Dissociative Identity Disorder (1)
ڈسوسی ایشن آئیڈنٹیٹی ڈس آرڈر (1)

1623۔ اٹلی کا ایک کانوینٹ۔ راہبہ سسٹر بینی ڈیٹا اپنے بستر پر لیٹی ہے۔ وہ اچانک اٹھتی ہے۔ اس کی آواز بدل جاتی ہے۔ ایک مختلف لہجہ، ایک مختلف لحن، ایک مختلف چال چلن۔ اب وہ خود کو "لوکا" کہتی ہے۔ ایک نو سالہ لڑکا۔ اس کا چہرہ مختلف ہے، اس کی چال مختلف ہے، اس کی آواز مختلف ہے۔ پھر کچھ دیر بعد وہ پھر بدل جاتی ہے۔ اب وہ "اسپیرٹو" ہے، ایک اور ہستی، ایک اور لہجہ۔ کانوینٹ کی دوسری راہبائیں خوف سے کانپ رہی ہیں۔ چرچ کے بڑے آتے ہیں، بائبل پڑھتے ہیں، صلیب اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں: شیطان نے اس پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے اندر تین شیاطین ہیں۔
یہ سلسلہ ہفتوں چلتا رہا۔ راہبہ کبھی خود کو نوچتی، کبھی بھوک ہڑتال، کبھی کسی اور کی زبان میں بولتی۔ ایسی زبان جو اس نے کبھی سیکھی ہی نہیں تھی مگر یہ شیطان نہیں تھا۔ یہ بینی ڈیٹا کا اپنا دماغ تھا۔ ٹوٹا ہوا، زخمی، بچپن کے ناقابلِ برداشت صدمے سے بکھرا ہوا جس نے بقا کا ایک خوفناک راستہ نکالا تھا: اپنے آپ کو کئی حصوں میں تقسیم کر لو۔ سب سے تکلیف دہ حصے کو کہیں دور بند کر دو اور باقی حصے مل کر زندگی گزار لیں۔ یہ نہ جن تھا، نہ شیطان یہ وہ بیماری تھی جسے آج سائنس "انتشارِ شخصیت" یعنی DID کہتی ہے اور یہ کہانی 1623 کی ہے مگر اس کے بعد سے آج تک، دنیا بھر میں، یہی غلطی بار بار ہوئی ہے۔
بینی ڈیٹا سے بھی پہلے 1584 میں فرانس میں ایک پچیس سالہ ڈومینیکن راہبہ "جین فیری" کا ذکر ملتا ہے۔ وہ خود کو نوچتی، دیواروں پہ سر مارتی، کبھی کہتی "میں میری میگڈلین ہوں"، کبھی کہتی "میں ایک بدروح ہوں"۔ اسے مقدس نہروں میں ڈبویا گیا، اسے کوڑے مارے گئے۔ سب کہتے رہے: بھوت ہے، جادو ہے، شیطان ہے۔ تین سو سال بعد 1886 میں فرانسیسی اعصابی ماہر ڈاکٹر دیزیرے بورنویل نے اس کی یادداشتیں پڑھیں اور کہا: یہ کوئی بھوت نہیں تھا، یہ ایک بیماری تھی۔ یہ وہ پہلا لمحہ تھا جب طب نے اس بیماری کو اپنا نام دیا اور پھر 1882 میں آیا پہلا باقاعدہ مریض: "لوئی آگوست وایوے"۔ ایک فرانسیسی جوان جسے بچپن میں بہت مارا گیا تھا، بہت نظرانداز کیا گیا تھا۔ سترہ سال کی عمر میں سانپ نے کاٹا اور وہ زندگی بھر کے لیے بدل گیا۔ جب اسے ہوش آیا تب نہ ڈاکٹر یاد تھے، نہ مریض، نہ ایک مہینہ۔ ڈاکٹروں نے تحریر کیا: یہ شخص کبھی کوئی اور ہوتا ہے، کبھی کوئی اور۔ پہلی بار سائنس نے اس بیماری کو نام دیا: "ڈبل پرسنالٹی"۔
پھر آئی "ایو" کرسٹین سائزمور جس کے اوپر 1957 میں کتاب لکھی گئی "The Three Faces of Eve"۔ تین شخصیات: ایو وائٹ، ایو بلیک اور جین۔ جو باری باری ایک ہی جسم میں رہتی تھیں۔ یہ پہلا ایسا مقدمہ تھا جس نے دنیا کو چونکایا۔ اخبارات کی زینت بنا، اس پر فلم بنی اور لوگ دنگ رہ گئے۔ مگر سب سے بڑی اور سب سے تکلیف دہ کہانی آئی 1973 میں "سیبل"۔ سولہ شخصیات، گیارہ سال کا علاج اور ایک کتاب جس نے پوری دنیا کو ہلا دیا۔ بعد میں تحقیق نے کہا کہ سیبل کی کچھ باتیں مبالغہ آمیز تھیں مگر بیماری حقیقی تھی، اس میں کوئی شک نہیں۔ ذرا سوچ کر دیکھیں۔ ایک شخص کے اندر سولہ مختلف لوگ۔
DID کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ بیماری آتی کہاں سے ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ نوے فیصد سے زیادہ مریضوں نے بچپن میں شدید صدمہ، بار بار کا جسمانی، جنسی یا جذباتی تشدد برداشت کیا ہوتا ہے، اکثر پانچ سال کی عمر سے پہلے۔ بچے کا دماغ ابھی ایک نہیں بنا ہوتا وہ ٹکڑوں میں سوچتا ہے، ٹکڑوں میں محسوس کرتا ہے۔ جب تکلیف اتنی زیادہ ہو کہ برداشت نہ ہو تو دماغ ایک انقلابی حل نکالتا ہے: اس تکلیف کو ایک الگ خانے میں بند کر دو اور خود آگے بڑھ جاؤ۔ یہ خانہ بند ہو جاتا ہے مگر ختم نہیں ہوتا۔ اس خانے کی اپنی یادیں ہوتی ہیں، اپنا نام ہوتا ہے، اپنا برتاؤ ہوتا ہے۔ سائنس اسے "alter" یعنی "متبادل شخصیت" کہتی ہے۔
ایف ایم آر آئی اسکین ہمیں کچھ ایسا دکھاتے ہیں جو ماہرین کی سانسیں روک دیتا ہے: جب کسی مریض کی ایک شخصیت سرگرم ہوتی ہے تو دماغ کی خون کی روانی مختلف ہوتی ہے اور جب دوسری شخصیت آتی ہے تو یہ خون کی روانی کا یہ نمونہ بدل جاتا ہے۔ یعنی یہ کوئی ڈرامہ نہیں دماغ حقیقت میں، جسمانی طور پر بدل رہا ہوتا ہے۔ ہپوکیمپس اور امیگڈالا جو یادداشت اور جذبات کے مرکز ہیں۔ DID کے مریضوں میں سکڑے ہوئے پائے گئے۔ یہ وہی سکڑاؤ ہے جو PTSD میں ہوتا ہے مگر یہاں کہیں زیادہ شدید اور وہ "alter" کا کیا ہوتا ہے؟ ہر alter کی اپنی عمر ہو سکتی ہے، اپنی جنس، اپنا نام، اپنی یادیں، اپنی آواز، اپنا لہجہ، یہاں تک کہ اپنی بینائی کا نقص بھی۔ تحقیق میں ایسے مریض ملے جن کی ایک شخصیت کو چشمہ درکار تھا، دوسری کو نہیں اور یہ نظر کا فرق آنکھوں کی طبی جانچ میں ثابت ہوا۔ ایک شخصیت دائیں ہاتھ سے لکھتی ہے، دوسری بائیں سے۔ ایک انگریزی جانتی ہے، دوسری نہیں۔ یہ سب ایک ہی دماغ میں۔ ایک ہی کھوپڑی کے اندر ہوتا ہے۔
ڈاکٹر روتھ لینیئس نے ایک تجربے میں DID کی مریضہ کا fMRI کیا۔ تکلیف دہ یادیں پڑھی گئیں لیکن جب دوسری مریضوں کا دل تیز دھڑکنا چاہیے تھا، اس کا دھڑکنا کم ہوگیا۔ وہ سُن ہوگئی، بے حس ہوگئی، جسم سے باہر چلی گئی کیونکہ دماغ نے خود کو بند کر لیا۔ یہ DID کی سب سے بڑی سائنسی سچائی ہے: یہ بیماری درد سے بچنے کا راستہ ہے مگر راستہ اتنا الجھا ہوا ہوگیا کہ خود مریض کو نہیں معلوم وہ کہاں ہے۔
پاکستان میں جب کوئی شخص اچانک مختلف آواز میں بولنے لگے، جب اسے اپنا وقت یاد نہ رہے، جب وہ ایک لمحے میں ایک اور شخص بن جائے تو سب سے پہلی آواز آتی ہے: "اس پر جن آیا ہے"۔ عامل بلایا جاتا ہے، دم کیا جاتا ہے، تعویذ لکھا جاتا ہے، آگ سے دھونی دی جاتی ہے اور بعض اوقات مریض کو اتنا مارا جاتا ہے کہ "جن نکل جائے"۔
سائنس اس کا کیا جواب دیتی ہے؟ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ DID کی علامات واقعی اتنی عجیب ہوتی ہیں کہ کوئی بھی سوچ میں پڑ جائے مختلف آواز، مختلف زبان، بھولی ہوئی باتیں، اجنبی رویہ۔ یہ علامات ڈراؤنی ہیں مگر ان کا جواب دماغ میں ہے، روحانی دنیا میں نہیں۔ 1623 میں جب سسٹر بینی ڈیٹا کے اندر "لوکا" آتا تھا تو وہ نو سال کی عمر کے بچے کی زبان میں بول رہا ہوتاتھا۔ اتفاقاً وہی عمر جس میں بینی ڈیٹا کے باپ کا انتقال ہوا تھا اور اسے کانونٹ بھیج دیا گیا تھا۔ یہ "جن" نہیں تھا یہ اس کا وہ حصہ تھا جو اس صدمے میں پھنسا رہ گیا تھا۔
پاکستان میں "جنات کا اثر" کہہ کر جو کچھ کیا جاتا ہے وہ اکثر مریض کی حالت مزید خراب کرتا ہے کیونکہ مار سے صدمہ کم نہیں ہوتا، بلکہ اور گہرا ہو جاتا ہے اور DID کی بنیاد ہی صدمہ ہے۔ مزید صدمہ مزید شخصیات بنا سکتا ہے، کم نہیں کر سکتا۔ یہ الزام نہیں یہ سائنسی حقیقت ہے۔ وہ بزرگ جو واقعی مدد کرنا چاہتا ہے وہ مریض کو ڈاکٹر تک پہنچائے کیونکہ یہی اس کی روح اور جسم دونوں کی مدد ہے۔
اور وہ لوگ جو کہتے ہیں "مجھ میں جن آیا تھا" یا "مجھے چڑیل نے چھوا" ان میں سے بہت سے لوگ DID یا دوسرے dissociative disorders کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وہ جھوٹ نہیں بول رہے وہ سچ کہہ رہے ہیں جیسا انہوں نے محسوس کیا۔ ان کی زبان میں "جن" ہے سائنس کی زبان میں "alter" ہے۔ دونوں اسی ایک تجربے کو بیان کر رہے ہیں: کوئی اور میرے جسم میں آگیا۔ فرق صرف تشریح کا ہے اور تشریح یہ طے کرتی ہے کہ علاج ہوگا یا اور صدمہ ملے گا۔
جاری ہے۔۔

