Thursday, 15 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Trump Aur BRICS

Trump Aur BRICS

ٹرمپ اور برکس

ٹرمپ کو آخرکار وہ دشمن بھی مل گیا ہے جو نہ سرحد پر کھڑا ہے، نہ میزائل داغ رہا ہے، نہ ہی وائٹ ہاؤس پر حملے کی دھمکی دے رہا ہے۔ یہ دشمن ایک فورم ہے BRICS. پانچ حرفوں کا ایک لفظ جس نے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے اعصاب اس حد تک ہلا دیے ہیں کہ اس کے رکن ممالک پر سو فیصد ٹیرف لگا کر "سیدھا" کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

ٹرمپ کا فرمان ہے کہ BRICS کوئی معاشی فورم نہیں بلکہ ایک خفیہ عالمی سازش ہے جس کا اصل مقصد امریکی ڈالر کو "ڈی جنریٹ" کرنا یا اس کی قدر گرانا ہے۔ حالانکہ یہ وہی ڈالر ہے جس نے ویتنام، عراق، افغانستان اور لیبیا کی جنگیں بھی برداشت کیں، سنہ 2008 کا مالی بحران بھی سہہ لیا مگر اب خطرہ اسے مصر، ایتھوپیا اور انڈونیشیا، امارات، بھارت، ساؤتھ افریقہ، روس و چین سے لاحق ہے۔ واقعی تاریخ کے بڑے لطیفے اکثر وائٹ ہاؤس میں ہی جنم لیتے ہیں۔

ٹرمپ کی نظر سے دیکھیں تو اب دنیا میں معیشت نہیں "نیت" دیکھی جائے گی۔ آپ کی برآمدات بہترین ہوں، معیار اعلیٰ ہو، قیمت مناسب ہو۔ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اصل جرم یہ ہے کہ آپ غلط محفل میں بیٹھ گئے ہیں۔ برکس کا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ وہ سوچ رہا ہے کہ شاید دنیا میں صرف ایک ہی کرنسی کا راج نہیں ہونا چاہئیے۔ یہ سوچ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے لیے اتنی ہی ناقابلِ برداشت ہے جتنی یہ بات کہ سورج مشرق کے بجائے کہیں اور سے نکلنے لگے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ BRICS نے آج تک نہ کوئی مشترکہ کرنسی بنائی، نہ SWIFT کا متبادل کھڑا کیا، نہ ڈالر کو برتنے سے انکار کا اعلان کیا مگر ٹرمپ پہلے ہی فاتحہ پڑھنے کو تیار بیٹھا ہے۔ یہ وہی امریکی منطق ہے جس میں ارادہ جرم سے بڑا جرم ہوتا ہے۔ اب ذرا BRICS کی حقیقت پر بھی نظر ڈال لیں۔ ایک ہی میز پر چین اور بھارت، جو ایک دوسرے کو آنکھیں دکھاتے ہیں۔ ایران اور یو اے ای، جو ایک دوسرے کو بس برداشت ہی کرتے ہیں۔ روس، جو پابندیوں سے نکلنے کے راستے ڈھونڈ رہا ہے اور برازیل، جو صرف تجارت چاہتا ہے۔

یہ اتحاد کم اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا چھوٹا ورژن زیادہ لگتا ہے۔ مگر امریکا کو خطرہ اتحاد سے نہیں غیر تابعداری سے ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ BRICS یہ کہنے کی جسارت کر رہا ہے کہ دنیا صرف واشنگٹن کی مرضی سے نہیں چلنی چاہیے اور یہ جملہ امریکی خارجہ پالیسی میں کفر کے مترادف ہے۔ BRICS کے کئی ممالک امریکا کے قریبی اتحادی ہیں جیسے مصر، ساؤتھ افریقہ، انڈونیشیا، امارات وغیرہ مگر جیسے ہی وہ واشنگٹن کے علاوہ کہیں اور بیٹھ کر بات کریں امریکا کی نظر میں فوراً "اینٹی امریکن" ہو جاتے ہیں۔ یعنی امریکا سے دوستی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی اور سے دوستی نہیں کر سکتے۔

میری ناقص رائے میں BRICS ڈالر کا متبادل نہیں بلکہ امریکی تکبر یا اجارہ داری کا ردِعمل ہے۔ جب تجارتی پابندیاں ہتھیار بن جائیں، بینکاری کا نظام جنگی ٹول بن جائے اور کرنسی لاٹھی تو دنیا متبادل سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور یہی بات واشنگٹن کو خوفزدہ کرتی ہے۔

سوال یہ نہیں کہ BRICS ڈالر کو گرا دے گا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکا اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے کہ اب دنیا واحد مرکز سے چلنے کو راضی نہیں؟ امریکا میں عنان حکومت تھامے بیٹھے ٹرمپ نامی پاپولسٹ کی زبان و حرکات سے ڈر یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کا یہ اعصابی کھیل صرف معیشتوں تک محدود نہیں رہے گا اور جب بڑی طاقتیں خوف میں فیصلے کریں تو نقصان ہمیشہ چھوٹے ممالک اور عام انسانوں کا ہی ہوتا ہے۔ باقی ڈالر فی الحال زندہ سلامت ہے مگر اب وہ بادشاہ سلامت بننا چاہتا ہے جسے سلام کے ساتھ ساتھ "Bow" یا جھکاؤ بھی چاہیے۔

Check Also

Awami Transport Aur Kiraya Nama

By Malik Zafar Iqbal