Monday, 22 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Jawad Hussain Rizvi
  4. Rehbar e Muazzam Aur Iran o America Ke Darmiyan Mufahimat Nama

Rehbar e Muazzam Aur Iran o America Ke Darmiyan Mufahimat Nama

رہبرِ مُعظم اور ایران و امریکہ کے درمیان مفاہمت نامہ

ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط ہوئے ہیں، جو مستقبل کے اہم معاہدوں کے لیے ایک جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ موجودہ رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے بھی اپنے متعلقہ حکام کی صلاحیت اور حُسنِ نیت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس عمل کی منظوری صادر فرمائی۔ تاہم، اس فیصلے کے بعد خود کو انقلابی دھارے سے وابستہ ظاہر کرنے والے ایک مخصوص گروہ کی جانب سے نہایت سطحی اور فکری لحاظ سے ناقص ردِعمل سامنے آیا۔

ان میں سے بعض افراد نے نظام کے اس سٹریٹجک فیصلے کو "صلحِ امام حسنؑ" سے تشبیہ دی، تو کچھ کو اس میں "جنگِ صفین" کے مظاہر دکھائی دینے لگے، گویا رہبر کو اِس فیصلے پر مجبور کر دیا گیا ہو۔ اس مضحکہ خیز اور غیر منطقی دعوے کے ساتھ، بعض لوگ تو جذباتی مغلوبیت کے اس درجے پر پہنچ گئے جہاں وہ سینے پر ہنٹر مارتے یعنی خود ساختہ مظلومیت کا ماتم کرتے نظر آئے۔ یہ پورا تصور اس لیے لغو اور حقیقت سے بعید ہے کہ ایران کے دستوری اور ولائی ڈھانچے میں رہبرِ معظم کا عہدہ ایسے مُطلق اختیارات کا حامل ہے کہ ان کی حتمی توثیق کے بغیر اس نوعیت کا کوئی بھی کلیدی سیاسی یا سفارتی اقدام اٹھایا ہی نہیں جا سکتا۔

ان جذباتی تبصروں کے لیے رہبرِ معظم کے اس جملے کو سیاق و سباق سے کاٹ کر بنیاد بنایا گیا جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ "اصولی طور پر ان کا نقطۂ نظر مختلف تھا"۔ بعض عناصر اس بیانیے کو صدرِ مملکت اور مذاکراتی ٹیم کے خلاف عدم اعتماد کے طور پر پیش کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ نظام کی اندرونی حرکیات اس کے بالکل برعکس ہیں۔

ایران کے مقتدر آئینی ادارے "مجمع تشخیص مصلحتِ نظام" کے رکن محمد رضا باہنر نے روزنامہ "ایران" میں اس ابہام کو دور کرتے ہوئے واضح طور پر لکھا ہے کہ رہبرِ معظم کے پیغام میں موجود عدم اعتماد، جارح اور مُجرم امریکہ کی طرف ہے، اس کا اطلاق ملک کی اندرونی قوتوں، حُکّام اور صلاحیتوں پر ہرگز نہیں کیا جانا چاہیے۔ جس طرح انہوں نے صدر کے قول پر اعتماد کیا، اسی طرح ہمیں بھی صدر اور مذاکراتی ٹیم کی پشت پناہی کرتے ہوئے قومی وحدت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، تاکہ ہمارے سفارت کاری کے سپاہی مذاکرات کے اس محاذ پر مظلوم ایرانی ملت کی حقانیت کو ثابت کر سکیں۔

اسی تناظر میں، ایران کے ایک اور معتبر اور فکری اخبار روزنامہ "فرہیختگان" نے اپنے اداریے میں اس موقف کی توثیق کرتے ہوئے لکھا کہ اگر رہبرِ معظم کی جانب سے کوئی عدم اعتماد موجود ہے، تو وہ اس مفاہمت نامے کے دوسرے فریق یعنی امریکہ پر ہے۔ رہبرِ انقلاب نے متعلقہ حکام کو "نیک نیت" قرار دے کر ان کے ساتھ اپنے تعلق کی نوعیت اور تال میل کو بالکل واضح کر دیا ہے۔ اخبار نے مزید سٹریٹجک تجزیہ پیش کرتے ہوئے لکھا کہ رہبرِ انقلاب کا یہ پیغام اس خطرناک دوغلے پن (Binary) کا اصولی خاتمہ تھا، جس کے تحت ایک فریق اس متن کو "عین رہبر کا نظریہ" اور دوسرا فریق اسے "رہبر پر مسلط کردہ فیصلہ" ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا۔ یعنی حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے۔

بدقسمتی سے، اگر ہم پاکستان کے داخلی انقلابی حلقوں کا جائزہ لیں، تو یہاں ہمیشہ سے ایک مخصوص جمود پسند اور شدّت پسند بیانیے کو مقبولیت حاصل رہی ہے، جو معاملات کو گہرائی میں دیکھنے سے قاصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کچھ حلقے رہبریت کی مظلومیت کے نوحے پڑھ رہے ہیں، گویا ایران کو کسی ڈیڈ لاک یا مجبوری کا سامنا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران اس وقت کسی سٹریٹجک کمزوری کا شکار نہیں، وہ اگر ہارڈ پاور (ہتھیار اٹھانے) کا راستہ چننا چاہے یا معاہدے کو یکسر مسترد کرنا چاہے، تو اس کی مکمل خود مختار صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن اس وقت میدان کے معروضی حالات اور نظام کی مجموعی مصلحت کا تقاضا اس سے مختلف ہے۔

ایران کی اسی سٹریٹجک وژن کی فکری بنیادیں سابق چیف نیوکلیئر مذاکرات کار شہید علی لاریجانی نے استوار کی تھیں، جنہوں نے "مذاکرات میں مقاومت" کا لازوال نظریہ پیش کیا۔ ان کا موقف تھا کہ دشمن کے سامنے یکطرفہ جھک جانا یا جنگ کے خوف سے پسپائی اختیار کرنا مقاومت کے مسلمہ اصولوں کے منافی ہے، لیکن سفارت کاری کے میدان میں مروّجہ قواعد، منطق، تدبر اور مضبوط دلیل کے ساتھ لڑنا خود مقاومت کا ایک ناگزیر محاذ ہے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ جس طرح میدانِ جنگ میں سپاہی اپنی پوزیشن کا دفاع کرتا ہے، بالکل اسی طرح سفارت کاری کے محاذ پر ایک مدبّر سفارت کّار کو ملک کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے، جسے انہوں نے "سفارتی مقاومت" کا نام دیا۔

شہید علی لاریجانی کا تصورِ مقاومت یہ تھا کہ مذاکرات کا مقصد ہتھیار ڈالنا یا نظریاتی سرنڈر ہونا نہیں، بلکہ اپنی گراؤنڈ پر موجود مزاحمتی اور دفاعی طاقت کو میز پر سیاسی اور معاشی فتوحات میں تبدیل کرنا ہے۔ مگر افسوس کہ اس وقت بھی ان کی اس گہری حکمتِ عملی کی شدید ترین مخالفت انھی شدت پسند افراد نے کی تھی، جو آج اس مفاہمت نامے پر معترض ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سیاسی و بین الاقوامی معاملات کو محض سطحی اور سادہ پسندی کی عینک سے دیکھنے کے بجائے، دور اندیشی اور عمیق بصیرت کے ساتھ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Check Also

Aath Khatre Jo Agle 100 Saal Tai Karenge

By Arif Anis Malik