Friday, 04 April 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sohaib Rumi
  4. Delivery Culture, Sahulat Ya Nuqsan?

Delivery Culture, Sahulat Ya Nuqsan?

ڈیلیوری کلچر، سہولت یا نقصان؟

کچھ عرصہ پہلے تک رات گئے بھوک لگنے پر یا تو فریج میں پڑے پرانے کھانے سے کام چلانا پڑتا تھا یا پھر چولہے کے پاس کھڑے ہو کر کچھ بنانے کی زحمت کرنی پڑتی تھی۔ کھانے کا تصور گھر کی چار دیواری تک محدود تھا۔ ماں کے ہاتھ کا بنا ہوا سالن، گھر کی روٹی اور محلے کی چھوٹی چھوٹی دکانوں سے خریدی گئی تازہ سبزیاں - یہ تھا روزمرہ کھانے کا رواج۔ مگر آج؟ ہمارے گھروں کی فضا میں فاسٹ فوڈ چینز کی خوشبو بسی ہوئی ہے اور ہمارے دروازوں پر ڈیلیوری والوں کی آمد و رفت نے گھریلو کچن کی ثقافت بدل دی ہے۔

فوڈ ڈیلیوری ایپس نے ہماری زندگیوں کو نہ صرف آسان بنایا ہے بلکہ کھانے کے انتخاب کو بھی وسیع کر دیا ہے۔ اب ایک ہی شہر کے مختلف علاقوں کے کھانوں تک رسائی ممکن ہوگئی ہے جو پہلے صرف ان علاقوں تک محدود تھے۔ پاکستان میں فوڈ ڈیلیوری مارکیٹ 2023 میں 45 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے اور ہر سال 25 فیصد کی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ یہ فقط اعداد و شمار نہیں، ہماری روزمرہ زندگی کے بدلتے نقش ہیں۔

یہ سہولت خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے رحمت ثابت ہوئی ہے جہاں دونوں میاں بیوی کام کرتے ہیں۔ تھکا دینے والے دفتری اوقات کے بعد گھر آ کر کھانا پکانا ایک بوجھ لگنے لگتا ہے۔ ایسے میں ڈیلیوری خدمات نے گھریلو زندگی کو کافی حد تک آرام دہ بنا دیا ہے۔ نوجوانوں کے لیے تو یہ سروس اور بھی مفید ثابت ہوئی ہے۔ ہاسٹلز میں رہنے والے طلباء یا اپنے گھروں سے دور رہ کر کام کرنے والے نوجوانوں کے لیے یہ خدمات کسی نعمت سے کم نہیں۔ اب انہیں کھانے پکانے کی مہارت نہ ہونے یا مصروفیت کی وجہ سے کھانے سے محروم نہیں رہنا پڑتا۔ ساتھ ہی، مختلف قسم کے کھانوں کو آزمانے کا موقع ملتا ہے جو پہلے ممکن نہیں تھا۔

فوڈ ڈیلیوری انڈسٹری نے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ ڈیلیوری پرسنز سے لے کر کلاؤڈ کچنز چلانے والے نوجوان تک، بہت سے لوگوں کے لیے آمدنی کے نئے ذرائع کھلے ہیں۔ چھوٹے کاروباری جو پہلے صرف اپنے محلے تک محدود تھے، اب پورے شہر میں اپنے کھانے فروخت کر پا رہے ہیں۔ کلاؤڈ کچنز کی کہانی تو بالکل نئی صنعت کی پیدائش کی داستان ہے۔ لاہور کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں بیٹھا نوجوان جس نے اپنے دادا کے کھانے کے ہنر کو ڈیلیوری ایپ سے جوڑ کر ماہانہ 3 لاکھ روپے کمانے لگا ہے۔

یہ نئی معیشت ہے جہاں ہنر کو ٹیکنالوجی سے جوڑ کر روزگار کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔ پاکستان میں اب تک 5 ہزار سے زائد کلاؤڈ کچنز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جو نہ صرف کھانا فراہم کر رہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کو روزگار دے رہے ہیں۔ مگر ایک اور حقیقت بھی ہے کہ روایتی ریستوران جنہوں نے دہائیوں سے شہر کو ذائقہ دیا، وہ اب اس مقابلے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ اب صرف وہی ریستوران اچھا ہے جس کی ریٹنگ سب سے اوپر ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام نے ہماری غذائی عادات کو جس طرح تبدیل کیا ہے، وہ اپنے اندر ایک عجیب تضاد سمیٹے ہوئے ہے۔ ایک طرف تو ہمیں بے پناہ آسانیاں میسر آئی ہیں کہ فاصلے مختصر ہو گئے اور وقت بچ گیا ہے۔ دوسری جانب، غذائی ماہرین کے مطابق پاکستان میں موٹاپے کی شرح گزشتہ دو دہائیوں میں 300 فیصد بڑھ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہم نے سہولت کے نام پر اپنی صحت کو گروی رکھ دیا ہے۔ فاسٹ فوڈ انڈسٹری کی مارکیٹنگ کے حربے اپنے آپ میں ایک مکروہ داستان ہیں۔ رنگ برنگے اشتہارات، بچوں کو مفت کھلونے دینے کی پالیسی اور جذبات سے کھیلنے والے نعروں نے ہماری نئی نسل کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستانی شہریوں کا بیشتر ماہانہ بجٹ اب باہر کے کھانوں پر خرچ ہوتا ہے۔

غذائیت کے ماہرین کی رپورٹس پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کس تیزی سے ایک غذائی بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ فاسٹ فوڈ میں موجود ٹرانس فیٹس، اضافی شکر اور مصنوعی ذائقوں نے نہ صرف ہمارے جسمانی توازن کو بگاڑ دیا ہے بلکہ ہماری اگلی نسل کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستانی بچوں میں ذیابیطس کی شرح میں 400 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کیا ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں؟ کھانے کی یہ نئی ثقافت ہماری سماجی زندگی کو بھی بدل رہی ہے۔ پہلے خاندان اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے، اب ہر فرد اپنی پسند کا کھانا الگ وقت پر منگوا لیتا ہے۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ خاندانی اجتماعات کا یہ فقدان تنہائی کے احساس میں اضافہ کر رہا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اعتدال سے کام لیں۔ گھر کا پکا ہوا کھانا جہاں صحت بخش ہوتا ہے، وہیں ڈیلیوری کھانے زندگی کی مصروفیات میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ دونوں کا توازن برقرار رکھنا ہی دانشمندی ہے۔ کبھی وقت کی کمی ہو تو ڈیلیوری سروسز سے فائدہ اٹھائیں، مگر جب موقع ملے تو گھر میں بیٹھ کر پکے ہوئے کھانے کا لطف ضرور اٹھائیں۔

آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ٹیکنالوجی نے ہماری زندگیوں کو جو سہولیات فراہم کی ہیں، ان کا صحیح استعمال ہی ہماری بہتری کا باعث بن سکتا ہے۔ ڈیلیوری خدمات ہوں یا کوئی اور جدید سہولت، انہیں زندگی کو آسان بنانے کے لیے استعمال کیا جائے نہ کہ ان پر مکمل انحصار کر لیا جائے۔ یہی وہ نقطہ توازن ہے جو ہمیں اپنی روایات اور جدیدیت کے درمیان ایک خوشگوار ربط قائم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

Check Also

Ghair Sciency Ilaj Aur Sehat Ke Khatrat

By Nusrat Abbas Dassu