہاگیا اور حفاظتی دستانوں کو "سیفٹی گلوز"قرار دیا جاتا رہا۔ اخراجِ ہنگامی کو "ایمرجنسی ایگزٹ" کہنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ ایک موقعے پر یہ خبر بھی دی گئی کہ "فلاں صاحب ریسکیو آپریشن پر پریس بریفنگ دیں گے"۔ سو، اس فقرے میں "فلاں صاحب" تو ایک حکومتی عہدے دار ہوئے، لیکن پورے جملے میں "پَر" اور"دیں گے" کے سوا اُردو کا کوئی لفظ نہ تھا، پھر بھی اِسے اُردو خبر کا جملہ سمجھ کرباربار نشر کیا گیا۔ اگر کہا جاتا کہ " فلاں صاحب امدادی سرگرمیوں سے صحافیوں کو آگاہ کریں گے" تو کیا یہ بات اُردو نشریات کے سامعین و ناظرین کی سمجھ میں نہیں آسکتی تھی؟ مگر اِن نشریاتی اداروں کو کون سمجھائے؟

جن اداروں کی سمجھ میں آگیا ہے کہ ادارے کی نیک نامی بگڑی زبان بولنے میں نہیں، معیاری زبان استعمال کرنے میں ہے، وہ اپنی نشریات کا معیار اب بہتر بنارہے ہیں۔ جو ادارہ اپنی نشریات مکمل طور پر معیاری اُردو میں پیش کرنے پر قادر ہوجائے گا وہ سب کے لیے سند بن جائے گا۔ مانا کہ ہمارے صحافتی اور ابلاغی ادارے اب محض تجارتی ادارے بن کر رہ گئے ہیں مگر یہ بات ماننے کو عقل آمادہ نہیں ہوتی کہ "ملتے ہیں ایک شارٹ بریک کے بعد" کہنے سے مالی منفعت میں اضافہ ہوجاتا ہوگا اور "ملتے ہیں ایک مختصر وقفے کے بعد " کہتے ہی آمدنی گھٹ کر صفر ہوجاتی ہوگی۔ ذرا ہم بھی آزما کر دیکھتے ہیں۔ لہٰذا اے قارئینِ کرام! ملتے ہیں ایک مختصر وقفے کے بعد۔

Check Also

Jab Qaumen Sawal Karna Chor Dein

By Nusrat Abbas Dassu