Insan Khasare Mein Hai
انسان خسارے میں ہے

لاکھوں کروڑوں درود و سلام آپ سرکار ﷺ کی ذاتِ اقدس پر۔
قران پاک میں ارشاد ہے، (قسم ہے زمانے کی کہ انسان خسارے میں ہیں) سورہ العصر، اگر انسان خسارے میں ہے تو تم انسان بن کیوں جاتے ہو، جبکہ تمہیں اللہ تعالی نے پیدا فرمایا ہے فطرت پر۔ جب ایک انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ دینِ فطرت پہ پیدا ہوتا ہے۔ خیر اور شر کی پہچان اُس کے وجود میں ودیعت کر دی جاتی ہے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا ہے وہ اپنے اندر کے انسان ہونے کے خصائص بڑھاتا چلا جاتا ہے۔
ایک معصوم بچہ بالکل ایک چڑیا کی مانند ہوتا ہے۔ جب بھوک لگتی ہے روتا ہے، دودھ ملنے پر چپ کر جاتا ہے، چڑیا بھی جب صبح اپنے دانے دنکے کے لیے نکلتی ہے تو اس کو دوسرے دن کی فکر نہیں ہوتی۔ اسی طرح بچے کو بھی اگلی بھوک کی فکر نہیں ہوتی، فطرت اُس کی ماں میں جذبہء محبت پیدا کر دیتی ہے جو اس کی خوراک اور دیکھ بھال کی ذمہ دار ٹھہرتی ہے۔ گویا اس کا رونا ایک فطری عمل ہے، جب اُس کا جسم بھوکا ہوتا ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے اُس کے اندر تکبر، خود پسندی، عناد، نفرت، جھوٹ، بغض در آتے ہیں اور وہ انسان بننے کے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے اور پھر بنتا ہی چلا جاتا ہے۔
انسان بننے کے بعد اُس میں دولت کی بھوک اور لالچ در آتی ہے اور وہ دوسری دنیا کے ساتھ پیسے کی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ فطرت اور معصومیت جس کے ساتھ اُس کو اللہ تبارک و تعالی نے پیدا کیا ہے وہ کہیں دور اُس کے وجود کے اندر دب کے رہ جاتی ہے اور وہ اپنے اوپر غلاف در غلاف چڑھاتا جاتا ہے۔ اصل انسان تو اُس کے اندر کہیں دفن ہو کے رہ جاتا ہے، جس کو کریدنے کی ضرورت ہے کھوجنے کی ضرورت ہے تاکہ انسان کا اصل یعنی اندر کا اندر سامنے آئے، خود شناسائی کی منزل نصیب ہو، جس کے ساتھ اُس کو پیدا فرمایا گیا ہے۔
اشفاق احمد صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ وہ اپنے مرشد سے ملنے گئے اُن کے آستانے پر، پاس ہی قبرستان بھی تھا قبرستان میں قبروں کو دیکھتے ہوئے اُن کی نظر ایک قبر پر پڑی، آپ نے مرشد سرکار سے پوچھا کہ جناب اِس شخص کی عمر کیا تھی مرشد نے فرمایا کہ دو سال، آپ نے جب کتبہ پڑھا تو اُس کے مطابق اُس کی عمر 59 برس بنتی تھی، آپ نے مرشد سرکار سے فرمایا کہ جناب مجھے لگتا ہے کہ کاتب کوئی غلطی کر گیا ہے تاریخ پیدائش درج کرتے ہوئے غلط تاریخ لکھ دی گئی ہے۔ مرشد نے فرمایا کہ نہیں اِس کی دنیاوی عمر تو 59 سال ہی ہے۔ لیکن اس کی اصل عمر دو سال ہے جب یہ پیدا ہوا تو ایک معصوم بچہ تھا، دو سال کا ہوا تو اس کو تھوڑا ہوش آنا شروع ہوا، جب اُس کی خالہ اور پھوپھو اُس کو دیکھنے آئی اُس سے ملنے آئی تو بچے کو دیکھ کر کہنے لگی کتنا خوبصورت بچہ ہے، اِس کی آنکھیں کتنی خوبصورت ہیں۔ یہ وہ دن تھا جس دن اُس کے اندر خود پسندی اور تکبر کا وجود در آیا تو اشفاق میاں اصل عمر تو اس کی دو سال ہی ہوئی نا، باقی ساری عمر تو تکبر غرور اور جھوٹ کے سہارے گزر گئی۔
اشفاق صاحب فرماتے ہیں کہ یہ بات سن کے میں بے جان سا ہو کے وہیں بیٹھ گیا میرے پاس بولنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔
آپ انسان کیوں بنتے چلے جاتے ہیں یہ تو سراسر نقصان کا سودا ہے آپ اللہ تبارک و تعالی کی دی ہوئی فطرت سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اللہ ہر پیدا ہونے والے بچے کو اسلام کی فطرت پر پیدا کرتا ہے پھر اُس کے سرپرست اُس کو اپنے عقیدے پر لے جاتے ہیں۔ احسن تقویم اور دین کی فطرت یہ ہے کہ تو اپنے رب کی صفات کو اپنا کیونکہ اِس نے آدم کو اپنی صفت اور صورت میں پیدا کیا ہے تو اُس کی صورت بن اور یہ خسارے سے نکل یہی تو تیرا ایمان ہوگا جب تو اس بات کی معرفت کو پہنچے گا۔
ہم تو وہ نہیں ہیں جس فطرت پہ ہمیں پیدا فرمایا گیا ہے۔ روز قیامت رب تعالی ہم سے پوچھیں گے مجھے وہی انسان واپس کرو جس کو میں نے دنیا میں بھیجا تھا، تم تو اور کوئی ہو وہ نہیں ہو۔ جنت و دوزخ اور سزا ہو جزا بھی اِس لیے ہے کہ انسان کو واپس دینِ فطرت پر لایا جائے۔ تاکہ وہ اللہ تعالی کی مشیت اور معرفت کو سمجھ سکے اور پہچان سکے۔
اللہ تعالی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

