Thursday, 01 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Toqeer Bhumla
  4. Naya Saal Aik Alamati Lamha

Naya Saal Aik Alamati Lamha

نیا سال ایک علامتی لمحہ

انسان اپنی زندگی کسی طے شدہ منصوبے کے تحت نہیں جیتا۔ زیادہ تر حالات اور واقعات کے دباؤ میں وہ اپنی سمت بدلتا رہتا ہے، اسی لیے اس کی زندگی میں مستقل مزاجی کم اور حالات کے جبر سے مطابقت زیادہ ہوتی ہے۔ نہ عادتیں مستقل رہتی ہیں، نہ رویّے اور نہ ہی وہ سچ جنہیں وہ کسی ایک مرحلے پر قطعی سمجھتا ہے۔ جھوٹ بھی کسی ایک صورت میں قائم نہیں رہتا، وہ ضرورت کے مطابق ڈھلتا بدلتا جاتا ہے۔ محبت اور نفرت اخلاقی اصولوں سے زیادہ حالات کے تابع جذبات ہیں، جو موقع، خوف، فائدے اور نقصان کے ساتھ اپنی شکل بدلتے رہتے ہیں۔

زندگی دراصل منصوبہ بندی سے نہیں بلکہ حالات کے بہاؤ سے چلتی ہے۔ یہ بہاؤ کبھی ہمیں آگے لے جاتا ہے، کبھی پیچھے دھکیل دیتا ہے اور اکثر ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں انتخاب محدود اور مجبوری غالب ہوتی ہے۔ انسان ان لمحوں میں جو فیصلے کرتا ہے، وہ بعد میں عقل، بصیرت یا اصولوں کے نام سے بیان کیے جاتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ حالات کے ساتھ ایک سمجھوتہ ہوتے ہیں۔ ہم کم ہی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اکثر فیصلے ہماری مرضی کے نہیں، ہماری گنجائش کے مطابق ہوتے ہیں۔

یہ تصور کہ انسان اپنی زندگی واضح سوچ، مضبوط ارادے یا طے شدہ ریزولوشنز کے ذریعے بسر کرتا ہے، ایک پرکشش مگر غیر حقیقی تصور ہے۔ ہماری سوچ زیادہ تر فیصلوں کے بعد وجود میں آتی ہے، پہلے نہیں۔ ہم جینے کے بعد اپنے جینے کی توجیہہ ترتیب دیتے ہیں تاکہ ہم دوسروں سے کم بیوقوف سمجھے جائیں اور زندگی بے ربط نہ لگے۔ اس ترتیب کو ہم شعور کہتے ہیں، حالانکہ یہ اکثر محض بے ترتیبی کو قابلِ قبول بنانے کی ایک کوشش ہوتی ہے۔

نیا سال اس حقیقت کو نہ بدلتا ہے اور نہ اس میں کوئی اضافہ کرتا ہے۔ یہ صرف ایک اجتماعی وقفہ فراہم کرتا ہے، ایک علامتی لمحہ، جس میں انسان کو یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ اب وہ سب کچھ نئے سرے سے طے کر سکتا ہے۔ مگر اگلا دن بھی انہی غیر یقینی حالات، انہی دباؤ اور انہی حدود کے ساتھ آتا ہے جن میں وہ پہلے بھی جیتا رہا ہے۔ تاریخ بدلتی ہے، فطرتِ زندگی نہیں۔

جو شخص اس حقیقت اور تسلسل کو سمجھ لیتا ہے، وہ زندگی کو کنٹرول کرنے کے فریب سے آزاد ہو جاتا ہے۔ وہ بڑے دعوے نہیں کرتا، بلند منصوبوں کے سہارے اپنی حقیقت چھپانے کی کوشش نہیں کرتا اور ہر نتیجے کی وضاحت دینے کا بوجھ اپنے سر نہیں لیتا۔ وہ جان لیتا ہے کہ انسان زندگی کو نہیں چلاتا، زندگی انسان کو چلاتی ہے۔ شعور کا اصل کام یہ ہے کہ ہم اس بہاؤ کو پہچانیں، اپنے امکانات کے مطابق عمل کریں اور غیر ضروری خود فریبی سے بچیں۔ یہی فہم انسان کو زیادہ سچا اور محتاط بناتا ہے اور یہی حقیقت پر مبنی بالغ فہم ہے۔

Check Also

Fyodor Konyukhov Ki Kahani

By Muhammad Idrees Abbasi