Friday, 16 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Wonder Boy Ki Talash?

Wonder Boy Ki Talash?

ونڈر بوائے کی تلاش؟

پاکستان کی انڈونیشیا سے ڈیل حتمی مراحل میں پہنچ گئی ہے۔ انڈونیشیا چالیس جے ایف سیونٹین بلاک تھری خرید رہا ہے اور اس کے ساتھ ڈرونز اور افواج کی تربیت کے واسطے پاکستان آرمی کی خدمات حاصل کرنا چاہ رہا ہے۔ دنیا میں دفاعی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اکاؤنٹ Stratcom Bureau کے مطابق اس وقت دنیا کے سولہ ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی ساز و سامان کی خرید میں دلچسپی دکھا رہے ہیں جن میں آذربائیجان، مصر، عراق، بنگلہ دیش، سعودی عرب، اردن، لیبیا، میانمار، ازبکستان، سوڈان، پیرو، نائجیریا بھی شامل ہیں۔

عسکری محاذ پر پاکستان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور دنیا میں کامیابی سمیٹ رہا ہے۔ شکریہ مودی جی کا ادا کرنا چاہئیے جنہوں نے ہمیں موقعہ فراہم کیا اور اپنے طیارے گھوڑے لگوا کر پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا۔ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا اعتراف بھی ضرور کرنا ہوگا۔ ایسا ملک جو شنگھائی تعاون کی تنظیم کے ممالک کو ساتھ لیے بھی چل رہا ہے اور امریکا بہادر سے بھی داد سمیٹ رہا ہے۔ یقین مانئیے یہ حیرت انگیز اور غیر معمولی کامیابیاں ہیں۔ پاکستان کی فارن پالیسی شاید اس ملک کی تاریخ میں سب سے بہتر اب جاتی محسوس ہوتی ہے۔

پاکستان عسکری و سفارتی محاذ پر آگے بڑھ رہا ہے لیکن تاحال معاشی محاذ پر خاطر خواہ کامیابی نہیں سمیٹ سکا ہے۔ شاید یہی وہ خلا ہے جس میں "ونڈر بوائے" کی بازگشت سنائی دی ہے۔ مقتدرہ کو کسی ونڈر بوائے کی تلاش ہے یا نہیں مگر ایک بات سامنے صاف نظر آتی ہے کہ معیشت بحالی کے واسطے بے چینی ضرور لاحق ہے۔ اس بے چینی کا انجام کیا ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہے۔

معیشت کی گاڑی چار پہئیوں پر چلتی ہے۔ سیاسی استحکام، لاء اینڈ آرڈر، کرنسی کی قدر مستحکم اور لانگ ٹرم واضح پالیسیز کا اعلان۔ ان سب میں اہم سیاسی استحکام ہے۔ اسی کے بدولت باقی اعشاریے بھی درست یا خراب ہوتے ہیں۔ ڈنڈے کے زور پر اسے نافذ نہیں کیا جا سکتا اور پریس کانفرنسوں سے دنیا کا اعتماد نہیں جیتا جا سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو سپیس دے کر انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کو ضروری اقدامات کئے جائیں۔ مذاکرات کیے جائیں۔ اگر قیدیوں کو رہا کرنے سے اس ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہونے کی اُمید اُبھرتی ہے تو اس جانب پیش قدمی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ سیاسی مسائل جب بھی حل ہوں گے ٹیبل پر ہی ہوں گے۔ آج نہیں تو کل کرنا پڑیں گے اور وقت ہے کہ سرکتا جاتا ہے۔ انگریزی محاورہ ہے

A stitch in time saves nine

جب تک سیاسی دھینگا مشتی جاری رہے گی ملک معاشی استحکام کی جانب نہیں بڑھے گا۔ یہ راکٹ سائنس نہیں سیدھا سادہ معاشی اصول ہے۔ انویسٹر اس مارکیٹ میں رقم نہیں لگاتا جہاں بے یقینی کی فضا ہو۔ سیاسی مسائل کو سمیٹیں۔ ملک پر فریقین رحم کریں۔

لڑتے لڑتے ہوگئی گم
ایک کی چونچ اور ایک کی دم

ایک کی چونچ گم ہو چکی ہے۔ ایک کی دم گم ہو چکی ہے۔ ہو سکے تو اپنی ناک بچانے پر توجہ دے لیں۔ بصورتِ دیگر بقول شاعر "ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے"۔

Check Also

Yulia Ki Neend (1)

By Ashfaq Inayat Kahlon