Thursday, 21 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Raqs e Zindagi, Thokron Ke Sehne Se Qismatein Badalti Hain

Raqs e Zindagi, Thokron Ke Sehne Se Qismatein Badalti Hain

رقص زندگی، "ٹھوکروں کے سہنے سے قسمتیں بدلتی ہیں"

گذشتہ روز محترمہ شہناز انجم صاحبہ کا مجموعہ کلام مجھ تک ان کے شریک سفر رفیق منہاس صاحب کے ذریعے پہنچا۔ تو مجھے خوشی کے ساتھ ساتھ حیرت بھی ہوئی کہ دیار غیر میں اردو زبان اور ادب کی پذیرائی کے لیے ایسی ہستیاں آج بھی موجود ہیں جو واقعی سچی لگن، محنت اور پرخلوص جذبے سے شعروادب کی خدمت کر رہی ہیں۔ بہترین چھپائی اور خوبصورت مگر بگولوں کی زد میں رقصاں ایک دھندلے سے نسائی پیکر پر مبنی متاثر کن سرورق پورے کلام کو پڑھے جانے پر مجبور کردیتا ہے۔

جیسا کہ اس مجموعہ کے تعارف میں لکھا گیا ہے کہ وطن سے ہزاروں میل دور اسٹاک ہوم سویڈن میں ایشین اردو سوسائٹی اپنی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کی وجہ سے قابل قدر نگاہوں سے دیکھی جاتی ہے۔ اس کے سالانہ مشاعروں میں مقامی شعراء میں خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے جو ایک نام ابھرا وہ محترمہ شہناز انجم کا ہے۔ یقینا" دیار غیر میں یوں پرورش لوح وقلم کا بیڑہ اٹھانا ان کا کمال ٹھہراہے۔ جبکہ دیار غیر میں اس مزاج اور ذوق کے افراد کا اپنی زبان وادب کے لیے اکٹھا ہو جانا ہی بڑی غنیمت ہوتا ہے۔

تتلی کے ساتھ گھوم رہی ہوں چمن میں یوں
کچھ یاد آرہا ہے یوں گلزار دیکھ کر

کسی شعری مجموعہ پر تبصرہ محض چند خوبصورت اشعار کی تعریف کا نام نہیں ہوتا بلکہ شاعر کے فکری سفر، فنی شعور، جذباتی صداقت اور اسلوبیاتی انفرادیت کو سمجھنے کا عمل بھی ہوتا ہے۔ ایک اچھا تبصرہ قاری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ شاعر اپنے عہد، معاشرئے اورداخلی کیفیات کو کس انداز سے لفظوں میں ڈھالتا ہے اور یہی تنقیدی بصیرت کسی مجموعہ کلام کی ادبی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور شاعر کے تخلیقی مقام کا تعین کرتی ہے۔

پورا مجموعہ کلام پڑھے بغیر کوئی تبصرہ کرنا مشکل تھا اس لیے ایک ایک حمد، نعت، نظم اور غزل پڑھ کر ہی رائے دی جاسکتی تھی جو ایک ہی نشست میں ممکن نہ تھا۔ جوں جوں پڑھتا گیا شوق بڑھتا گیا۔ آخر کار سمجھ یہ آیا کہ انسان کہیں بھی ہو اس میں چھپی تخلیقی صلاحیتیں چھپی نہیں رہ سکتیں۔ شاید یہی "رقص زندگی" کا وہ مخصوص سا دھمال ہے جو قاری کی توجہ اپنی جانب متوجہ کرکے ادبی تسکین کا باعث بنتا ہے۔

اپنے کلام میں اپنی شاعرانہ تخلیقی صلاحیتوں اور عزم پر یقین اور خود پر بھروسے کا اظہار وہ اپنے اس مجموعے میں اکثر یوں کرتی نظر آتی ہیں اور ان کے اشعار میں ان کی خود اعتمادی کے ساتھ ساتھ سادہ سے الفاظ کا منفرد انتخاب ان کے اشعار کو مزید خوبصورت بنا دیتا ہے۔ "ہاتھ کے پوروں سے ہنر بانٹنے" کی سوچ اس قبل شاید اشعار میں استعمال نہیں ہوئی۔

ابھریں گے ابھی چاک پہ دلکش کئی مکھڑئے
میں ہاتھ کی پوروں سے ہنر بانٹ رہی ہوں

اک بات بتانی تو ہے ہمت نہیں لیکن
اس دور میں مجھ جیسا سخنور نہ ملے گا

کہتے ہیں کہ ہجرت صرف جسموں کی نہیں ہوتی، احساسات اور جذبات بھی سرحدیں پار کرتے ہیں۔ اپنے شہر، اپنی مٹی اور اپنی تہذیب سے دور جا کر بھی جو لوگ اپنے لفظوں میں وطن کی خوشبو، رشتوں کی حرارت اور زندگی کے دکھ سکھ محفوظ رکھتے ہیں، وہ دراصل ادب کے سفیر ہوتے ہیں۔ لاہور میں پیدا ہونے والی اور آج کل بہاولپور کی باسی درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ مگر علمی و ادبی ذوق کی حامل سویڈن میں مقیم اردو شاعرہ نے اپنے شعری مجموعے "رقصِ زندگی" میں اسی داخلی کرب، محبت، یاد، تنہائی اور امید کو نہایت لطیف انداز میں سمیٹا ہے۔

یہ مجموعہ محض اشعار کا انتخاب نہیں بلکہ احساسات کی ایک ایسی مسافت ہے جہاں زندگی کبھی ہجر کا نوحہ بنتی ہے تو کبھی امید کا چراغ۔ شاعرہ کے ہاں عورت کے باطن کی دھیمی دھیمی دھڑکن بھی سنائی دیتی ہے اور بدلتے ہوئے معاشرتی رویّوں کی بازگشت بھی۔ ان کی شاعری میں مشرقی تہذیب کی خوشبو اور پاکستان کی مٹی کی مہک اور یورپ کی سرد فضاؤں میں بکھری تنہائی ایک ساتھ محسوس ہوتی ہے۔ رقصِ زندگی" اپنے عنوان ہی کی طرح زندگی کے مختلف رنگوں، اتار چڑھاؤ، دکھ، مسرت، جدوجہد اور خوابوں کی علامت ہے۔ شاعرہ نے لفظوں کو محض سجاوٹ کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ اپنے محسوسات کو ایسی سچائی سے پیش کیا ہے جو قاری کے دل میں اترتی چلی جاتی ہے۔

یہی خلوص اور فکری لطافت اس مجموعے کو قابلِ مطالعہ بناتی ہے۔ ان کے کلام اور اشعار سے ایک عورت کے دکھ کو سمجھنے والی حساس، خوبصورت سوچ، پروقار او ر باشعورادبی شخصیت کا عکس اور وطن سے دوری کا دکھ درد خوب جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ والدین سے محبت اور ان سے جدائی کا غم ان کے الفاظ و اشعار میں نمائیاں ہے تو نظموں "ائے میری پیاری سکھیو "اور "پاکستانی بانکیاں" میں مزاح کا ہلکا پھلکا انداز بھی دلفریب ہے۔ زمانے اور زندگی کی تصویر کشی کے لیے ان کی یہ نظم قابل دید ہے۔ اسی لیے ان کے کلام میں نظم ان کی پسندیدہ صنف سخن قرار پاتی ہے۔

زیست کے مسافر کو
ٹھوکریں تو لگتی ہیں

زخم دل سے کہتا ہے
راستہ بدل ڈالو

دل جواب دیتا ہے
کیاسفر بدلنے سے

قسمتیں بدلتی ہیں
زیست کے مسافر کو

ٹھوکریں تو لگتی ہیں
ٹھوکروں کے سہنے سے

قسمتیں بدلتی ہیں

ان کے اس مجموعہ کلام رقص زندگی میں اردو ادب کی بیشتر مقبول ترین اصناف سخن شامل ہیں۔ حمدونعت، غزل، نظم، آزاد نظم، گیت اور اگر موضوعات اور فکر کی بات کی جائے تومحبت وہجر، سماجی مسائل، وطن دوستی، عورت کے احساسات، ہجرت اور وطن سے دوری کا احساس اور فلسفہہ حیات پر جذبات ہی نہیں فکری جہت بھی دکھائی دیتی ہے۔ اگر زبان وبیان کی بات کی جائے تو زبان سادہ مگر ادبی چاشنی کے ساتھ تراکیب کا بڑی خوبصورتی سے استعمال نظر آتا ہے۔ روانی اورتاثیر کا خیال بھی رکھا گیا ہے۔ ہر شاعریا شاعرہ کا ایک اپنا ہی مخصوص انداز ہوتا ہے جیسے کلاسیکی رنگ، مزاحیہ انداز، جدید لب ولہجہ، علامتی یا استعاراتی انداز، رومانی یا مزاحمتی لہجہ یہ سب بھی ان کے کلام میں کسی نہ کسی حد تک دیکھےاور محسوس کئے جاسکتے ہیں۔

غزل اور نظم میں شعری موسیقیت ضروری ہوتی ہے۔ بحر کی پابندی، ردیف وقافیہ، ترنم اور آہنگ اور مصرعوں کی نشست و برخاست یہ سب عناصر شاعری کی فنی پختگی ظاہر کرتے ہیں۔ اچھا شاعر لفظوں سے منظر تراشتا ہے۔ اسی لیے تخیل اور تصویریت کو دیکھا اور محسوس کیا جاتا ہے۔ کلام میں تشبیہات و استعارت، علامت نگاری، منظر کشی اور جذبات کی تصویری پیشکش خوب کی گئی ہے۔ ان کی شاعری میں تازگی اور جدت کے نئے زاویے بھی دکھائی دیتے ہیں اور روایت سے تعلق بھی جڑا نظر آتا ہے۔ پورا کلام تو صرف میرئے ایک کالم میں نہیں سما سکتا لیکن ان کے یہ چند اشعار ہی مندرجہ بالا خصوصیات کی نشاندہی کے لیے کافی ہیں۔ عورت کی محرومیوں اور معاشرتی انصافی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اور ان کی نمائندگی کرتے ہوئے نرم نرم شکوہ کے لہجے میں کہتی ہیں۔

یہ لوگ ہیں واقف کہ میں کمزور نہیں ہوں
کیوں مجھ کو بلندی پہ پھر اڑنے نہیں دیتے

عورت کووہ انسان سمجھتے ہی نہیں ہیں
ہرحال میں جو گھر سے نکلنے نہیں دیتے

جمیبل احسن صاحب کے بقول "انسان وہی کچھ لکھتا ہے جو اس پر گزرتی ہے۔ واقعات، حادثات اور اس کے ردعمل کے طور پر جنم لینے والے اندر کے احساسات اور جذبات شعر کی صورت میں صفحہ قرطاس پر بکھرتے ہیں، شہناز انجم صاحبہ کی شاعری بھی قلبی واردات کے طور پر سامنے آتی ہے"۔ پورا مجموعہ کلام ان کی مختلف سوچوں کا احاطہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔

تارئے فلک کے سب مری چنری میں آگئے
دیکھے تھے کل جو خواب وہ کتنے حسین تھے

میرے بغیر کتنے وہ مرجھا گئے ہیں آج
جب تک وہ میرے ساتھ تھے زہرہ جبین تھے

تم مست ہو خبر ہے کہاں میرے پیارکی
جو رنگ لائے گا یہ تیرا جام دیکھنا

میرے وطن تو سلامت رہے قیامت تک
تری زمیں کو سمجھتی ہوں آسماں کی طرح

جو مجھ کو گھیر لیا گردش زمانہ نے
سہارا اس نے دیا مجھ کو آشیاں کی طرح

اس طرح سے بے گناہوں پر ستم ڈھاتے ہیں لوگ
محتسب جیسے نہ ہوگا کوئی مرجانے کے بعد

جینے دیتا نہ مرنے دیتا ہے
آستیں میں جو سانپ رہتا ہے

میری دعا ہے کہ محترمہ شہناز انجم کو اللہ تعالیٰ عمر دراز عطا فرمائے اور وہ یونہی پرورش لوح وقلم کرتی رہیں۔ اپنی تخلیقی وفکری صلاحیتیں کو اشعار میں ڈھالنے کا یہ سلسلہ جاری رکھیں۔ آمین!

Check Also

Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (6)

By Ayaz Khawaja