Wednesday, 04 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sohail Bashir Manj
  4. Barf Ka Kafan Aur Hukumrano Ki Behissi

Barf Ka Kafan Aur Hukumrano Ki Behissi

برف کا کفن اور حکمرانوں کی بے حسی

جنوری کی وہ سرد اور سیاہ رات مری کے برفیلے پہاڑوں پر قیامت بن کر ٹوٹی جب آسمان سے گرتی سفید برف معصوم سیاحوں کے لیے کفن بن گئی۔ اس وقت کی تحریک انصاف حکومت کی مجرمانہ غفلت اور سنگدلی کا یہ عالم تھا کہ مری کے راستوں پر انسانی جانیں سسک رہی تھیں اور حکمران اپنی عیاشیوں اور خواب خرگوش میں مگن تھے۔ وہ مائیں وہ بہنیں اور وہ ننھے بچے جو خوشیاں منانے گئے تھے برف کے بے رحم طوفان میں اپنی گاڑیوں کے اندر ہی منجمد ہو کر رہ گئے۔ انتظامیہ کی نااہلی کا یہ حال تھا کہ ہزاروں گاڑیاں پھنسی ہونے کے باوجود کوئی بچاؤ کا راستہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی برف ہٹانے والی مشینری وقت پر پہنچی۔

معصوم پاکستانی اس امید پر دم توڑ گئے کہ شاید ریاست انہیں بچانے آئے مگر ریاست کے کارندے اور پی ٹی آئی کے وزراء تو اس المناک سانحے کو سیاحت کے فروغ کا نام دے کر اپنی بے حسی کا ثبوت دے رہے تھے۔ بائیس سے زائد قیمتی جانوں کا ضیاع صرف ایک قدرتی آفت نہیں تھی بلکہ یہ اس وقت کے حکمرانوں کی بے تدبیری اور انسانی جانوں سے بیزاری کا منہ بولتا ثبوت تھا جس نے کئی گھروں کے چراغ ہمیشہ کے لیے گل کر دیے تھے۔ مری کی وہ برفیلی سڑکیں آج بھی ان بے گناہ مقتولین کی چیخوں کی گواہی دیتی ہیں جنہیں حکومتی غفلت نے جیتے جی برف میں دفن کر دیا اب دونوں سیاسی جماعتوں کی طرز حکمرانی کا فرق ملاحظہ فرمائیے۔

مری کی حسین وادیوں میں رواں سال سیاحوں کی آمد پر پنجاب حکومت کی جانب سے کیے گئے۔ انتظامات نے نظم و ضبط کی ایک نئی اور روشن مثال قائم کی۔ ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے اس بار انتظامیہ پہلے سے کہیں زیادہ منظم اور متحرک نظر آئی جس کی وجہ سے سیاحوں کو کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ محترمہ مریم نواز کی قیادت میں صوبائی حکومت نے مری کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر ٹریفک پلان کو انتہائی مربوط بنایا اور برف باری کے دوران مشینری کی بروقت موجودگی کو یقینی بنایا تاکہ راستے بلا تعطل کھلے رہیں۔

سیاحوں کی سہولت کے لیے جگہ جگہ ہیلپ ڈیسک قائم کیے گئے اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔ ہوٹل مالکان کی جانب سے اضافی کرایوں کی وصولی پر کڑی نظر رکھی گئی اور ضلعی انتظامیہ نے خود میدان میں اتر کر سیاحوں کی داد رسی کی جو کہ ایک خوش آئند قدم ہے تاہم ان بہترین انتظامات کو مزید بہتر بنانے کے لیے مری میں پارکنگ کے مسائل کا مستقل حل نکالنے کی ضرورت ہے اور جدید ترین شٹل سروس کا آغاز کیا جا سکتا ہے تاکہ مری کے اندر گاڑیوں کا دباؤ کم ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاحتی مقامات پر ڈیجیٹل انفارمیشن ڈسپلے مری اور گرد و نوا ح میں موجود موبائل فونز پر ایس ایم ایس الرٹ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے آگاہ کرنے کے لیے اسمارٹ ایپ کو مزید فعال بنا کر سیاحوں کے تجربے کو یادگار بنایا جا سکتا ہے۔

عوامی شعور کی بیداری کے لیے مہم چلا کر سیاحوں کو کوڑا کرکٹ پھیلانے سے روکنے اور ماحول کی حفاظت پر آمادہ کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ مری کا قدرتی حسن بھی برقرار رہے اور سیاح بھی مکمل تحفظ کے ساتھ ان خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہو سکیں۔ پنجاب حکومت کے ان بروقت اقدامات نے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور عزم پختہ ہو تو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکتا ہے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں برف باری کو محض ایک قدرتی نظارہ نہیں بلکہ ایک بڑی انتظامی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے جہاں ریاست اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور پیشگی منصوبہ بندی کا سہارا لیتی ہے۔ ان ممالک میں برف باری کا آغاز ہوتے ہی اسمارٹ مانیٹرنگ سسٹم متحرک ہو جاتا ہے اور سڑکوں پر خودکار مشینری کے ذریعے نمک کا چھڑکاؤ اور برف کی صفائی کا کام منٹوں میں مکمل کر لیا جاتا ہے تاکہ نظام زندگی معطل نہ ہو وہاں کی حکومتیں موسم کی شدت سے نمٹنے کے لیے جی پی ایس ٹریکنگ اور لائیو ٹریفک آپ ڈیٹس کے ذریعے عوام کو لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھتی ہیں۔

پاکستان کے صحراؤں میں ہونے والی جیپ ریلیوں میں انٹرنیشنل کار ریسرز کو بلایا جائے اور سیاحوں کی حفاظت کے لیے ٹورزم پولیس کو مزید فعال بنایا جائے تو پنجاب بہت جلد ایشیا کا سب سے بڑا سیاحتی مرکز بن کر ابھر سکتا ہے جو نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ ملکی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا یہی وہ وڑن ہے جو پنجاب کو ایک جدید اور خودکفیل صوبہ بنا سکتا ہے۔

پنجاب کی آغوش میں کوہ سلیمان کے دلفریب واٹر فالز اور کالا باغ کے رنگین پہاڑ جیسے ان گنت مقامات آج بھی حکومتی توجہ کے منتظر ہیں جو اپنی خوبصورتی میں کسی عالمی سیاحتی مقام سے کم نہیں اگر حکومت ان گمنام علاقوں میں انفراسٹرکچر اور رسائی کو بہتر بنائے اور اس کی بین الاقوامی سطح پر تشہیر کرے تو یہاں سے حاصل ہونے والا زر مبادلہ ملکی معیشت کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مری سے آگے بڑھ کر ان چھپے ہوئے ہیروں کو تراشا جائے اور وہاں قیام و طعام کی بہترین سہولیات فراہم کرکے دنیا کو پنجاب کا اصل رخ دکھایا جائے تاکہ یہ مقامات عالمی نقشے پر ابھر کر ریاست کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکیں۔

Check Also

Moscow Se Makka (22)

By Mojahid Mirza