Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Zahra Javed
  4. Wo Log Jinhe Aap Rok Nahi Sakte

Wo Log Jinhe Aap Rok Nahi Sakte

وہ لوگ جنہیں آپ روک نہیں سکتے

کچھ لوگ واقعی کمال ہوتے ہیں۔ وہ بس یوں ہی زندگی میں آ جاتے ہیں۔ نہ کوئی جان پہچان، نہ کوئی خونی رشتہ، مگر پھر بھی وہ دل کی دعاؤں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ انسان خود بھی نہیں سمجھ پاتا کہ آخر ان کی موجودگی اتنی گہری کیوں محسوس ہوتی ہے۔

دل چاہتا ہے کہ ان سے بات کرے، انہیں جانے، ان کے قریب رہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ وہ ہماری زندگی میں چند لمحوں کے ہی ساتھی ہوتے ہیں اور یہ چند لمحے اتنے اثر انگیز ہوتے ہیں کہ انسان ان کے سحر سے نکل ہی نہیں پاتا۔ چاہے جسمانی طور پر وہ کہیں دور چلے جائیں، ذہن میں ان کی موجودگی باقی رہتی ہے۔

ان کی ہر بات یاد رہ جاتی ہے، خاص طور پر وہ باتیں جو انہیں دوسروں سے مختلف بناتی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ان کی ہر بات اچھی لگتی تھی، تو یہ غلط نہ ہوگا۔ وہ ایک ایسا تاثر چھوڑ جاتے ہیں جو وقت کے ساتھ کم نہیں ہوتا بلکہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔

انسان چاہتا ہے کہ وہ اس کی زندگی کا حصہ بن جائیں، مگر سچ یہ ہے کہ ہر کوئی ہماری زندگی کا مستقل حصہ نہیں بن سکتا۔ کچھ لوگوں کا کردار صرف تعارف تک محدود ہوتا ہے۔ ہماری خواہش انہیں ہمارے سفر کا مستقل ساتھی نہیں بنا سکتی۔

اس پر نہ زیادہ پریشان ہونا چاہیے اور نہ ہی غمگین۔ کیونکہ یہ لوگ ہمیں ایک ایسی سوچ سے روشناس کرواتے ہیں جس سے ہم پہلے واقف نہیں ہوتے۔ وہ ہماری فکر پر اثر انداز ہوتے ہیں اور پھر خاموشی سے چلے جاتے ہیں، بالکل ایک خواب کی طرح۔ مگر ایسا خواب جو پہلے حقیقت محسوس ہوتا ہے اور پھر یاد بن کر رہ جاتا ہے۔

ان کے جانے کا مقصد ہمیشہ واضح نہیں ہوتا، لیکن شاید کچھ لوگ ہماری زندگی میں آنے کے لیے ہی آتے ہیں، رہنے کے لیے نہیں۔ کیونکہ وہ لوگ جو واقعی ہمارے لیے ضروری ہوتے ہیں، وہ اپنی جگہ خود بنا لیتے ہیں، نہ کہ وہ جنہیں ہم زبردستی رکھنا چاہتے ہیں اور ان کا بھی کوئی قصور نہیں ہوتا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قدرت کا دستور انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔

Check Also

Operation Bunyan Ul Marsoos (4)

By Javed Chaudhry