Wednesday, 07 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zubair Hafeez
  4. Baba Haider Zaman

Baba Haider Zaman

بابا حیدر زمان

بابا حیدر زمان ہزارہ کے انوکھے پیس تھے۔ پیشے کے سیاست دان تھے، عقائد کے سلفی، تکلم میں مولا جٹ، نشت میں کھردرے، برخاست میں ریشم، بولنے کے اتنے بولڈ کہ ایکسلیریٹر سے پاؤں اٹھائے بغیر کئی کئی دھوتیاں بغیر آسرے کے کھول کے رکھ دیتے۔

باباجی نے تحریک صوبہ ہزارہ کو ہوا دی اور وہ ہوا اتنی زور پکڑ گئی کہ ہمارے ہزارہ کے ٹھنڈے لوگ جنھیں نہ تو بھٹو جوش دلا پایا تھا، نہ ہی جمعیتِ، نہ جماعت اسلامی، نہ نواز شریف، حتی کہ عمران خان بھی ان کا کچھ بگاڑنے میں ناکام رہا یک دم بھڑک اٹھے ایسے بھڑکے کہ پورا ہزارہ ڈویژن شعلہِ جوالا بن گیا تھا، ہزارہ کے بڑے بڑے سیاسی ستون باوجود اختلاف کے بابا جی کے چرنوں میں بیٹھنے پر مجبور ہو گئے۔

مگر تحریک کو جانشین تھوڑے کمزور نصیب ہوئے مگر صوبہ ہزارہ کہ تحریک آج بھی ہزارہ کی مٹی میں ٹھنڈے ٹھار انگارے کی صورت "سلگ" رہی ہے۔

باباجی صوبہ ہزارہ کو الگ صوبہ بنانے کے بڑے دلچسپ جواز دیتے تھے مگر ان پر غالب پشاور میں ہزارے والوں سے برتا گیا تعصب تھا اور دوسرا صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے اس کو خیبر پختونخوا رکھنا تھا۔ جس سے بابا جی کے نزدیک ہزارہ کی شناخت اور پہچان پر سخت چوٹ پڑتی تھی۔

جھاری کس سے لے کر بابو سر ٹاپ تک پھیلے اتنے بڑے خطے کو صوبے کے نام میں نمائندگی نہ دینا بابا حیدر زمان کے نزدیک زیادتی تھی۔ میں ہزارے وال ضرور ہوں اور میں صوبہ ہزارہ سمیت ملک میں متعدد انتظامی یونٹ بنانے کے حق میں بھی ہوں یہ یونٹ ذات، زبان، نسل سے زیادہ انتظامی بنیادوں میں منقسم ہوں۔

بات ہزارہ کی ہو رہی تھی۔ بابا حیدر زمان کی اس تحریک کو بعد ازاں تنقید نگاروں نے مختلف رنگ دئیے، پختون احباب کی طرف سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ صوبہ ہزارہ کی تحریک پختونوں کو تقسیم کرنے کی پنجابی سازش ہے یہ خطہ پختونوں کا ہے۔

کسی دانشور نے صوبہ ہزارہ کے مدمقابل اباسین کا شوشہ بھی چھوڑا۔

یہ بات تو میں نے بھی پشاور میں محسوس کی ہے۔ وہاں ہزارے والوں کو "دا پنجابیان دے" ہی کہا جاتا ہے مگر ہمارا اعتراض اس تاریخی جواز پر جو خاصے پڑھے لکھے ہمارے پختون دوست بھی کر دیتے ہیں۔

میں یہ تحریر قومی تعصب کی بنیاد پر نہیں لکھ رہا۔ اگر ہزارہ کی تحریک پنجاب کی سازش ہے تو میں یہ عرض کرنا چاہوں گا پھر پشاور کے سب سے قدیم باشندے جنھوں نے پشاور کو آباد کیا تھا وہ ہندکو بولنے والے تھے مگر آج پشاور پشتون کلچر کی علامت ہے اسے کیا پھر پشتون سازش کہا جائے گا۔ ہرگز نہیں۔

میرے ایک خاصے مطالعہ والے پختون دوست نے ایک دفعہ کہا تھا۔ ہزارہ میں سردار قوم کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں بسایا گیا تھا تاکہ وہ پٹھانوں کے ساتھ سینگھ بسائے رکھے۔

میرا تو یہ سن کر فیوز اڑ گیا کہ ایک پی ایچ ڈی سکالر یہ بات کہہ رہا ہے۔

ہزارہ میں ایک سردار قوم آباد ہے، جو کڑلال قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بابا حیدر زمان بھی کڑلال تھے۔

میں عرض کروں گا مجھے سرداروں کا تو نہیں پتہ نہ ہی یہ بات تاریخی طور پر مستند ہے البتہ ایک اور "سازش" کا علم ہے جس کا ذکر قاسم فرشتہ نے تاریخ فرشتہ جلد اول صفحہ 83 پر کرتے ہوئے لکھا تھا۔

"لاہور کے راجہ نے افغانوں کو مسلمانوں خلاف رکاوٹ کے طور پر پشاور کے راستے میں آباد کیا"۔

پنجابی سازش کا مجھے علم نہیں مگر بطور تفنن افغانی سازش تو ریکارڈ کا حصہ۔ ریکارڈ کی درستگی کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ہزارہ کی سردار قوم نے سکھ حکومت کے خلاف کئی جنگیں لڑیں، ناڑہ ستوڑہ میں ہونے والی جنگ ناڑہ میں سردار قبیلے نے رنجیت سنگھ کی فوج کو شکشت دی تو رنجیت سنگھ کے جرنیل امر سنگھ تیجا کو پار لگا دیا۔ کیا سکھوں کی پر اکسی ایسی ہوتی ہے۔

یہ کردار تو تاریخی میں اہل ہزارہ کا تھا یہ الگ بات ہے انہی سکھوں سے لڑنے جب سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل جب پشاور پہنچے تو ان کے لشکر سے ہی وہاں کے پختونوں نے غداری کی تھی اور اپنے علاقوں سے باہر کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے لشکر کی مخبری سکھوں کو کرکے ان کو بالاکوٹ میں شہید کروانے کا سہرا جس کے سر ہے اس کا ریکارڈ بھی تاریخ میں موجود ہے۔

اور بھی یہ بھی موجود ہے۔

"الپتگین سے لڑنے کے لیے افغانوں نے مہاراجہ جے پال سے مدد مانگی تھی" (تاریخ فرشتہ جلد اول)

میں یہ اس لیئے نہیں لکھ رہا کہ میں کسی قومی تعصب کا شکار ہوں بلکہ اس لیے لکھ رہا ہوں تاریخی عصبیت سے پرے رہ کر ہم کچھ سوچ سکیں۔

یہ تو کہا جا سکتا ہے ابیٹ آباد کا نام بھی انگریز میجر کے نام پر ہے، ہریپور کا نام سکھ جرنیل ہری سنگھ نلوہ کے نام پر ہے اگر یہ نام منظور ہے جو غیر مسلم اور باہر کے لوگ تھے ان کے نام پر دو شہروں کے نام رکھنے پر اعتراض نہیں تو صوبہ سرحد سے پختونخوا کی تبدیلی کیوں تسلیم نہیں۔

اس لیے کہ ابیٹ آباد کا نام تبدیل نہیں کیا گیا تھا بلکہ ابیٹ آباد کو بنایا اور بسایا ہی جان ابیٹ نے تھا، وہ ایبٹ آباد کا معمار تھا، نہ کہ ابدالی کی طرح درے پار کرکے شہروں کے شہر تباہ برباد کر دیتا۔۔

Check Also

Sardiyoun Ki Chutiyan Hamari Taraf

By Yousra Shaykh