Wednesday, 04 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sohail Bashir Manj
  4. Taqat Ke Ewano Mein Qanoon Ki Dastak

Taqat Ke Ewano Mein Qanoon Ki Dastak

طاقت کے ایوانوں میں قانون کی دستک

جنرل فیض حمید کے فیصلے کا دن پاکستانی تاریخ کے صفحات میں ایک غیر معمولی موڑ کے طور پر درج ہوگیا ہے جہاں ماضی کے طاقتور کرداروں کا احتساب ایک نئی اور سنگین حقیقت بن کر سامنے آیا ہے۔ فیض حمید جن کا نام ایک طویل عرصے تک ملکی سیاست اور خفیہ معاملات میں پراسرار اثر و رسوخ کا استعارہ سمجھا جاتا تھا۔ انہیں ایک فوجی عدالت نے چودہ سال قید با مشقت کی سزا سنا کر ملک کے طاقتور ترین اداروں میں جوابدہی کی ایک لکیر کھینچ دی ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف جنرل صاحب کے لیے ایک دل دہلا دینے والا انجام ہے بلکہ یہ ان تمام روایتی تصورات کو بھی لرزا دیتا ہے جن کے تحت ماضی میں چند عہدوں کو احتساب سے بالاتر سمجھا جاتا رہا ہے۔

اس غیر متوقع اور تاریخی سزائے قید نے قوم میں ایک گہری بحث چھیڑ دی ہے ایک طرف یہ عدلیہ کی آزادی اور اداروں کی پاکیزگی کے لیے ایک امید افزا اشارہ ہے تو دوسری طرف یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ احتساب کا سفر محض ایک فرد تک محدود رہے گا یا یہ نظام کی گہرائیوں تک پھیلے گا جہاں طاقت کے غیر آئینی استعمال کی جڑیں مضبوط ہیں۔ بہرحال یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وقت کا پلڑا جب بدلتا ہے تو بڑی سے بڑی حکمرانی اور طاقتور ترین عہدے بھی تاریخ کے کٹہرے میں بے بس کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

فیض حمید کے خلاف فوجی عدالت کا فیصلہ دراصل ان سنگین اور گہرے زخموں کا اعتراف ہے جو طاقت کے ایک غیر معمولی مرکز نے پاکستان کے نازک جمہوری تانے بانے کو پہنچائے۔ ان پر عائد ہونے والے الزامات جن میں سیاسی مداخلت، اختیارات کا ناجائز استعمال، ریاستی رازوں کی خلاف ورزی، تین ہزار سے زیادہ افغان دہشت گردوں کو پاکستان میں لا کر بسانا اور یہاں تک کہ شہریوں کو نقصان پہنچانے کے نکات شامل ہیں۔ یہ محض قانونی دفعات نہیں بلکہ اس بات کی شہادت ہیں کہ کس طرح ایک کلیدی عہدے پر فائز شخص نے اپنے مطلق العنان اثر و رسوخ کو قومی مفادات کے بجائے شخصی اور گروہی سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے استعمال کیا۔

ان کے دور میں یہ تاثر عام ہوا کہ سیاست کی بساط پر عوامی ووٹ کی قوت سے زیادہ کسی امپائر کے اشارے کی اہمیت ہے جس نے ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کی دراڑیں پیدا کیں اور آئینی حدود کو غیر مرئی ہاتھوں سے پار کیا گیا۔ اس مداخلت کے نتیجے میں ملک کو سیاسی عدم استحکام کی ایک طویل دلدل کا سامنا کرنا پڑا جس نے معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا اور ملک کے اندرونی معاملات کو بین الاقوامی سطح پر تماشا بنا دیا۔ ایک ادارے کے سابق سربراہ کی جانب سے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی نے ریاست کی سالمیت کو براہ راست داو پر لگا دیا اور قوم کے اس اعتماد کو مجروح کیا جو خفیہ اداروں پر ملک کی حفاظت کے لیے کرتی ہے۔ مختصر یہ کہ جنرل فیض حمید کا معاملہ طاقت کے نشے میں فرد کی اخلاقی پستی اور ملک کو درپیش اس اہم چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے جہاں اداروں کے اندرونی احتساب کے بغیر قومی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

فیض حمید کو سنائی گئی سزا کے بعد یہ سوال فطری طور پر جنم لیتا ہے کہ کیا احتساب کا یہ عمل ایک تنہا مثال رہے گا یا یہ سلسلہ مزید آگے بڑھے گا۔ اس تاریخی فیصلے نے بلا شبہ ایک ایسی مثال قائم کر دی ہے جس کے سائے میں اب وہ تمام افراد آ سکتے ہیں جنہوں نے کسی بھی دور میں طاقت کے نشے میں ملکی آئین قانون اور ریاستی حدود کو غیر ذمہ دارانہ طریقے سے پامال کیا۔ میرا خیال ہے کہ اب ان سویلین اور فوجی حکام پر دباو بڑھ سکتا ہے جو ماضی میں سیاسی انجینئرنگ غیر قانونی نگرانی یا اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سویلین حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کے عمل میں جنرل صاحب کے دست و بازو رہے ہیں خاص طور پر وہ لوگ جو 2017 کے دھرنے 2018 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور پھر بعد ازاں ایک خصوصی سیاسی جماعت کو غیر معمولی فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی پردہ پوش سازشوں میں براہ راست ملوث رہے۔

انہیں ممکنہ طور پر اندرونی احتساب کے دائرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یہ بات اہم ہے کہ فوجی عدالتوں میں کسی بھی وقت مزید انکوائریز کھولے جانے کا امکان موجود رہتا ہے لہٰذا وہ سینئر افسران جو جنرل فیض حمید کے ماتحت اہم عہدوں پر فائز تھے اور ان کے متنازع احکامات کی تعمیل کرتے رہے اب خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں ہیں یہ فیصلہ دراصل "سزا اور جزا" کے اصول کو اداروں کے اندر دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش ہے جس کا حتمی ہدف ریاستی اداروں میں نظم و ضبط اور آئینی بالادستی کو یقینی بنانا ہے اور اس کا دائرہ کسی بھی مشہور یا گمنام مجرم کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

فیض حمید جو خود ایک تاریخی سزا کا سامنا کر رہے ہیں کسی غیر معمولی پیش رفت کے تحت وعدہ معاف گواہ بننے کا فیصلہ کرتے ہیں اور اپنے دور اقتدار میں سیاسی مداخلت اور آئین کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے تمام پردہ پوش حقائق افشاں کرتے ہیں تو یہ یقینی طور پر پاکستانی سیاست کے ایوانوں میں ایک زلزلہ برپا کر دے گا۔ اس صورت میں سب سے پہلے وہ اعلیٰ سیاسی شخصیات احتساب کے شکنجے میں آتی دکھائی دیں گی جنہیں 2018 کے جنرل الیکشن میں اقتدار تک پہنچانے کے لیے مبینہ طور پر ہینڈل کیا گیا اور بعد ازاں جنہوں نے طاقت کے اس غیر آئینی کھیل میں جنرل صاحب کے ساتھ منظم طریقے سے تعاون کیا۔ اس دائرے میں خود عمران خان کے علاوہ ان کی کور ٹیم کے اہم وزراء اور قریبی معاونین شامل ہوں گے جنہوں نے مبینہ طور پر ریاستی مشینری کو اپوزیشن کو کچلنے اور ناجائز سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔

یہ احتساب محض سیاستدانوں تک محدود نہیں رہے گا۔ فیض حمید کے بیانات ان سویلین بیوروکریٹس سابقہ چیف جسٹس اور پولیس افسران کی طرف بھی اشارہ کر سکتے ہیں جو ان کے متنازع سیاسی احکامات کی تعمیل میں پیش پیش رہے جنہوں نے غیر قانونی گرفتاریوں، ماورائے قانون سرگرمیوں اور اختلاف رائے کو دبانے میں کردار ادا کیا۔ یہ احتساب اندرونی صفائی کے ایک ایسے عمل کا آغاز کر سکتا ہے جس میں فوجی عہدوں پر فائز وہ دوسرے سینئر افسران بھی شامل ہو سکتے ہیں جنہوں نے جنرل صاحب کے ساتھ ان کی سیاسی انجینئرنگ میں معاونت کی یا ان کی غلط پالیسیوں کو تقویت دی، لہٰذا وعدہ معاف گواہ بننے کی صورت میں یہ معاملہ ایک مخصوص سیاسی جماعت کے احتساب سے کہیں زیادہ وسیع ہو کر ان تمام ریاستی فنکشنریز کو لپیٹ میں لے گا جنہوں نے قانون سے بالاتر طاقت کو اپنی ڈھال بنایا۔

Check Also

Maryam Ki Guddi Ab Bulandion Par Hai

By Dr. Abrar Majid