Kya Aap Zehni Tor Par Aik Sehat Mand Insan Hain?
کیا آپ ذہنی طور پر ایک صحت مند انسان ہیں؟

پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ابراہیم میسلو، سگمنڈ فرائڈ، کیرن ہارنی اور کارل راجر جیسے ماہرین نفسیات یہ سمجھنے کی کوششوں میں مصروف تھے کہ نفسیاتی اعتبار سے ایک مکمل صحت مند انسان کون ہے؟ تمام لوگوں نے اپنی اپنی تحقیق کے مطابق مختلف نظریات پیش کیے۔ سگمنڈ فرائڈ کا ذکر کرتے ہوئے ایرک ایرکسن کہتے تھے کہ فرائڈ کے نزدیک ایک صحتمند انسان وہ ہے "جو پیار کرسکتا ہے اور اپنا کام دلجمعی کے ساتھ کرتا ہے" گویا فرائڈ کے نزدیک اپنے ماحول اور اپنے اردگرد کے لوگوں سے پیار کرنے کی صلاحیت اور اپنے کام سے لگاؤ ایک صحتمند ذہن کی نشانی ہے۔
ابراہیم میسلو نے ذہنی طور پر صحت مند اور ابنارمل انسان کے درمیان فرق سمجھنے کے لئے مختلف ضروریات کی ایک فہرست ترتیب دی۔ مثلاً میسلو کے نزدیک کھانا، پینا، رہائش کا بندوست اور جنسی ضروریات انسان کی زندگی کا بنیادی جزو ہیں۔ اسی طرح پیار، ہمدرد دوست اور خدا سے تعلق بھی انسانوں کی اہم ضرورتیں ہیں۔ اگر فرد کی یہ تمام ضرورتیں پوری ہوتی رہیں تو وہ نارمل رویہ اختیار کیے رکھتا ہے وگرنہ نا آسودہ خواہشات اسے ابنارمل بنادیتی ہیں۔
کارل راجر کا ماننا تھا اگر انسان اپنی اندرونی صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے استعمال میں لائے تو وہ ایک مطمئن زندگی گزار سکتا ہے وگرنہ پاگل پن اسکی زندگی کا مقدر بن جاتا ہے۔ یہ سب لوگ اپنے وقت کے عظیم ماہرین نفسیات تھے۔ علم نفسیات کی عظیم الشان عمارت ان لوگوں کے "نظریات" پر کھڑی ہے لیکن اس کے باوجود ان کے نظریات کو تجرباتی شواہد کی بنیاد فراہم کرپانا مشکل تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ تحقیق کا دائرہ کار بڑھتا رہا اور ذہنی طور پر نارمل اور ابنارمل انسانوں کو جانچنے کا معیار بھی۔ تو آج کی تحقیق کے مطابق ذہنی طور پر صحت مند انسان کون ہے؟
چند سال پہلے Journal of Personality and Social Psychology میں Wiebke Bleidorn نے چند بڑے ماہرین نفسیات کے ہمراہ مل کر "ذہنی طور پر صحت مند انسان" میں پائی جانے والی نشانیوں کی ایک فہرست مرتب کی جسے ماہرین نفسیات کی ایک بڑی تعداد نہ صرف تسلیم کرتی ہے بلکہ فوربز، سائنٹفک امریکہ اور سائنس جیسی بڑی میگزینز نے بھی ان پر دھڑا دھڑ مضامین شائع کیے۔ یہ نشانیاں دراصل پازیٹو سائیکالوجی کی دین ہیں اور ان کو ماہرین نفسیات کسی بھی انسان کی زندگی کا بیحد اہم اثاثہ تصور کرتے ہیں۔ ہم یہاں پر تین خصوصیات/نشانیوں کا ذکر کریں گے۔
1- جذبات کے اظہار میں کھلاپن
ذہنی صحت کی پہلی نشانی یہ ہے کہ: ایسا انسان بغیر ہچکچاہٹ کے اپنے جذبات کا کھلم کھلا اظہار کرسکتا ہے۔ یہ لوگ جن سے محبت کرتے ہیں ان سے محبت کا اظہار کرنے میں کبھی لالچ سے کام نہیں لیتے۔ مشہور کتاب "مرنے والوں کے 5 پچھتاوے" کی مصنفہ لکھتی ہیں وہ لوگ جو زندگی کی آخری سانسیں چن رہے تھے انھیں اس بات کا شدید پچھتاوا تھا کہ کاش ہم نے اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا ہوتا۔ دبے جذبات اور ناآسودہ خواہشات انسان کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹتی ہیں۔
2- مثبت جذبات کے حامل
یہ لوگ مثبت جذبات کے حامل ہوتے ہیں۔ منفی جذبات ہم سب کی زندگیوں کا لازمی جزو ہیں۔ برے حالات اور برا وقت ہم سب کو روند کر رکھ دیتا ہے تاہم صورتحال جو بھی ہو ہمارے پاس اختیار کا آپشن ہمیشہ محفوظ ہوتا ہے اور ذہنی طور پر صحت مند لوگ ہمیشہ صحت مند فیصلے لیتے ہیں اور یہ یاد رکھیں ماہرین نفسیات کے نزدیک ایک صحتمندانہ فیصلہ منفی جذبات کے زیر اثر اندھیرے میں کالی بلی تلاش کرنے جیسا ہے۔
3- مسائل سے ابھرنے کی قابلیت
ان میں ہمیشہ مسائل سے نمٹنے اور مصیبت سے ابھرنے کی قابلیت موجود ہوتی ہے۔ ذہنی طور پر بیمار انسان دراصل بیمار ہی اس لئے ہوتا کہ وہ زندگی کی الجھنوں میں بری طرح پھنس چکا ہوتا ہے۔ ایسا انسان مدد کے لئے ایک ماہر نفسیات کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ وہ لوگ جو ذہنی طور پر صحت مند ہیں وہ صحت مند ہی اس لئے ہیں کہ وہ دلدل سے ہر مرتبہ باہر نکل آتے ہیں۔ تبت کے لوگوں ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ آپ زندگی کی ہر چیز سے محروم ہو کر بھی زندہ رہ سکتے ہیں لیکن جس دن آپ مایوس ہو جاتے ہیں وہ دن آپ کی موت کا دن ہوتا ہے۔ مایوسی موت ہے۔ امید قائم رہے تو انسان بحرانوں سے باہر نکل ہی آتا ہے۔
اس کے علاؤہ یہ لوگ غصہ آنے پر بے قابو نہیں ہوتے۔ ان میں اینگزائٹی اور ڈپریشن کی علامتیں بھی انتہائی کم ہوتی ہیں۔
یہ سب ذہنی صحت کو جانچنے کی علامتیں ہیں۔ عین ممکن ہیں بیشمار لوگوں میں یہ خصوصیات موجود نہ ہوں مگر اس کے باوجود وہ انتہائی مطمئن اور آسودہ حال ملیں لیکن ایسے لوگ کتنے ہوں گے؟ کتنے لوگ ہیں جو منفی جذبات، مایوسی اور غصہ ناک پر لیے خوش حال رہ سکتے ہیں؟ یہ ایک مشکل سی بات ہے۔ ذہنی طور پر صحت مندانہ رویے مضبوط معاشی ملکوں میں ابھرتے ہیں۔ تحفظ کا احساس اور بہتر مستقبل کی ضمانت انسانوں کو مثبت انداز میں آگے بڑھائے رکھتی ہیں وگرنہ بے چینی اور بے یقینی کی فضاء میں، خوف اور دہشت پنپنے لگتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت قریباً 8 کروڑ لوگ کسی نہ کسی نفسیاتی بحران کا شکار ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ ایک خوشگوار ذہنی اور جسمانی زندگی گزاریں تو ہمیں اپنے معاشی اور ملکی مسائل کو جڑ سے سمجھنا اور حل کرنا ہوگا۔

