Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Tauseef Rehmat
  4. Pyasa Kuwaan

Pyasa Kuwaan

پیاسا کنواں

سکول میں اردو کی درسی کتب میں پڑھائی گئی کہانیوں میں سے سب سے زیادہ مشہور کہانی "پیاسے کوّے" کی تھی۔ جس میں ایک پیاسا کوّا پانی کی تلاش میں سرگرداں ہوتا ہے اور اسے ایک ایسا گھڑا نظر آتا جس میں پانی بہت کم ہوتا ہے۔ کوّا عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کنکر گھڑے میں پھینکا شروع کر دیتا ہے جو تہہ در تہہ پیندے میں بیٹھتے جاتے ہیں اور یوں بالآخر پانی کی سطح بلند ہو جاتی ہے اور کوّا اپنی پیاس بجھا لیتا ہے۔ یہ کہانی کم و بیش تین دیائیوں سے زیادہ پرانی ہے۔ اُس دور کے وقت اور اُس وقت کے تقاضوں کے لحاظ سے یہ ایک سبق آموز کہانی سمجھی جاتی تھی۔

پھر زمانے نے کچھ کروٹ بدلی۔ وقت کی رفتار میں اضافہ ہوا۔ سائنس کے کرشمے ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ جدیدیت کے اثرات ہر ممکنہ جگہ تک سرایت کر گئے۔ سکول بھلا کیسے اس کے فیوض و برکات سے محروم رہ سکتے تھے، وہ بھی لپیٹ میں آئے تو نتیجتاً ہمارے بچوں کی ذہنی استعداد (آئی کیو لیول) میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ وہ اس کہانی کو اپنے انداز میں بیان کرنے لگے، انہوں نے اس کہانی میں جدت لانے کے لئے یہ اضافہ ضروری خیال کیا کہ کوّا اب محض پیاسا کوّا نہیں تھا بلکہ وہ پیاسا ہونے کے ساتھ ساتھ سیانا بھی تھا۔ اس پیاسے کوّے نے گھڑے میں پتھر پھینکنے کی بجائے سٹرا نکالا اور آرام سے پانی پیا اور پُھرررر ہوگیا۔

"سٹرا" سے ضمناً بات یاد آ گئی کہ دیسی بودوباش سے اچانک جدیدیت کے سفر نے ہمارے معاشرے میں عجب اضطرابی کیفیت بپا کر دی۔ نقالی میں بڑھتی ہیجان خیری پہ استادِ محترم انور مسعود صاحب نے بڑی خوبصورت چوٹ کی کہ:

چَھڈ دے کھانے کَھل وڑینویں، ہُن نہ چَبّیں چھولے
چھڈ دے پینے گُڑے دے شربت، پی ہُن کوکے کولے

بوتل دے نال مُونہہ نہ لائیں، مُونہہ وچ پا لئیں کاناں
تُوں کی جانے بھولیئے مَجّے انارکلی دِیاں شاناں

تین دہائیوں سے زائد وقت گزرنے کے بعد آج کا زمانہ "سمارٹ ورک" زمانہ کا ہے۔ اب کوّا اپنا آبِ مصفّا (فلٹرڈ واٹر) اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ کسی وجہ سے اپنا پانی اگر ساتھ رکھنا ممکن نہ ہو تو بھی پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ کریڈٹ کارڈ کی صورت میں سرمائے کی فوری فراہمی تو اب کوئی مسئلہ ہی نہیں رہی۔ لیکن اس سمارٹ ورک نے "پیاس" کی نوعیت، عنوان اور ملکیت بدل دی ہے۔ آج کی کہانی میں کوّا پیاسا نہیں ہے۔ کیونکہ وہ پہلے ہی سے اپنی پیاس کا انتظام کرکے چلتا ہے۔

جیسے ہم محاورہ سنتے آ رہے تھے کہ پیاسا کنویں کے پاس جاتا ہے، کنواں کبھی پیاسے کے پاس نہیں آتا۔ آج کے سمارٹ دور میں اب کنویں کے حالات بھی بدل گئے ہیں۔ اگر کبھی کبھار کوئی بھولا بھٹکا کنویں کا رُخ کرے تو کنواں حتی المقدور دوسری طرف کا رُخ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس رفتار سے پیاسا کنویں کی طرف بڑھتا ہے اس سے دُگنی رفتار سے کنواں پیاسے سے دو ربھاگتا ہے کہ کنویں کا ان پیاسوں سے تجربہ کوئی خاص قابلِ ستائش نہیں رہا اور قابلِ بیان تو بالکل بھی نہیں رہا۔

کنواں سوائے پانی کے اور دے بھی کیا سکتا ہے، لیکن پانی کی اہمیت ہر ایک پینے والے کے لئے مختلف ہے۔ کچھ محض اپنا پانی تازہ کرنے کے لئے ڈول ڈالتے ہیں۔ چند ایک صحیح معانوں میں پیاس بجھانے آتے ہیں اور اکثریت تو پانی کے ضیائع کا ہی سبب بنتے ہیں اور مزید ظلم یہ کہ سب بول و براز بھی وہیں پھینکنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور آخر میں وہیں سے ہاتھ منہ دھو ئے، پوّتر بنے اور بلند نشانی لگا دی کہ یہاں یہ "سہولت" میسر ہے اور اگر کوئی مہاتڑ ان کو پتے کی بات سمجھائے تو جواب ملے گا کہ "چلتا پانی تو صاف ہوتا ہے"۔

محترم انور مسعود صاحب ہی کے اشعار کا آسرا لیتے ہوئے بھتیر کی بات کہتے ہیں کہ:

آ وڑیاں ایں ڈنگر مالا، توں اَج کیہڑے پاسے
پیسے دے نے پُتّر سارے، ایس گلی دے واسے

مہاتڑ ایتھے خالی آؤندے، خالی کھڑ دے کاسے
پلّے جیکر پیسے ہوون، ڈُھل ڈُھل پیندے ہاسے

بُہتیاں مینوں آؤندیاں کوئی نئیں، اِکّو گل مُکاناں
تُوں کی جانے بھولیئے مَجّے انارکلی دِیاں شاناں

Check Also

Ehd e Qayadat Aur Aaina e Qaum

By Asif Masood