Monday, 02 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Akhtar Sardar Chaudhry
  4. Bain Ul Aqwami Youm e Shehri Difa 1 March

Bain Ul Aqwami Youm e Shehri Difa 1 March

بین الاقوامی یومِ شہری دفاع یکم مارچ

ہر سال یکم مارچ کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل سول ڈیفنس آرگنائزیشن (ICDO) کے زیر اہتمام بین الاقوامی یومِ شہری دفاع منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد عوام میں ہنگامی حالات سے نمٹنے، قدرتی و انسانی آفات سے تحفظ اور ابتدائی طبی امداد کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔ یہ دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی فوجی قوت نہیں، بلکہ اس کے باشعور، تربیت یافتہ اور ذمہ دار شہری بھی ہوتے ہیں۔

پاکستان اپنے قیام سے لے کر اب تک مختلف داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے۔ قدرتی آفات جیسے سیلاب اور زلزلے، دہشت گردی کے حملے جن میں سکول، مساجد، بازار اور دیگر مقامات نشانہ بنے اور سرحدی کشیدگی، خاص طور پر ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ ماضی کی جنگیں اور لائن آف کنٹرول پر جاری تنازعات نے ملک کو بار بار آزمایا ہے۔ ایسے حالات میں افواجِ پاکستان ہماری پہلی دفاعی لائن ہیں اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ تاہم، جدید دور میں دفاعِ وطن صرف فوج کی ذمہ داری نہیں رہا، ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی بنیادی تربیت حاصل کرے۔

شہری دفاع ایک منظم نظام ہے جو عام افراد کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ناگہانی حالات میں گھبراہٹ کے بجائے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ آگ لگنے کی صورت میں ابتدائی بجھانے کے طریقے، بے ہوش شخص کو کیا کرنا چاہیے، پانی میں ڈوبنے والے کی بچاؤ کی تکنیک، سانپ یا جانور کے کاٹنے پر فوری امداد، زلزلے یا دھماکے کے بعد محفوظ مقام اختیار کرنا، یہ تمام مہارتیں شہری دفاع کی تربیت کا لازمی حصہ ہیں۔ اکثر اوقات حادثے کے ابتدائی چند منٹ ہی فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں، درست اور بروقت اقدام سے قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

شہری دفاع کے عالمی تصور کی بنیاد فرانسیسی سرجن جنرل Georges Saint. Paulنے 1931ء میں رکھی، جب انہوں نے "ایسوسی ایشن آف جنیوا زونز" قائم کی۔ 1958ء میں اسے انٹرنیشنل سول ڈیفنس آرگنائزیشن کا نام دیا گیا اور 1 مارچ 1972ء کو اس کا آئین نافذ ہوا۔ اسی مناسبت سے یکم مارچ کو عالمی یومِ شہری دفاع کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ تمام ممالک اپنے شہریوں میں تحفظ، تیاری اور ذمہ داری کا شعور اُجاگر کریں۔

پاکستان میں شہری دفاع کا باقاعدہ قیام 1951ء میں عمل میں آیا، جب سول ڈیفنس (خصوصی اختیارات) آرڈیننس نافذ ہوا جو بعد میں ایکٹ کی شکل اختیار کر گیا۔ ملک کے مختلف شہروں جیسے اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، فیصل آباد اور مظفرآباد میں تربیتی مراکز قائم کیے گئے۔ یہ مراکز رضاکارانہ بنیادوں پر مفت کورسز پیش کرتے ہیں، جن میں داخلہ کا عمل سادہ ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کر سکیں۔

یہ تربیت نہ صرف جنگی حالات بلکہ زمانہ امن میں آتشزدگی، سیلاب، حادثات اور دیگر ہنگامی صورتحال میں امداد فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ اسلامی تعلیمات میں بھی تیاری اور دفاع کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے امت کو تیر اندازی، گھڑ سواری اور تیراکی سیکھنے کی تلقین فرمائی، جو جسمانی اور دفاعی تیاری کی علامت ہیں۔ غزوہ خندق میں خندق کھودنا، منظم پہرہ داری اور باہمی تعاون، یہ سب شہری دفاع کی عملی مثالیں ہیں۔ حدیث مبارکہ "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے" ہمیں بتاتی ہے کہ اگر یہ تربیت انسانیت کی خدمت اور اللہ کی رضا کے لیے حاصل کی جائے تو یہ قومی کے ساتھ ساتھ دینی فریضہ بھی بن جاتی ہے۔

افسوس کہ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگوں کو ابتدائی طبی امداد کے بنیادی اصول بھی معلوم نہیں۔ آگ لگنے پر گھبراہٹ، حادثاتی جگہ پر غیر ضروری ہجوم، یا زخمی کو غلط طریقے سے اُٹھانا، یہ غلطیاں نقصان کو بڑھا دیتی ہیں۔ اگر شہری دفاع کی تربیت عام ہو جائے تو لوگ نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جان و مال کی حفاظت بہتر طریقے سے کر سکیں گے۔ یہ تربیت جنگ کے ساتھ ساتھ امن کے زمانے میں بھی اتنی ہی ضروری ہے، کیونکہ حادثات بغیر اطلاع کے پیش آتے ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ شہری دفاع کی تربیت کو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل کیا جائے، نوجوانوں کو رضاکارانہ خدمات کی طرف راغب کیا جائے اور محلہ و یونین کونسل کی سطح پر تربیت یافتہ ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔ اگر ہر شہری بنیادی سطح پر تربیت یافتہ ہو تو ہنگامی حالات میں نقصان کم سے کم ہوگا اور معاشرے میں نظم و ضبط، باہمی تعاون اور ذمہ داری کا احساس مزید مضبوط ہوگا۔

بین الاقوامی یومِ شہری دفاع ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ شعور، نظم اور تیاری سے مضبوط ہوتی ہیں۔ آئیے اس موقع پر عہد کریں کہ ہم خود شہری دفاع کی تربیت حاصل کریں گے، دوسروں کو اس کی ترغیب دیں گے اور ہر مشکل گھڑی میں ایک باخبر، باصلاحیت اور ذمہ دار پاکستانی شہری کا کردار ادا کریں گے۔ یہی وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہی مضبوط اور محفوظ پاکستان کی ضمانت بھی ہے۔

Check Also

Ho Gaya Gosht Se Nakhun Ka Juda Ho Jana

By Abu Nasr