Wednesday, 08 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Imran Ali Shah
  4. Muharram Ul Haram 2026: Behtareen Intezamat, Qaumi Yak Jehti Aur Khidmat e Khalq Ki Roshan Misal

Muharram Ul Haram 2026: Behtareen Intezamat, Qaumi Yak Jehti Aur Khidmat e Khalq Ki Roshan Misal

محرم الحرام 2026: بہترین انتظامات، قومی یکجہتی اور خدمتِ خلق کی روشن مثال

محرم الحرام صرف اسلامی سال کا آغاز نہیں، بلکہ صبر، قربانی، نظم و ضبط، اتحاد اور انسانی خدمت کے ان اصولوں کی یاد دہانی بھی ہے جنہیں واقعۂ کربلا نے ابد تک امر کر دیا۔ یومِ عاشور پر امن و امان کا قیام، عزاداروں کو سہولیات کی فراہمی اور مذہبی آزادی کا تحفظ ایک مہذب اور ذمہ دار ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس سال حکومتِ پنجاب نے وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں جس مربوط انداز سے محرم الحرام کے انتظامات کیے، وہ انتظامی صلاحیت، بین الادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی خدمت کی ایک قابلِ تقلید مثال بن گئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی واضح ہدایات کے تحت صوبہ بھر میں سکیورٹی، صفائی، صحت، ٹریفک، پانی، بجلی اور ہنگامی امداد کے مربوط انتظامات کیے گئے، جن کے نتیجے میں لاکھوں عزاداروں نے اپنے مذہبی فرائض پرامن ماحول میں ادا کیے۔ یہ محض ایک سرکاری مہم نہیں تھی، بلکہ ریاستی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری، پیشہ ورانہ مہارت اور عوامی خدمت کے جذبے کا عملی اظہار تھا۔ محرم الحرام کے دوران ہمیشہ کی طرح پاک فوج اور پاکستان رینجرز کی موجودگی نے سکیورٹی کے نظام کو مضبوط کیا، جبکہ پنجاب پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD)، سیف سٹی اتھارٹی اور ٹریفک پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، مؤثر نگرانی اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے امن و امان کو یقینی بنایا۔ حساس مقامات کی مسلسل مانیٹرنگ، جلوسوں کی حفاظت اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنا ایک کٹھن ذمہ داری تھی، جسے متعلقہ اداروں نے کامیابی سے ادا کیا۔

سول ڈیفنس کے رضاکار، ریسکیو 1122 کی ایمرجنسی ٹیمیں، محکمہ صحت کے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور ایمبولینس سروسز ہر لمحہ تیار رہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ان اداروں کی مستعدی قابلِ ستائش رہی۔

دوسری جانب ستھرا پنجاب اتھارٹی، واسا، واپڈا اور بلدیاتی اداروں نے جلوسوں کے راستوں کی صفائی و دھلائی، عرقِ گلاب کا چھڑکاؤ، نکاسی آب، بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور پینے کے صاف پانی کی دستیابی کے ذریعے عزاداروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی۔ یہ وہ خدمات ہیں جو پس منظر میں رہ کر بھی کسی بڑے مذہبی اجتماع کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کا کام نہایت حساس اور اہم نوعیت کا ہوتا ہے، اس محرم الحرام کے موقع پر حسب سابق، میڈیا ورکرز اور صحافی برادری کا کردار بھی قابلِ تحسین رہا۔ ذمہ دارانہ رپورٹنگ، مصدقہ معلومات کی بروقت ترسیل، افواہوں کی حوصلہ شکنی اور امن و مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں میڈیا نے اپنی قومی ذمہ داری بخوبی نبھائی۔ مثبت صحافت معاشرے کو جوڑنے کا وسیلہ بنتی ہے اور محرم الحرام کے دوران اس کا عملی ثبوت سامنے آیا۔

ضلع لیہ کی بات کی جائے تو یہاں ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نمایاں پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ الحمدللہ، ضلع بھر میں یومِ عاشور کے 95 عزاداری جلوس اور 204 مجالسِ عزا انتہائی پُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوئیں۔ 1200 سے زائد پولیس افسران و اہلکاروں نے سکیورٹی کے فرائض انجام دیے، جبکہ سیف سٹی کیمروں، سی سی ٹی وی سسٹم اور ضلعی کنٹرول روم کے ذریعے تمام جلوسوں اور حساس مقامات کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہی۔

ڈپٹی کمشنر آصف علی ڈوگر کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ نے مربوط حکمت عملی اختیار کی، جس کے نتیجے میں ضلع کے کسی بھی مقام پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ عزاداروں کو سکیورٹی، طبی سہولیات، ٹریفک مینجمنٹ، صفائی ستھرائی اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ جلوسوں کے راستوں کی دھلائی، عرقِ گلاب کا چھڑکاؤ اور سبیلوں کے انتظامات آخری جلوس تک جاری رہے۔

ضلع لیہ میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر حسن جاوید بھٹی، ڈی ایس پی صدر عمران خورشید اور ان کی پوری ٹیم نے جانفشانی، پیشہ ورانہ مہارت اور جذبۂ خدمت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے۔ پولیس کی مسلسل فیلڈ موجودگی، مؤثر سکیورٹی پلان اور عوام دوست رویے نے ضلع میں امن و امان کی فضا کو مستحکم رکھا۔

ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، محکمہ صحت، ستھرا پنجاب، بلدیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کی فیلڈ میں مسلسل سرگرمی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب تمام ادارے ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحرک ہوں تو بڑے سے بڑا انتظامی چیلنج بھی کامیابی میں بدل جاتا ہے۔

اس کامیابی میں ضلع امن کمیٹی، جلوس منتظمین، علمائے کرام، مذہبی قائدین اور باشعور شہریوں کا کردار بھی نہایت اہم رہا۔ مذہبی رواداری، برداشت، نظم و ضبط اور باہمی احترام نے ضلع لیہ کو ایک مثالی ضلع بنا دیا، جہاں تمام مکاتبِ فکرنے امن کو اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھا اور اس پر عمل کیا۔ یومِ عاشور کے کامیاب اور پُرامن انعقاد نے ثابت کیا کہ ریاستی اداروں کی مؤثر منصوبہ بندی، عوامی تعاون، مذہبی قیادت کی دانشمندی اور ذمہ دار صحافت مل کر ایسا ماحول پیدا کر سکتی ہے، جہاں عقیدت بھی محفوظ رہے، شہری بھی مطمئن ہوں اور امن بھی برقرار رہے۔

یہ کامیابی کسی ایک فرد یا ایک ادارے کی نہیں، بلکہ حکومتِ پنجاب، ضلعی انتظامیہ، پاک فوج، رینجرز، پولیس، سی ٹی ڈی، سیف سٹی اتھارٹی، ٹریفک پولیس، سول ڈیفنس، ریسکیو 1122، محکمہ صحت، ستھرا پنجاب، واسا، واپڈا، بلدیاتی اداروں، امن کمیٹیوں، علمائے کرام، جلوس منتظمین، میڈیا اور باشعور شہریوں کی مشترکہ کاوشوں کا ثمر ہے۔ دعا ہے کہ ﷲ تعالیٰ ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو ہمیشہ امن، اتحاد، مذہبی رواداری اور خوشحالی کا گہوارہ بنائے اور ہمیں واقعۂ کربلا کے حقیقی پیغام، یعنی صبر، عدل، خدمتِ انسانیت اور باہمی احترام، پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

About Syed Imran Ali Shah

Syed Imran Ali Shah, a highly accomplished journalist, columnist, and article writer with over a decade of experience in the dynamic realm of journalism. Known for his insightful and thought-provoking pieces, he has become a respected voice in the field, covering a wide spectrum of topics ranging from social and political issues to human rights, climate change, environmental concerns, and economic trends.

Check Also

Masnoi Zahanat Se Khudkar Tajurba Gahon Tak

By Muhammad Rizwan Arif