Monday, 12 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sondas Jameel
  4. Be Rabtagi Ke Naam

Be Rabtagi Ke Naam

بے ربطگی کے نام

آدمی اپنا جائزہ خود لیتے ہوئے ڈر جاتا ہے اور دوسری جانب اپنے متعلق رائے مانگنے کا حوصلہ لوگوں میں آ کہاں سے رہا ہے! اختتام پر کسی بھی چیز کا جائزہ ویسے ہی نہیں لینا چاہیے۔ کتنا کمایا، کتنا لگایا، کتنے وقت کا ضیاع ہوگیا، کتنا کارآمد رہا سب کو صفر کے کوڑے دان میں پھینک آنا چاہیے۔

خوشی سمیٹنے کی جستجو سے بڑھ کر بھدا کام کوئی نہیں اگر اسے بھی کسی شمار میں لا رہے ہیں تو شوخے ہیں آپ۔

ہم ایسا کرتے ہی کیا ہیں جو جائزہ لیا جائے۔ نہ ڈھنگ سے نیکی کرتے ہیں، نہ شر میں پورے نکلتے ہیں۔ پشیمانیوں میں ڈوبے مایوسی بھی پوری نہیں چکھ پاتے۔ ہے کوئی شخص! جو کسی ایک جزبے میں مکمل ہو۔

مایوسی سے یاد آیا کہ جو مایوس ہو اسے رہنے دیا جائے ریسکیو پر نہ اترا جائے۔ بسمل کا خدا حافظ۔

ایک وقت میں ایک خیال کے متعلق سوچنے والے بڑی سہولت میں ہیں۔ بہت سا سوچنے والے اور اس سوچ پر گہرا سوچنے کا گمان رکھنے والے عقوبت زدگی کا شکار ہیں، مگر ایسی نیچ انا کے ساتھ بھی خود کو یونانی خداؤں کو مکالمے میں ہرانے جیسی خود اعتمادی اپنے اندر پالے ہوئے ہیں۔ انہیں مٹی ہی پوچھے گی۔

لفظ "میں" اور "میرا" کا استعمال کسی بھی تحریر کو ناپسندیدہ بنا دیتا ہے، ہر لفظ سے نرگسیت کی بو آنے لگتی ہے لکھنے والے نہیں سونگھ سکتے مگر ذلیل قسم کے پڑھنے والوں کے نتھنوں میں گھستی چلی جاتی ہے۔ فار مثال، میں لکھوں، میں پڑھوں میری فلاسفی میری کامیابی، میری جدوجہد، میری لگن، میرا جنون، میرا وقت، کم آن۔۔! یہ میں اور میرے کی گردان قاری کا رُو خراب نہیں کرتی ہے کیا؟

ٹارزن کی کہانیاں اس لیے دلچسپ تھیں کہ رائٹر کا بیانیہ کبھی میں اور میرے سے نہیں شروع ہوتا تھا۔ حتی کہ خدا اپنے ساتھ میں لگاتا ہے۔ دیکھو اس کے کام زرا۔۔

برا لگتا ہے، کون اسے سمجھائے کہ اس اسلوب میں ایسی شوخی کے نمبر کٹ جاتے ہیں اورا منفی میں کاؤنٹ ہوتا ہے۔

ربط، ہر فن کا دشمن ہر گناہ پر بےلذتی کی لعنت کا نام ربط، ثواب کے لالچ میں پارسائی کے ہاتھوں گُھٹنے کے پیچھے ربط، کامیابی کی سیڑھی ربط اور اس سیڑھ پر زہر سے بھرے بیٹھے سانپ کا نام ربط، آدمی کو موت سے بچا کر زندگی کا کرب جھیلتے رہنے جیسے عذاب نما حوصلے کا نام ربط۔ یہ ربط، تسلسل و قائمگی جو بھی بیچ رہا ہے اسکی دکان جلا دیں اسے بھی جلادیں۔ کہیں سے بے ربطگی چند پیسوں کی بولی بڑھا کر خرد لائیں۔ اسے نہاریں عزیز جانیں دانتوں کے نیچے رکھ کر بغیر قوت کے چتھتے رہیں جسم میں گھلنے دیں۔

کوئی ایک زندگی بھی ایسی قیمتی نہیں جسے ربط کے ہاتھوں ٹھیک کرنے بھجوایا جائے۔

اچھا یہ جانے دیں۔

ہر جزبے میں لطف کا عنصر جھاگ بن کر بیٹھ گیا جب غور کیا کہ یہی جزبہ ہوبہو ایک بھکاری کے پاس بھی آتا ہے ایک چرواہے کے دل سے ہوکر بھی گزرا ہے، ایک معذور کے اندر بھی چھپ کر بیٹھا ہے تو پھر ایسے جزبے کو رد کیوں نہ کیا جائے جو سب پر ایک ہی طرح سے پیہم وارد ہورہا ہے۔ جام ہے کہ کوئی فرق نہیں کر رہا محل ہو کے جھونپڑی گلاس مے خانوں میں کھنکے یا حجروں میں، مفلس و رئیس کے جسم میں گھل کر ناانصافی نہیں کرتے، دونوں کو برابر برباد کرتے ہیں۔

مسرت کے جذبوں پر اور خوشی کے ذریعوں پر کیوں اِترایا جائے جو کوئی بہت کم کوشش کرکے بھی پورے لے رہا ہے، جب کہ اسی مقدار میں لینے کے لیے کسی کو پہاڑ چڑھنا پڑھ رہا ہے اور پٹاری میں پڑا دماغ ان سب سے بے نیاز ہے کہ اسے بہت کچھ کرکے ملی تسکین اور کچھ نہ کرتے ہوتے محض سوچ کر خوش ہوئے جزبے میں تفریق کی تمیز نہیں ہے۔ لوگ ہیں کہ ہلکان ہوئے جاتے ہیں اسے بہلانے میں۔ یاالہی! یہ ماجرا کیا ہے؟

بے ربطگی کے نام۔۔

Check Also

TTP, Molana Ka Istadlal Aur Americi Afreet

By Abdul Hannan Raja