Monday, 09 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sondas Jameel
  4. Nanha

Nanha

ننھا

ایک نکڑ جو چار گلیوں میں کھلتی اور اس نکڑ پر علی الصبح ننھا اپنی سبزی کی دکان کا شٹر اٹھاتا جس کی آواز آج تک نہ سنی گئی تھی۔ ہر صبح اسکول جاتے اس نکڑ پر ہمیں ننھا اپنی سبزیوں کو نہلا کر جچائے بیٹھا اخبار پڑھتا نظر آتا۔ نکڑ کو مڑتے ہوئے ذہن جوٹ کے ہوادار پردے سے جھانکتی پانی کے قطروں میں شرابور سبزیوں کی مہک کا منتظر ہوتا۔

ننھا کبھی اسکول جاتے ہوئے بچوں کو آنکھ اٹھا کر دیکھ لیتا تو کبھی اپنے اخبار کے صفحوں میں مگن رہتا۔ وہ بچوں کو دیکھ کر نہ کھلکھلاتا نہ چمکارتا مگر پھر کبھی ایسا محسوس نہ ہوتا کہ وہ بچوں کو ناپسند کرتا ہے۔

ننھا سبزیوں کے ساتھ دکان کے عقبی حصے میں ٹافیاں اور بسکٹ بھی بیچنے کے لیے رکھتا جہاں صرف بچے ہی آتے۔ بچے جو ننھے کو سبزیاں تولنے میں لگا دیکھ کر مٹھی بھر ٹافیاں جیبوں میں بھر لیتے۔ ننھے کی اس لاپرواہی نے کئی بچوں کو اپنی زندگی کی پہلی چوری پر اکسایا۔

ننھے کے تین بہن بھائی اور بھی تھے جو دکان کے ساتھ ملحقہ گھر میں رہتے۔ ننھا ان سب سے چھوٹا تھا شاید اسی لیے ننھا نام پڑا ہو گو کے اس کا قد اس نام کی چشم دید گواہی تھا۔ ننھا واقعی میں ایک ننھا گول مٹول سا آدمی تھا۔ ننھے اور اسکے بہن بھائیوں میں سے کسی کی شادی نہ ہوئی تھی۔ دو بہنیں جن کو ہم نے ہمیشہ اپنی امی کی عمر کا دیکھا اور ننھا اور ننھے کا بڑا بھائی ہمیشہ اپنے ابو کی عمر کے لگے۔

ننھے کی ایک بہن کا نام گڈی تھا وہ ننھے کی غیر موجودگی میں دکان پر بیٹھی نظر آتی۔ وہ بچوں کو دیکھ کر ہنس دیا کرتی مگر اسکی ہنسی میں بھی وہ اپنائیت نہ ہوتی جو ننھے کے سپاٹ چہرے کی چُپ میں ہوتی۔

ننھے کی دکان گلی کا مرکز تھی۔ ننھے کا گھر غالباً چند ان گھروں میں شامل تھا جہاں کیبل موجود تھی۔ شام کے وقت گلی میں کھیلتے بچے ننھے کے گھر کا دروازہ کھلا دیکھ کر اندر آنکلتے جہاں گرمیوں کے دنوں میں حبس زدہ کمرے سے ٹی وی نکال کر صحن میں رکھا ہوتا جس پر اسٹار پلس کا کوئی ڈرامہ چلتا جو ننھے کی بہن گڈی کو من و عن قسط وار یاد ہوتا۔

محلے والے ننھے اور اسکی فیملی کے بارے میں کم جانتے تھے۔ امی بڑے بھائی کو چھیڑا کرتی تھی کہ تمہاری شادی نہیں کرنی جیسے ننھے کہ نہیں ہوئی اور تم بھی سبزی کی دکان چلاؤ گے جیسے ننھا چلاتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان چار بہن بھائیوں نے شادیاں کیوں نہ کی۔

آج تک ننھے کا کسی سے جھگڑا نہ ہوا، سارا دن ننھا خواتین کی سبزیاں تولتا، سپاٹ چہرے سے بچوں کو دیکھتا اور اخبار پڑھتا۔ اس کے تعارف میں اور کوئی بات نہیں تھی۔ اسے کبھی رات کو باہر نہیں دیکھا کبھی گلی میں ٹہلتا نہیں پایا وہ صرف صبح کے وقت اپنی خاص جگہ پر نظر آتا دوپہر سکول سے واپسی پر دکھتا اور سورج ڈوبنے کے ساتھ ہم کھیل کر واپس آتے اور ننھا دکان بند کرکے گم ہوچکا ہوتا۔

بچپن چہروں کے بارے میں تجسس رکھتا ہے مگر انہیں ٹھہر کر سوچنے کا وقت نہیں دیتا۔ ننھے کا چہرہ دیکھ کر تجسس ہوتا مگر رک کر سوچنے کا وقت نہ ملتا۔ کبھی نہیں سوچا کہ ننھے کی زندگی کیا ہے، وہ بچپن میں کیسا تھا، وہ شادی کے بارے میں کیا سوچتا ہے اگر واقعی اس بارے میں کچھ سوچتا ہے۔

تھوڑی ہوش سنبھالی تو ننھے کی کنپٹی کے سفید بال دکھنے لگے، گُڈی کے بارے میں غلط افواہیں سننے کو ملی مگر کچھ خاص نہیں بدلا۔ ننھا اب بھی صبح منڈی سے سبزیاں لا کر دھوتا بیچتا اور سورج غروب ہوتے ہی گم ہو جاتا۔ ابو کہتے تھے یہ ننھا عید کی نماز میں بھی کبھی نظر نہیں آیا عجیب انسان ہے۔

کسی نے ننھے کے منھ سے سوائے سبزیوں کے دام کے اور کچھ نہ سنا، وہ ہنستا ہوا کیسا دکھتا ہے نہیں معلوم۔ محلے کی شادی میں ننھے کی فیملی کے ایک ممبر کو بلا لیا جاتا جہاں عمومآ ننھا ہی جاتا اسے ولیمے میں ہمیشہ سفید سوٹ پہنے دیکھا۔ محلے میں اور بھی دکانیں تھیں نائی لوہار ترکھان الیکٹریشن اور یہ سب ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے مگر ننھے کو کبھی کسی کی دکان پر نہ دیکھا گیا۔

ننھا سبزی فروش کے علاوہ کیا تھا اسکی زندگی سبزیوں کے علاوہ تھی بھی کہ نہیں، کیا اسکے مشاغل بھی تھے وہ زندگی کے بارے میں کیا سوچتا تھا، اسکے دل میں نفرت کا جزبہ بھی کہیں تھا، کیا اس کی زبان نے لفظ محبت بھی کبھی کہا تھا، کیا وہ اس بات سے آگاہ تھا کہ اسکے کنوارے رہ جانے پر کئی گھروں میں شام کی چائے پر بات ہوتی تھی۔

دن بھر بچے دیکھنا اور بیاہی عورتوں کے جھرمٹ میں رہنا کیا یہ مل کر ننھے کی تنہائی میں کرب کا رنگ گہرا نہ کر دیتے ہوں گے۔ وہ سورج غروب ہوکر اپنے سبزی کے پھٹے سے گم ہوکر کہیں اور حاضر بھی ہوتا تھا؟ ایک شخص اپنی صبحیں دوپہریں اور شامیں سبزیوں کے ساتھ بیٹھ کر کیسے گزار سکتا ہے، میلے نوٹ گلّے میں بھر کر رات کو سو جانا سوائے اسکے کچھ نہ سوچنا نہ کرنا نہ کہیں جانا کبھی ناغہ نہ کرنا یہ ننھا آخر اکتاتا کیوں نہیں تھا۔ اسے لفظ اکتاہٹ کا علم بھی تھا کیا؟

ہم محلہ چھوڑ چکے تو نیا گھر ننھے کے پھٹے سے دور پڑتا تو اب ننھے کی سبزیاں خریدنا ممکن نہیں تھا، بچپن سے لڑکپن تک روز دکھنے والا ننھا اب ہفتے میں ایک بار نظر آتا جب رکشہ عین اسی نکڑ پر اتارتا جہاں ننھا اپنی سبزیوں کے سامنے اخبار پڑھتا دکھ جاتا۔ اسے شاید پتہ بھی نہ ہو کے اسکی دکان سے ٹافیاں چرانے والے بچے اب اسی کے سامنے بڑے ہوگئے ہیں اور وہ بوڑھا سا دکھنے لگا ہے۔

عمر گزرنے کا اندازہ دوستوں کی بڑھتی عمر دیکھ کر لگایا جاتا ہے ننھے کے پاس تو سوائے کنوارے تین بہن بھائیوں کے کوئی دوست نہ تھا۔ ننھا شاید شہر کا سب سے اکیلا آدمی تھا۔

ننھے نے نہ جسم کا لمس چکھا نہ من کا بھید کسی کو دیا، نہ اتنا بندوں کے قریب ہوا کہ حقوق العباد کی حد قائم ہوسکے محلہ جس وقت اٹھ کر خدا کے حضور جاتا ننھا سبزی منڈی کا رخ کر لیتا۔

ننھا دو بدن ملنے سے اس دنیا میں آنکلا تھا لانے والوں کو نہیں پتہ کہ اسکا کیا کرنا ہے خود تو ویسے ہی وہ بے خبر رہتا۔ ننھا ایک سبزی بیچنے والا روبورٹ لگتا جس میں چند گنتی کے فنکشن انسٹال تھے۔ وہ نہ غصہ کرتا نہ ہوس رکھتا نہ شکایت کرتا، اسے تولنا اور پیسے گننا سکھا کر محدود لفظوں کی ڈکشنری دے کر لوگوں کے گھروں میں سبزیاں مہیا کرنے پر معمور کردیا گیا تھا۔

اب ننھا کینسر سے سڑے سیلز کے ساتھ زمین کے کسی حصے میں دفن ہوچکا ہے۔ اسکا سبزی کا پھٹہ شاید اب اسکی بہن گڈی نے سنبھال لیا ہے مگر کوئی نہیں یاد کرتا کہ یہاں اس سے پہلے ننھا ہوا کرتا تھا جیسے اسے یاد کرنا اتنا ہی بےمعنی ہے جتنا یہ یاد کرنا کہ دس سال پہلے ہفتے کے روز کونسی سبزی ننھے کے ہاتھ سے لے کر پکائی تھی۔

Check Also

Brain Drain Ya Brain Gain?

By Atiq Chaudhary