Thursday, 04 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Syed
  4. Marilyn Monroe Ke So Saal: Bahut Khoobsurat Magar Tooti Phooti

Marilyn Monroe Ke So Saal: Bahut Khoobsurat Magar Tooti Phooti

میریلن منرو کے سو سال: بہت خوبصورت مگر ٹوٹی پھوٹی

کم کم شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی ذات کے اندر کامیڈی اور ٹریجڈی یوں آمیخت ہو جاتی ہیں کہ ایک کو دوسرے سے الگ کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ایسی ہی ایک شخصیت میریلن منرو کی ہے جو اگر زندہ ہوتیں تو کل پورے سو سال کی ہوگئی ہوتیں اور اسی سلسلے میں دنیا میں تقریبات منائی جا رہی ہیں۔

یتیم خانوں میں بچپن اور لڑکپن گزارنے، کارخانوں میں بطور مزدور کام کرنے، 16 سال کی عمر میں ایک ناکام شادی کرنے سے لے کر 20ویں صدی کی سب سے مشہور ماڈل، گلوبل سپر سٹار فیشن سمبل اور اداکارہ بننے اور صرف 36 سال کی عمر میں رخصت ہونے تک منرو ایک ہی جنم میں نہ جانے کتنی زندگیاں جی گئی۔

اس کی زندگی اتنی عجیب و غریب ہے کہ اگر اسے ہوبہو فلمایا جائے (مزے کی بات یہ ہے کہ اس پر درجن سے زیادہ فلمیں بن چکی ہیں) تو لوگ اعتراض کر بیٹھیں کہ فلمی مبالغہ ہے، اصل زندگی میں ایسا کہاں ہوتا ہے بھلا!

منرو کی خوبی یہ تھی کہ وہ جس سین میں نمودار ہوتی تھی، ایسا لگتا تھا جیسے سیٹ پر نصب تمام روشنیاں اس کی طرف سورج مکھی کی طرح مڑ گئی ہیں اور وہ سین کا مرکزی نکتہ بن جاتی تھی، چاہے اس کے ساتھ اور کتنے ہی اداکار کیوں نہ موجود ہوں۔

اس کے ساتھ کام کرنا انتہائی مشکل تھا۔ کتنی فلموں سے اسے نکالا گیا کہ وہ وقت پر نہیں آتی تھی، بلکہ اکثر تو آتی ہی نہیں تھی، آتی تو مکالمے بھول جاتی اور ایک سین درجنوں بار فلمانا پڑتا، ساتھی اداکار عاجز آ جاتے۔

منرو کے کیریئر کی غالباً سب سے بڑی فلم سم لائیک اٹ ہاٹ، ہے جس میں اس نے لیجنڈری ہدایت کار بلی وائیلڈر کو اتنا ٹف ٹائم کیا کہ کئی سین بدلنا پڑے۔ حتیٰ کہ فلم کا آخری آئیکونک سین بھی منرو کے سیٹ پر نہ آنے پر اس کے بغیر ہی فلمانا پڑا۔ یہ بات الگ یہ کہ وائیلڈر اتنا بڑا جینیئس تھا کہ اس نے منرو کے بغیر اس حالت میں بھی اس سین کو فلم کی جان بنا دیا ہے۔

لیکن منرو کے بھی اپنے مسائل تھے۔ متعدد جسمانی و ذہنی عوارض، نسیان کا مرض، قسما قسم کے نشے اس کی جان کو آئے ہوئے تھے، جو آخر آخر اس کی جان لے کر گئے۔

ایسا نہیں ہے کہ منرو اپنے حال سے بےخبر تھی۔ اس کا فقرہ مشہور ہے:

I can be smart when it matters, but most men dont like it

میں ضرورت پڑنے پر ذہین ہو سکتی ہوں، لیکن کیا کروں کہ اکثر مردوں کو یہ پسند نہیں آتا۔۔

یہ جملہ محض ایک شکایت نہیں، نوحہ ہے۔ زمانے کو عورت کی عقل نہیں، گلیمر درکار ہے۔

منرو کی ٹریجڈی یہ نہیں کہ وہ اندر سے دکھی تھی اور باہر سے خوبصورت۔ یہ تو ہزاروں لوگوں کی کہانی ہے۔ ان کی اصل ٹریجڈی یہ ہے کہ جو ان گھڑ پن، جو کرب، جو بےقراری اس کی جان کے درپے تھی، وہی اس کو اونچا بھی اڑا رہی تھی۔ وہ اپنی تباہی سے فرار نہیں ہو سکتی تھی، کیونکہ وہ خود اسی تباہی کی پیدہ کردہ تھی۔ اسی پر شمع کی گھسی پٹی مثال ذہن میں آتی ہے کہ خود گھل کر محفل کو روشنی دیتی ہے۔

مرنے کے ساٹھ سال بھی جب جب منرو کا چہرہ سامنے آتا ہے تو وہ صرف ایک خوبصورت چہرہ نہیں لگتا، وہ ایک نقاب لگتا ہے جس کے پیچھے ایک شخصیت موجود ہے جو روتے روتے ہنس رہی ہے اور ہنستے ہنستے رو رہی ہے اور یہ دونوں کام ایک ہی سانس میں کر رہی ہے۔

Check Also

Kya Waqai Ye 6 Dino Mein Bani Hai?

By Saleem Zaman