Iran, Israel, America Mumkina Jang
ایران، اسرائیل، امریکہ ممکنہ جنگ

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بتایا ہے کہ مظاہروں میں دو ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جن میں اکثریت سرکاری اہلکاروں کی بتائی جا رہی ہے۔ ایسے میں ٹرمپ کی تازہ ٹویٹ نے حسبِ روایت آگ میں پیٹرول کا کام کیا ہے۔ اشارہ صاف ہے "ایران، تیار ہو جاؤ" اور تیار تو ویسے بھی سب ہیں۔ واشنگٹن میں ہتھیار ساز، تل ابیب میں منصوبہ ساز اور مشرق وسطیٰ میں قبریں کھودنے والے۔
قطر میں موجود امریکی اڈے کو سینٹرل کمانڈ میں بدل دیا گیا ہے۔ یہ وہی ٹرمپ ہے جو عالمی فورمز پر جنگیں رکوانے کا کریڈٹ لیتا ہے مگر جب کیمرہ بند ہوتا ہے تو انگلی ہمیشہ بندوق پر ٹریگر کے قریب رہتی ہے۔ ویسے بھی امریکی معیشت میں اگر کسی شے کا مستقل کردار ہے تو وہ جنگ، اسلحہ اور تابوتوں کی برآمد ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار اخراجات اسرائیل اٹھانے کو تیار ہے۔ یعنی جنگی لباس امریکی ہوگا، بل اسرائیلی اور لاشیں ایرانی۔
اہداف میں آیت اللہ کی تبدیلی شامل ہے۔ لیکن کیسے؟ یہ ابھی کسی کو نہیں معلوم مگر منصوبہ بندی میں یہ کمی کبھی مسئلہ نہیں بنی۔ عراق میں بھی یہی اعتماد تھا، افغانستان میں بھی اور انجام سب کے سامنے ہے۔
اُدھر ایران نے وقتی طور پر پرتشدد مظاہروں پر قابو پا لیا ہے۔ پچھلے تین دنوں سے سڑکیں نسبتاً خاموش ہیں اور دو دن سے حکومت کے حق میں بڑے بڑے جلوس بھی نکل رہے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ٹرمپ کو اچانک ایرانی عوام سے محبت جاگ اٹھی ہے۔ فرمان جاری ہو چکا ہے "باہر نکلو، اداروں پر قبضہ کرو، امریکا مدد کے لیے آ رہا ہے"۔ یہ وہی مدد ہے جو جہاں بھی پہنچی، وہاں نقشے بدل گئے، ریاستیں ٹوٹیں اور نسلیں دربدر ہوئیں۔
امریکی منصوبہ ساز شاید یہ بھول رہے ہیں کہ ایران کوئی خالی پلاٹ نہیں۔ وہاں کم از کم تیس لاکھ افراد کسی نہ کسی شکل میں مذہبی نمائندہ حکومت سے براہِ راست منسلک ہیں اور عوام کی بڑی اکثریت مذہبی رجحان رکھتی ہے۔ یہ خیال کہ امریکا بغیر فوج اتارے، بغیر تہران پر قابض ہوئے رضا شاہ کو واپس تخت پر بٹھا دے گا یہ زیادہ سیاسی تجزیہ نہیں، زیادہ ہالی وڈ اسکرپٹ ہے۔ امریکا خود بھی جانتا ہے کہ ایران میں فوج اتارنے کا مطلب ایک نیا قبرستان ہے جہاں قبریں قطار میں نہیں بلکہ نسل در نسل کھودی جائیں گی۔ اسی لیے بات فضائی حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور "مدد" تک محدود رکھی جا رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر آیت اللہ کو نشانہ بنایا جائے تو کیا امریکی اہداف پورے ہو جائیں گے؟ ہرگز نہیں۔ ایران کوئی نرا ون مین شو نہیں۔ سپریم لیڈر کے بعد قائم مقام، پھر سپریم کونسل، پھر نیا آیت اللہ۔ نظام افراد سے نہیں ڈھانچے سے چلتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پورا موجودہ سیٹ آپ بھی گرا دیا جائے یا ریجیم سے وابستہ سب افراد کو مار دیا جائے تو جو نیا نظام بنے گا وہ بھی مذہبی ہوگا اور امریکا و اسرائیل مخالف بھی۔ کیونکہ یہ مخالفت ریاستی نہیں بلکہ ایرانی عوام کے ذہن میں پیوست ہے۔
ایران میں نہ کوئی مضبوط سیکولر اپوزیشن موجود ہے نہ کوئی ایسا رہنما جو عوام کو ایک متبادل قیادت دے سکے۔ رضا شاہ کا خواب وہی لوگ دیکھ رہے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کو گوگل میپس پر سمجھتے ہیں۔ جنگ کا آغاز ممکن ہے مگر انجام کا نقشہ کسی کے پاس نہیں۔ البتہ ایک بات واضح ہے کہ جو کچھ بھی ایران میں ہوگا، اس کے سائے پاکستان تک آئیں گے۔
آپ کو ایک یہ بات بھی ذہن نشین کر لینا چاہئیے کہ تشیع کا نظام اور روزمرہ معاملاتِ دین و دنیا گرینڈ مفتی یا مراجع یا آیت اللہ کے فتوے پر چلتا ہے۔ عرب تا عجم پھیلی شیعہ دنیا کی اکثریت نجف میں موجود آیت اللہ علی سیستانی، آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی، آیت اللہ بشیر نجفی، آیت اللہ علی خامنہ ای (سپریم لیڈر آف ایران)، آیت اللہ کاظم حائری، آیت اللہ محمد تقی مدرسی کی فالور ہے اور یہ سب امریکا یا استعمار مخالف فتوے دے چکے ہیں۔ مراجع کا فتویٰ مذہب تشیع میں امام کے حکم کے مساوی ہے۔ پاکستان سمیت عرب دنیا میں پھیلی شعیت میں امریکا مخالف تنظیمیں یا مسلح گروہ جنم لے سکتے ہیں اور امریکی اہداف پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ امریکی عزائم نئی جہادی تنظیموں کے جنم کا سبب بن سکتے ہیں۔ عرب دنیا میں بیٹھے مراجع گو کہ ایرانی ولایت فقیہ کے نظریے سے موافقت نہیں رکھتے لیکن امریکی جارحیت یا مداخلت کے خلاف یک زبان ہیں۔ خود ہمارے ہاں پاکستان سے بھی نئی جہادی تنظیمیں جنم لے سکتی ہیں اور ایران کی مدد کے لیے جا سکتی ہیں۔
اس کا مطلب سیدھا ہے اگر ایران پر براہِ راست امریکی حملہ ہوا تو عرب دنیا، پاکستان اور دیگر خطوں میں نئی امریکا مخالف تنظیمیں جنم لے سکتی ہیں۔ پرانی تحریکیں دوبارہ سانس لے سکتی ہیں اور نئی جہادی شناختیں وجود میں آ سکتی ہیں۔ وہ مراجع بھی جو ایرانی ولایتِ فقیہ کے قائل نہیں لیکن وہ امریکی جارحیت پر یک زبان ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ انقلابِ ایران کے بعد سے امریکا آج تک ایران پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر پایا۔ ہر آپشن کے آخر میں دلدل ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ دلدل سے نہیں ڈرتا۔ وہ اسے ٹی وی شو سمجھتا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ امریکا کو ایک نئی، گہری اور مہنگی دلدل کی طرف دھکیل رہا ہے۔ دوسرا پہلو ایران کا ہے جہاں ایرانی ریجیم کو بھی اپنے اندر سخت غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ وہاں "سب اچھا" نہیں ہے۔
اگر امریکا اور اسرائیل فی الحال حملے سے باز رہیں تو بھی یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ خود ایران کی پاسدارانِ انقلاب کسی محاذ کو گرم کرنے کا فیصلہ کر لے۔ ایران کو باہر سے خطرہ ہے لیکن اندر سے بھی چنگاڑی موجود ہے۔ یہ اندرونی خطرہ کسی ایک احتجاج، کسی ایک نعرے یا کسی ایک شہر سے نہیں ہے۔ یہ اس ریاستی پالیسی سے جنم لیتا ہے جس کے تحت ایرانی معاشرے کو دہائیوں سے دو خانوں میں بانٹا گیا ہے۔ "اپنے" اور "غیر"۔
ایک طرف وہ طبقہ ہے جو نظام سے وفاداری کی بنیاد پر معاشی، سیاسی اور سماجی مراعات حاصل کرتا ہے۔ یہ طبقہ خود کو دین، انقلاب اور "اصلی اسلامی اقدار" کا واحد محافظ سمجھتا ہے۔ طاقت، اسلحہ، ادارے اور فیصلہ سازی آج بھی اسی طبقے کے ہاتھ میں ہے۔ ایران کی نئی نسل یعنی جنریشن زی اس طبقے میں نمایاں حیثیت نہیں رکھتی۔ دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو نہ مذہب دشمن ہے، نہ ایران دشمن۔ ان کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ انہیں ایک معمول کی، باعزت اور آزاد زندگی جینے دی جائے۔ ایسی زندگی جس میں ریاست ہر سانس پر پہرہ نہ دے، ہر خیال کو غداری نہ سمجھے اور ہر اختلاف کو مغربی سازش قرار نہ دے۔ پاسداران انقلاب روزمرہ معاملات میں لوگوں کی مورل پولیسنگ نہ کرے۔
سڑکوں پر نکلنے والے زیادہ تر ایرانی اسی دوسرے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو غیر یقینی مستقبل، گزشتہ نصف صدی کی انقلابی ریجیم سے کم خوفناک لگنے لگا ہے۔ ماضی میں یہی طبقہ بیرونی حملوں کے وقت ریاست کے ساتھ کھڑا ہو جاتا تھا قومی خودمختاری کے نام پر مگر اب خالی پیٹ، پامال خواب اور بے تحاشہ افراطِ زر نے حب الوطنی کے اس جذبے کو بھی نگل لیا ہے۔ اس دوران موساد اور سی آئی اے جیسے ادارے یقیناً ایران کے اندر حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر یہ مان لینا کہ ایران صرف بیرونی سازشوں سے عدم استحکام کا شکار ہے خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔
اگر امریکا حملہ نہ کرے اور ہزاروں جانوں کی قیمت پر احتجاج دبا بھی دیا جائے تو بغیر حقیقی اصلاحات کے ایرانی نظام صرف وقت خریدے گا مسئلہ حل نہیں کرے گا۔ راکھ کے نیچے دہکتے انگارے باقی رہیں گے اور ایران زیادہ بے چین اور زیادہ تفریق کا شکار ہوتا چلا جائے گا۔

