Thursday, 03 April 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sohaib Rumi
  4. Rozgar Ki Nayi Raahein

Rozgar Ki Nayi Raahein

روزگار کی نئی راہیں

عصر نو کے جوانوں میں خوابوں کا ایک جہان آباد ہے۔ یہ خواب کوئی معمولی خواہشات نہیں، بلکہ اک جہد مسلسل کی آواز ہیں۔ کہیں ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر دنیا کو فتح کرنے کی تمنا ہے او ر کہیں ماں باپ کے چہروں پر اطمینان کی مسکراہٹ دیکھنے کی آرزو۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ایک کاروبار کھڑا کرے گا، کوئی چاہتا ہے کہ اس کی بنائی ایپ دنیا کے کونوں کونوں میں پہنچے اور کوئی بس ایک نوکری کے لیے ترس رہا ہے۔ لیکن یہ خواب کیا واقعی رنگ لاتے ہیں یا یہ بس جگنوؤں کی مانند ہیں جو رات کو چمکتے ہیں اور صبح کے اجالے میں کہیں کھو جاتے ہیں؟ آئیے، اس سوال کا جواب تلاش کریں۔ خوابوں، مشکلات اور موجود مواقع کی بات کریں۔

مروجہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد زندگی ایک عجیب موڑ لیتی ہے۔ ڈگری ہاتھ میں ہوتی ہے، لیکن جیب خالی اور دل بوجھل۔ نوکری کی تلاش میں درخواستیں، انٹرویوز کے لیے راتوں کی نیند حرام اور پھر وہ لمحہ جب کوئی کہتا ہے، "تجربہ کم ہے" یا "اب تو عمر نکل گئی" یہ بے روزگاری کی دیوار ہے، جو بلند بھی ہے اور کھردری بھی۔ لیکن کیا یہ دیوار ہمارے حوصلوں سے بھی بلند ہوتی ہے؟ شاید نہیں! ہم اس دیوار کے سامنے سر نہیں جھکاتے بلکہ اسے توڑنے کے لیے نئے راستے تراشتے ہیں۔ جیسے کوئی مصور خالی کینوس پر رنگ بھرتا ہے اور پھر اپنی محنت سے اپنی تقدیر کے رنگ بدلتا ہے، ویسے ہی ہم ذہنوں میں مسلسل کوشش کی جوت جگائے رکھتے ہیں۔

سماج کا دباؤ ایک الگ کہانی ہے، جیسے کوئی پرانا ناول جس کے کردار بدلتے نہیں۔ گھر میں ماں باپ کی توقعات کہ اب کمائی شروع ہو، محلے والوں کی چہ میگوئیاں کہ فلاں کا بیٹا تو کامیاب ہوگیا اور دوستوں کی باتیں کہ وہ تو اب اپنی گاڑی میں گھوم رہا ہے۔ لڑکیوں کے لیے یہ دباؤ دوگنا ہو جاتا ہے کہ شادی کی باتیں، گھر سنبھالنے کی ذمہ داریاں اور اگر وہ کچھ اپنا کرنا چاہیں تو "یہ لڑکیوں کے بس کا نہیں" جیسے طعنے۔ لیکن کبھی کبھی یہ دباؤ ان کے پاؤں کی زنجیریں نہیں، بلکہ ان کے عزائم کو جلا بخشنے والا ایندھن بن جاتا ہے۔ وہ ان زنجیروں کو توڑ کر، اپنے خوابوں کے آسمان کی طرف اڑان بھرتے ہیں، جیسے کوئی پرندہ جو طوفان کے بعد بھی اپنا گھونسلا بناتا ہے۔

اب ذرا دنیا کے افق پر نظر دوڑائیں۔ آج کا زمانہ وہ ہے جہاں ایک لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ آپ کو عالمی منڈی سے جوڑ دیتی ہے۔ فری لانسنگ اسی کا نام ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں لاہور کا نوجوان لندن کی کمپنی کے لیے لوگو بناتا ہے، کراچی کا لکھاری نیویارک کے میگزین کیلئے لیے قلم اٹھاتا ہے اور کوئٹہ کا ڈیزائنر جرمنی کے کلائنٹ کو متاثر کرتا ہے۔ یہ کوئی افسانہ نہیں، بلکہ وہ سچائی ہے جو پاکستانی نوجوانوں کے ہاتھوں رقم ہو رہی ہے۔ اس کے لیے نہ بڑی ڈگری چاہیے، نہ سفارش کے خط۔ بس ایک ہنر اور اسے چمکانے کی لگن۔ جیسے کوئی سنگ تراش اپنے فن کو تراشتا ہے، ہم ہر سمت سے یہاں تک کہ یوٹیوب سے اپنی صلاحیتوں کو سنوارتے ہیں اور دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

سٹارٹ اپس کی دنیا بھی کم دلچسپ نہیں۔ نوکری کے پیچھے بھاگنے کے بجائے خود نوکریاں تخلیق کرنا اب مشکل نہیں رہا۔ ایک چھوٹا سا خیال، شاید کھانے کی ڈیلیوری کی سہولت، یا پرانے کپڑوں کو نئے انداز میں پیش کرنے کا کاروبار، کب لاکھوں کی آمدنی کا ذریعہ بن جاتا ہے، یہ کوئی نہیں جانتا۔ یہ سٹارٹ اپس صرف پیسہ نہیں کما رہے، یہ پاکستانی نوجوانوں کے اعتماد کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ سفر آسان ہے؟ ہرگز نہیں۔ سرمایہ کہاں سے آئے؟ بینکوں کے قرضوں کی شرح سود خوابوں کو چکنا چور کر دیتی ہے۔ پھر بھی شاید ہم ہار نہیں مانتے۔ وہ چھوٹے قدموں سے اور راتوں کی محنت سے اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیتے ہیں۔

فری لانسنگ ہو یا سٹارٹ اپس مشکلات کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ کلائنٹس کو راضی کرنا، مقابلہ میں آگے نکلنا اور کبھی کبھی ادائیگی کے لیے مہینوں انتظار، یہ سب اس سفر کا حصہ ہیں۔ لیکن پاکستانی نوجوان ان پتھروں کو سیڑھیاں بناتے ہیں۔ وہ راتوں کو جاگتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔ جیسے کوئی لکھاری اپنی کہانی کے کرداروں کو مشکلوں سے نکالتا ہے، یہ نوجوان اپنی زندگی کی کہانی کو کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ مشکلات ان کے لیے رکاوٹ نہیں، بلکہ انہیں مضبوط بناتے ہیں۔

اس سفر میں ایک بات واضح ہے۔ دنیا بدل رہی ہے اور اس کے ساتھ مواقع بھی۔ اگر آپ کے پاس کوئی ہنر ہے۔ چاہے وہ کھانا پکانا ہو، کہانی سنانا ہو، یا لوگوں کو متاثر کرنا، اسے دنیا کے سامنے لائیں۔ یوٹیوب پر اپنی آواز اٹھائیں، انسٹاگرام پر اپنا فن دکھائیں، یا فری لانسنگ کی دنیا میں قدم رکھیں۔ شروعات چھوٹی ہو، لیکن ارادے بلند رکھیں۔ سماجی دباؤ کو دل سے نہ لگائیں، ماں باپ کو پیار سے سمجھائیں کہ آپ کا راستہ مختلف ہے، لیکن منزل وہی جو وہ چاہتے ہیں۔ خوشحالی اور عزت۔ پڑوسیوں کی باتوں کو ہنس کر ٹال دیں اور دوستوں کے موازنے کو اپنی ترقی کا ایندھن بنائیں۔

تو آئیے، اس نئے دور کو اپنائیں۔ اپنے خوابوں کو تکمیل کریں، چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے۔ بے روزگاری اور سماجی دباؤ کو اپنی کمزوری نہ بننے دیں، بلکہ انہیں اپنی کہانی کا حصہ بنائیں۔ دنیا اب آپ کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ ایک قدم اٹھائیں اور دیکھیں کہ یہ آپ کو کہاں لے جاتا ہے۔ پاکستانی نوجوان نہ صرف اپنے لیے، بلکہ اپنے وطن کے لیے بھی ایک روشن مستقبل رقم کر سکتے ہیں۔ جیسے رات کے بعد سورج طلوع ہوتا ہے، ہمارے خواب بھی ایک نئے دن کی نوید لا سکتے ہیں۔ یہ کوئی محض خیال نہیں، بلکہ وہ تاریخ ہے جو ہم سب مل کر لکھ رہے ہیں اور ایک دن ساری قوم کو ہم پہ فخر ہوگا کہ ہم نے جو بن پایا وہ کیا اور اور جہان میں اپنا مقام بنایا۔

Check Also

Do Neem Mulk e Khudadad (4)

By Shaheen Kamal