Gen Z Ke Bechare Waldain
جین زی کے بیچارے والدین

دنیا اتنی تیز رفتار ہوتی جا رہی ہے کہ جین زی کے والدین اس دوڑ میں بھاگتے بھاگتے ہانپ چکے ہیں۔ یہ معصوم والدین جہاں سانس لینے کے لیے رکتے ہیں۔۔ جین زی بچے میلوں دُور پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ یہ بیچارے پھر ان تک پہنچنے کے لیے بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔
اندازہ کریں ان والدین نے پہلے کمپیوٹر سیکھا۔ بڑی بڑی فلاپی کو سی پی یو میں ڈال کر کمپیوٹر چلاتے اور سوچتے ہم جدیدیت کے ساتھ چل رہے ہیں۔ ہم پرانی نسل اور پینڈو نہیں ہیں۔ مگر یہ خوشی عارضی تھی۔ لیپ ٹاپ آ گیا اور پھر فور جی انٹرنیٹ نے ایسا گھمایا کہ ہوش ہی گم کر دیئے۔
موبائل فون پہلے تو پہنچ سے باہر تھا۔ پھر جب خریدا تو مہنگے پیکیجز کروا کے غریب ہو گئے۔ اچھا بھلا 3310 تھا۔۔ یہ اسمارٹ فون کہاں سے آگیا؟
اتنی ایپس کے خدا کی پناہ۔۔ جین زی تو کورس کی کتابیں مشکل سے پڑھتے ہیں۔ اب تو بالکل ہی ہاتھ سے نکل گئے۔ سو مرتبہ سمجھا لو، کتاب کی اہمیت پر لیکچر دے لو۔۔ وہ سر ہلا کر سنتے ہیں۔ پھر موبائل پکڑ لیتے ہیں۔۔ گلہ کرنے پر کہتے ہیں۔ ہم موبائل کے ذریعے کتاب پڑھ لیتے ہیں۔۔ اتنی بھاری بھرکم کتاب کون اٹھائے؟
اسمارٹ فون کی سب سے بڑی مصیبت سب کے اپنے پاسورڈ اور تھمب امپریشن لاک۔۔ اب والدین جب فون پکڑیں تو جین زی پوچھتے ہیں۔ کیا کام ہے؟ کیا دیکھنا ہے؟ بلکہ کیوں دیکھنا ہے؟ اور والدین جب خود پاسورڈ لگا کر اپنا فون لاک کریں تو سب سے پہلے پوچھتے ہیں آپ کے فون کا پاسورڈ کیا ہے؟
جین زی کو جب کسی بھی مسئلے پر والدین سمجھانے کی کوشش کریں تو یہ سب سے موبائل کھول کر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ کہیں ہم سے غلط بیانی تو نہیں ہو رہی؟
ہمارے والدین کہتے تھے زیادہ بولے تو چھری سے زبان کاٹ دیں گے۔ یقین مانئیے ڈر کے مارے کئی گھنٹے چپ رہتے۔ کئی دنوں تک دھمکی دینے والے والد یا والدہ کے سامنے نہیں آتے اور یہی دھمکی جب جین زی کو دی جائے تو وہ ایسے ہنستے ہیں جیسے کہہ رہے ہو پاگل سمجھا ہوا ہے ایسے ہو ہی نہیں سکتا۔
آج کل ہر طرف جنگی ماحول ہے۔ ہر ملک دوسرے ملک پر حملے کر رہا ہے۔ مگر مجال ہے کہ جین زی کو کوئی گبھراہٹ یا پریشانی ہو۔ بڑے اطمینان سے پوچھتے ہیں کتنے حملے ہوئے اور کس ملک نے دوسرے کس ملک پر حملہ کیا؟ اور پھر لیپ ٹاپ یا موبائل میں سر دے کر بیٹھ جاتے ہیں۔
مجھے لگتا ہے کہ حکمرانوں پر یا ان کی پالیسیز پر تنقید کرکے سر کھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔ کیوں کہ مستقبل میں ان کی سب سے بڑی سزا جین زی پر حکومت کرنا ہے۔ کیوں یہ نعرے لگانا تو دور کی بات شاید کسی جلسے میں بھی نہیں جائیں گے۔
یہ آن لائن جلسہ اٹینڈ کرکے ووٹ بھی آن۔ لائن ڈالیں گے اور پالیسیز پر تنقید تو تب ہی کریں گے جب پالیسیز کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے اور حکمران بھی عام عوام کو روزگار یا، رہائش کی بجائے فری انٹرنیٹ، بسنت اور فری پارٹیوں کے خواب دکھائیں گے اور اسی بنا پر ووٹ حاصل کریں گے۔۔
رہی دین اسلام کی بات اس کے لیے مولوی حضرات ہیں نا۔۔ یا بچے کچے والدین سے سنی باتیں۔۔ یا ماڈرن علماء اکرام کے جدید فتوے۔۔ یہ سب کچھ مل ملا کر کنفیوژ مسلمان کہلائیں گے۔۔
ہم تو صرف دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جین زی کو ہدایت عطا فرمائے۔

