Peeche To Dekho
پیچھے تو دیکھو
جیسے ہَوا کا بگولہ پھرتا ہے ویسے ہی ہرن رفتار سے بیگم گھر میں پلک جھپکنے کی دیر میں پھِر جاتی ہے۔ رفتار ہرن سی ہے مگر نظر شیرنی سی۔ اکثر اوقات ایسا ہُوا کہ میں سکون سے کسی جگہ بیٹھا یا لیٹا موبائل میں مگن ہوتا اور یکدم انکشاف ہوتا کہ بیگم چھُپ کر سرہانے پہنچی دیکھ رہی ہے۔ کئی بار بچوں نے نگاہوں سے اشارۃً مجھے آگاہ کیا ہے کہ "پیچھے تو دیکھو، پیچھے۔۔ " مجھے نہیں پتہ چل پاتا کہ کب اور کیسے اور کس گھڑی وہ سی سی ٹی وی کیمرا بنے مجھ پر فوکس ہو جاتی ہے۔ مگر مولا کا کرم ہے کہ اس نے آج تک اپنے عبد کا پردہ رکھا ہوا ہے۔
میں ایسے مواقعوں پر جب اسے پوچھتا ہوں کہ تم کیا کر رہی ہو؟ تو اکثر اوقات یہی جواب ملتا ہے "وضو کرنے واش روم میں آئی تھی۔ آپ تو موبائل میں ایسے گُم ہوتے ہیں کہ دنیا بھولی ہوتی ہے"۔ اور جب یہ پوچھا کہ وضو کرنے آئی تھی تو میرے سرہانے کیا کام ہے؟ آگے سے پراعتماد جواب آتا "جائے نماز ڈھونڈ رہی ہوں"۔ اس ساری بات میں ایک بات ہی سچ ہوتی کہ وہ باوضو ہوتی اور سکارف اوڑھ رکھا ہوتا۔ پتہ نہیں کیوں وہ نماز پنجگانہ کی ادائیگی سے قبل ہی یہ فریضہ سرانجام دینا فرض سمجھتی ہے۔ خیر، بچت یوں بھی ہو جاتی کہ اس سے قبل وہ سوال و جواب کا سیشن شروع کرتی میں اسے فوراً احساس دلا دیتا کہ تم باوضو ہو فوراً نماز ادا کر لو۔ شوہر سے بحث کریں تو اللہ اس عمل کو مناسب نہیں جانتا۔
پچھلے سال سردیوں کی ایک رات آنکھ کھُلی۔ بیگم چادر لئے سوئی ہوئی تھی۔ کمرے میں اندھیرا تھا مگر اس کی چادر کے اندر سے نور برآمد ہو رہا تھا۔ ایک نور کا ہالہ چادر سے باہر نکل رہا تھا۔ میں دیکھ کر ڈر گیا۔ بیگم انتہائی نمازی پرہیزگار مذہبی ہے۔ مجھے لگا شاید کوئی چمتکار ہو رہا ہے یا اس کی کوئی ایسی نیکی ہے جس کی وجہ سے نور برآمد ہو رہا ہے۔ یہ گمان بھی گزرا کہ کہیں بیگم کو ولائیت تو نہیں عطا ہوگئی۔ میرے ڈر کے مارے پسینے چھوٹ گئے۔ فوری طور پر لائٹ آن کرنے کو اپنے سرہانے رکھا موبائل اٹھانا چاہا کہ اس کی ٹارچ جلا کر دیکھوں۔۔ موبائل غائب تھا۔ میں نے سرہانہ اِدھر اُدھر کرکے سب جگہ ہاتھ چلانے شروع کیئے تو بیگم نے چادر سے سر نکالا " کیا تکلیف ہوگئی ہے آپ کو رات کے تین بجے؟ سو جائیں"۔۔ میں نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا میرا موبائل نہیں مل رہا۔۔
بیگم نے انتہائی بیزاری سے موبائل چادر سے نکالا اور میرے ہاتھ پکڑاتے ہوئے بولی "یہ لیں کھسماں کھایا موبائل اپنا۔ ہر وقت موبائل۔ سوتے میں بھی موبائل کا دھیان۔ میں بتا دوں آپ کو اگر میں نے کسی لڑکی کا میسج آپ کے موبائل میں دیکھا ناں تو آپ کی خیر نہیں"
نور بجھ گیا۔ مکمل اندھیرا چھا گیا۔ گھر کے برابر والے خالی پلاٹ سے جھینگڑوں کے ٹرٹرانے کی آوازیں یکایک ایسی اونچی آنے لگیں جیسے وہ بھی مجھے دھمکیاں دے رہے ہوں۔
آج بھی ایک خفیہ چھاپہ پڑا۔ میں دفتر سے آ کر اپنی دھُن میں مست موبائل میں گُم تھا۔ بیگم صوفے کے پیچھے چھُپ کر سر نکالے میرے موبائل پر نظریں گاڑے بیٹھی رہی۔ نجانے وہ کب سے بیٹھی تھی۔ یکایک مجھے عقب سے خوفناک چیخ سنائی دی ایسی خوفناک کہ میرا دل منہ کو آ گیا۔ وہ نکل کے بھاگی اور دونوں پاؤں زمین پر پٹکتے ہوئے بولی "آپ کے صوفے کے پیچھے دیوار پر چھپکلی ہے"۔ میں نے اُٹھ کر دیکھا تو چھپکلی کا بچہ تھا جو دیوار پر چپکا ہوا تھا۔ اس سے قبل کہ میں اس سے پوچھتا تم یہاں کیا کر رہی تھی وہ خود ہی بولی "میں ڈی ڈی ٹی چھڑکنے آئی تھی (حشرات کے واسطے چھڑکا جانے والا سپرے)"۔
یہ سُن کر مجھے چھپکلی کے بچے پر پیار آنے لگا۔ ایک منٹ نہیں گزرا ہوگا کہ جیسے ہی بیگم کے اوسان بحال ہوئے اس نے فوراً اونچی آواز میں پوچھا "کون ہے یہ زنیرا جس سے آپ بات کر رہے تھے؟"۔ یہ سنتے ہی میرے اوسان خطا ہو گئے۔ کون زنیرا؟ جواب آیا "وہی جس کو آپ بڑے پیار سے سمجھا رہے تھے کہ تمام مرد بھیڑئیے ہوتے ہیں"۔ افففف مطلب وہ چیٹ بغور پڑھ رہی تھی۔ مجھے ٹھنڈے پسینے آنے لگے اور اگلے پندرہ منٹ مجھے وضاحت دیتے گزرے کہ وہ سابقہ کولیگ ہے اس کے شوہر نے اس پر بہت ظلم کیے ہیں بس اسے سمجھا رہا تھا۔ مگر وہ کہاں ماننے میں آتی۔ اس بار اُس نے سکارف بھی نہیں اوڑھ رکھا تھا۔ باوضو بھی نہیں تھی۔
کچھ دیر بعد نارمل ہوگئی۔ کھانا رکھنے لگی۔ بچے بھی کھانا کھانے آ گئے۔ جیسے ہی میں نے پہلا نوالہ منہ میں ڈالا بیگم کی آواز آئی "تمام مرد بھیڑئیے ہوتے ہیں"۔ دورانِ طعام وہ گاہے گاہے میرے اس جملے کی تصدیق کرتی رہی۔ میں چُپ کرکے کھانا کھاتا رہا اور بچے ماما کو دیکھ کر ہنستے پھر مجھے دیکھ کر ان کو کھانا کھاتے غوطہ لگ جاتا۔ فیسبک پر سکرول کرتے کسی نے ایک گانا پوسٹ کیا ہُوا تھا اس کے بول سُنے تو میرا دل کر رہا ہے کہ شاعر کا ہاتھ چُوم لوں۔ نجانے کیوں مجھے سو فیصد یقین ہے کہ شاعر بھی میری طرح کے تجربات سے روز گزرتا ہوگا۔
اگر تم بے حجاب آؤ قیامت کی گھڑی ہوگی
تمہیں اپنی پڑی ہوگی ہمیں اپنی پڑی ہوگی