Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Abu Nasr
  3. Inhe Kis Ne Mamoor Kar Diya?

Inhe Kis Ne Mamoor Kar Diya?

انھیں کس نے مامور کر دیا؟

خبروں کے ایک نشریے میں عالمی اُردو کانفرنس کی رُوداد پیش کی جا رہی تھی۔ رُوداد خواں شاید اچھے اُردو داں نہیں تھے۔ وہ لفظ اَمُر، کا تلفظ بار بار اَمَر، کررہے تھے۔

"اس اَمَر کا اہتمام کیا گیا تھا" اور "یه اَمَر واضح ہوگیا"، وغیرہ وغیرہ جیسے فقرے سن سن کر ہمارا تو مزید سننے کا شوق ہی مر گیا۔

مانا کہ ہندی نشریات میں لفظ اَمَر، خوب خوب بولا جاتا ہے، مگراس وجہ سے بولا جاتا ہے کہ ہندی زبان میں اَ، حرفِ نفی ہے۔ نہ مرنے والے کو ہندی میں اَمَر، کہا جاتا ہے اور نہ ٹلنے والے کو اَٹَل۔ لیکن یہاں جس لفظ کے استعمال کا موقع تھا، وہ اَمَر نہیں اَمُر، ہے۔ میم ساکن۔ لفظ امُر، کے معنی یہاں فعل، کام، مطلب، مقصد، معاملہ یا بات کے لیے جائیں گے۔ جیسے کہ نسیمؔ نے لے ہی لیے:

غیر ممکن ہے کہ آساں ہو سکے
رہ گیا جو اَمرِ مشکل، رہ گیا

لفظِ اَمُر، اُردو میں استعمال ہونے والے اُن الفاظ میں سے ایک ہے جن کا تلفظ تبدیل ہونے سے معنی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اِملا تو ایک ہی ہے، مگر اس لفظ کا ہندی تلفظ اور ہے، عربی تلفظ اور۔ امُر، (میم پر جزم کے ساتھ) عربی تلفظ ہے۔ عربی زبان کی طرح اُردو زبان میں بھی یہ لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اوپر جو معنی دیے گئے اُن معنوں کے علاوہ اَمُرکے معنی ہیں حُکم، ارشاد، فرمان یا وہ افعال جن کے کرنے کی تاکید پائی جائے۔ حکمیہ الفاظ بھی فعلِ امُر کہلاتے ہیں۔ مثلاً آؤ، جاؤ، کھاؤ اور نہاؤ وغیرہ۔

امر بالمعروف، سے تو سب ہی واقف ہیں۔ ہر شرعی حکم کو اَمُر، کہا جاتا ہے۔ امُر کی جمع اُمور، ہے، خواہ وہ شرعی اُمور، ہوں یا اُمورِ مملکت۔ "قتل کا بدلہ قتل" اللہ کا اَمُر، ہے۔ علامہ شبلی نعمانی کی نظم "عدلِ جہانگیری" پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ ملکہ نورجہاں کے ہاتھوں رعایا کے ایک آدمی کا قتل ہوجانے پر، مفتیِ دین کے فتوے کے مطابق، جب جہانگیر بادشاہ نے قصاص میں ملکہ نورجہاں کے قتل کا حکم صادر کردیا تو:

خدمتِ شاہ میں بیگم نے یہ بھیجا پیغام
خوں بہا بھی تو شریعت میں ہے اِک اَمُرِ حَسَن

مفتیِ شرع سے پھر شاہ نے فتویٰ پوچھا
بولے جائز ہے، رضا مند ہوں گر بچّہ و زن

آمِر، حکم دینے والے کو کہتے ہیں۔ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ آمر صرف اللہ ہے۔ حکم دینے کا حق اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ لہٰذا حاکم بھی فقط اللہ ہے۔ یعنی حکمرانِ حقیقی بس وہی ہے۔ اقبالؔ نے اپنی مشہور نظم "خضرِ راہ" میں "سلطنت" کے عنوان سے جس ٹکڑے میں جمہوریت، (عوام کے ذریعے سے، عوام کے لیے، عوام کے اوپر پر عوام کی حاکمیت)کے فلسفے کی دھجیاں اُڑائی ہیں، اُسی میں وہ کہتے ہیں:

سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اِک وہی، باقی بُتانِ آزری

سب پر حکم چلانے والے کو تو آمِر، کہتے ہیں، مگر بہت حکم چلانے والے یا زیادہ حکم چلانے والے کو اَمّار، کہا جاتا ہے۔ یہ مبالغے کا صیغہ ہے۔ اصطلاحاً بُرائی پر اُکسانے والے سرکش، ظالم کواَمّار، کہتے ہیں۔ اَمّار، کا مؤنث اَمّارہ، ہے۔ نفسِ انسانی بھی انسان کو بُرائی پر اُکساتا رہتا ہے۔ ایسے نفس کو نفسِ اَمّارہ، کہا جاتا ہے۔ جس نے نفسِ امارہ کو پکڑ کر مارا وہ بہت بہادر سمجھا گیا۔ شیخ ابراہیم ذوقؔ فرماتے ہیں:

بڑے موذی کو مارا نفسِ اَمّارہ کو گر مارا
نہنگ و اژدہا و شیرِ نر مارا تو کیا مارا

اللہ کے حکم یا اللہ کے اَمُر کا نفاذ کرنے کی ذمے داری مسلمانوں کی مشاورت سے جس بندے کو سونپی جائے وہ امیر، کہلاتا ہے اور اجتماعی سطح پر امُرِ الٰہی کے نفاذ کا پابند ہوجاتا ہے۔ سیدنا عمر فاروق ؓ، نے مومنین پر اللہ کےاَمُر، کے نفاذ کی بھاری ذمے داری قبول کی تو اپنے لیے خلیفۃ المسلمین، کی بجائے امیرالمومنین، کا لقب پسند کیا۔ یہی لقب بعد کو سیدنا عثمانؓ اور سیدنا علیؓ نے بھی اختیار کیا۔ گویا امیر، کا مطلب ہوا امر کا پابند اور امر، کے نفاذ کا پابند۔ خدا اور خلقِ خدا دونوں کو جواب دِہ۔ امیر، کی جمع اُمرا، ہے۔

ابتدائے عہدِ اسلام میں جس شخص کو امیر، مقرر کیا جاتا وہ اپنے آپ کو غریب رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ اُن اُمرا کی غربت خود اختیاری تھی۔ خود اختیاری یوں کہ وہ مال و دولت ہاتھ آتے ہی لوگوں میں تقسیم کردیا کرتے تھے۔ اپنے پاس ڈھیر نہیں لگنے دیتے تھے۔ ملوکیت کا زمانہ آیا تو مال و دولت کی ریل پیل ہوگئی۔ اُمرا دولت مند ہوگئے۔ شاید اسی وجہ سے اُردو میں لفظ امیر، دولت مند کے معنوں میں بھی استعمال ہونے لگا۔ غریب، نادار اور مفلس کی ضد بن گیا۔ اُردو میں امیروں، کا شمار دولت مندوں اور رئیسوں میں ہونے لگا۔ ویسے رئیس، کا لفظ بھی پہلے ریاست کے عہدے داروں ہی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اورامرا، سے مراد بھی طویل عرصے تک عمائدینِ سلطنت یا اراکینِ حکومت ہی لیے جاتے رہے۔ بعد کو امیر، اوراُمرا، کے معانی و مفاہیم یکسر تبدیل ہوگئے، تو اقبالؔ کو بھی خدا کی طرف سے یوں "جوابِ شکوہ" دینا پڑا:

اُمرا نشّۂ دولت میں ہیں غافل ہم سے
زندہ ہے ملّتِ بیضا غربا کے دم سے

دولت مند اور ثروت مند کے لیے گو اُردو میں امیر اور اُمرا کی اصطلاحات عام ہیں، تاہم عربی کی طرح اُردو میں بھی مال دار شخص یا مال دار اشخاص کے لیے غنی اور اغنیا کی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ غنی کا ایک مطلب بے نیاز اور بے پروا بھی ہے، لیکن بندوں میں بے پروائی اور بے نیازی عموماً زر و مال کی فراوانی اورآسودگی و آسودہ حالی ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ خال خال ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں جو فقر کو پسند اور اختیار کرکے زر و مالِ جہاں سے مستغنی ہوجاتے ہیں۔ ذوقؔ نے اپنے ایک شعر میں اِن دونوں مفاہیم سے کام لیا ہے:

دل فقر کی دولت سے مرا اتنا غنی ہے
دنیا کے زر و مال پہ میں تُف نہیں کرتا

تُف نہیں کرتے تو شاہانہ انداز سے چُف کردیا کریں۔ اگر بادشاہ کی بادشاہت چلتی ہے اور سُلطان کی سُلطنت، تو اسی طرح امیر کی اِمارت بھی چلتی ہے۔ خلیجی ریاستوں یا خلیجی اِمارتوں، کے ایک اتحاد کا نام "متحدہ عرب اِمارات" ہے۔ مگر اُمرائے اِمارات اب اس کو بڑی تیزی سے "متحدہ عرب عمارات" میں تبدیل کرتے جارہے ہیں۔ لفظ اِمارت، کو اگر جملے میں استعمال کرنا ہو تو یوں بھی کرسکتے ہیں کہ "امیر جماعت اسلامی پاکستان کی مدتِ امارت پانچ سال ہوتی ہے"۔

کیوں کہ ارکان کی مشاورت سے وہ منصبِ اِمارت پر پانچ ہی سال کے لیے مامور، کیے جاتے ہیں۔ کوئی امُر، کسی شخص کے سپرد کردیا جائے تو وہ شخص مامور، ہوجاتا ہے۔ اُردو میں مامور کرنے، کا مطلب مقرر کرنا، تعینات کرنا یا ذمے داری لگادینا لیا جاتا ہے۔ مثلاً: "ابونثرؔ کو خدا جانے کس نے اس قسم کے کالم لکھنے پر مامور کردیا ہے"۔

Check Also

Jawani Aur Taqve Ka Taluq

By Ayesha Batool