Peoples Party Ko Jeet Mubarak
پیپلز پارٹی کو جیت مبارک

گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا ہے۔ انتخابات سے قبل بعض سیاسی پنڈت یہ کہتے نظر آ رہے تھے کہ پارلیمنٹ میں اٹھائیسویں ترمیم اور بجٹ کی منظوری کے عوض گلگت بلتستان کی حکومت پیپلز پارٹی کو تحفے میں دے دی جائے گی۔ بظاہر مجھے اس وقت ان کی بات سے اختلاف تھا، لیکن حالیہ حالات و واقعات ان کے اسی خیال کی تقویت کر رہے ہیں۔
ایک طرف تحریک انصاف کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں تھی، تو دوسری طرف ان کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی راہ میں بھی روڑے اٹکائے گئے، جس کی وجہ سے ان انتخابات کو مکمل شفاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ، اس سب کے باوجود گلگت بلتستان کے حلقہ 24 (گانچھے 3) میں ایک بہت بڑا آپ سیٹ دیکھنے کو ملا، جہاں پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری انجینئر محمد اسماعیل کو آزاد امیدوار اسد شفیق کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یاد رہے کہ انجینئر محمد اسماعیل 1994ء سے اس سیٹ پر ناقابلِ شکست چلے آ رہے تھے۔
دوسری طرف، مسلم لیگ ن نے گلگت بلتستان کے اس الیکشن میں وہ روایتی دلچسپی نہیں دکھائی جو وہ ماضی میں دکھاتی رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف گلگت تو آئے، لیکن بلتستان کا رخ کسی قابلِ ذکر نون لیگی رہنما نے نہیں کیا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن نے گلگت ڈویژن کی چند سیٹوں پر ہی قناعت کر لی اور بلتستان کو پیپلز پارٹی کی جھولی میں گرنے دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق، نون لیگی امیدواروں کو انتخابی مہم کے لیے فنڈز بھی ناکافی دیے گئے، جس سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے کہ مسلم لیگ کی مرکزی قیادت سمجھوتہ کر چکی تھی۔
اب بات کرتے ہیں دینی جماعتوں کی عبرت ناک شکست کی۔ ان انتخابات میں مذہبی جماعتوں کو شدید خفت کا سامنا کرنا پڑا، جس کی بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ پارٹیاں بھی اب روایتی سیاسی جماعتوں کے رنگ میں رنگ چکی ہیں۔ امیدوار کا نظریہ اور دینی قابلیت اب معیار نہیں رہا، بلکہ صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون کتنے ووٹ بٹور سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو اب ان میں اور دیگر سیاسی جماعتوں میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔
دینی پارٹیوں کی اصل قوت ان کا نظریہ اور دینی وابستگی ہوتی ہے، جس کے لیے نچلی سطح پر مربوط تربیتی نظام ناگزیر ہے۔ ماضی میں تحریک جعفریہ کے ساتھ آئی ایس او (ISO) اور آئی او (IO) جیسی تنظیمیں جڑی تھیں، جو عوامی سطح پر مخلص کارکن تیار کرتی تھیں۔ یہ نظریے کی طاقت ہی تھی جس کی بدولت گلگت بلتستان میں دینی جماعتیں ہمیشہ مضبوط کارکردگی دکھاتی رہیں۔ یا پھر کبھی کبھار انہیں وقتی سیاسی لہر کا فائدہ ملا، جیسے 2020ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کے عروج کے دوران مجلس وحدت مسلمین (MWM) کو خاصی پذیرائی مل گئی تھی۔
لیکن اب، مسلسل غلط فیصلوں کے باعث دینی جماعتوں کا وہ عوامی گراف گر چکا ہے۔ میرا ان جماعتوں کو یہی مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ گراؤنڈ لیول پر دوبارہ کام شروع کریں، عوام میں دینی و سیاسی شعور بیدار کریں اور نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑیں۔ اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم تمام دینی جماعتیں ایک متحدہ پلیٹ فارم سے الیکشن لڑیں۔ اب وہ وقت گزر گیا کہ عوام محض عمامہ دیکھ کر ووٹ دے دیں گے اور ستم بالائے ستم یہ کہ اب تو ان جماعتوں نے خود بھی عمامے یا دینی شعور کا پاس نہیں رکھا اور الیکٹیبلز کے چکر میں ہر طرح کے غیر موزوں شخص کو ٹکٹ تھما دیا۔ نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلا مرحلہ یعنی حکومت سازی کس کروٹ بیٹھتی ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ گلگت بلتستان کا اقتدار پیپلز پارٹی کے حصے میں آ چکا ہے۔ اب یا تو آزاد امیدواروں اور چھوٹی جماعتوں کو ملا کر پی پی پی اپنی حکومت بنائے گی، یا پھر وفاق کی طرز پر مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی جائے گی۔
خیر، منظرنامہ جو بھی ہو، عملی طور پر پیپلز پارٹی یہ معرکہ جیت چکی ہے۔ میری طرف سے پی پی پی کی قیادت اور تمام جیالوں کو جیت مبارک!

