Thursday, 28 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sher Azam
  4. Hamare Masail Hal Kyun Nahi Hote?

Hamare Masail Hal Kyun Nahi Hote?

ہمارے مسائل حل کیوں نہیں ہوتے؟

گلگت شہر سے محض 30 کلومیٹر کی مسافت پر واقع پڑی بنگلہ، جس کا ہر الیکشن میں کسی نمائندے کی ہار جیت کے فیصلے میں ایک خاص اور پلڑا پلٹنے والا کردار ہوتا ہے، مگر خود ہمیشہ سے پسماندگی اور مسائل کا مرکز رہا ہے۔

مگر ہمیں اس کے اسباب سمجھنے کے لیے یہ بات ذہن نشین کرنی ہوگی کہ کسی بھی علاقے یا قوم کے اندر تبدیلی باہر سے نہیں آتی، وہ اندر سے ہی پیدا ہوتی ہے اور جب ایک معاشرہ اپنے اندر احساس، ذمہ داری اور اجتماعی سوچ پیدا کر لیتا ہے، تو پھر وہ اپنی تقدیر خود لکھتا ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف حکمرانوں، نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کو سمجھ لیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک معاشرے کی حالت اس کے عوامی مزاج سے بنتی اور بگڑتی ہے۔

پڑی بنگلہ کا مسئلہ صرف سڑک، ہسپتال، بجلی، روزگار، تعلیمی ادارے یا انتظامی نااہلی نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں اجتماعی سوچ کمزور ہو چکی ہے اور اسی کمزوری نےہمارے سماج کو اندر سے کھوکھلا و کمزور کر دیا ہے۔ جب قومیں اپنے اجتماعی حق کے لیے گھروں سے نہ نکلیں، جب لوگ اپنے مستقبل کے لیے کھڑے نہ ہوں، جب ہر شخص دوسرے کا انتظار کرے، تو پھر مسائل صرف مسائل نہیں رہتے، وہ مستقل زنجیر بن جاتے ہیں۔

زرا سوچنے کی بات ہے کہ تعلیم، جو کسی بھی علاقے یا معاشرے کیلئے ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت رکھتی ہے، آج بھی پڑی بنگلہ میں گرلز ہائی سکول ہے نہ بوائز ہائی سکول جبکہ تمہارے ہی قرب میں موجود چکرکوٹ، چھموگڑھ اور جلال آباد میں موجود ہیں تو تمہارے پاس کیوں نہیں ہے؟

آج پڑی بنگلہ کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ نہ صرف ترقیاتی منصوبے ہیں، نہ صرف نمائندے، نہ صرف فنڈز، بلکہ سب سے پہلے شعور ہے۔

ایسا شعور جو لوگوں کو یہ احساس دلائے کہ اجتماعی مسائل اجتماعی ذمہ داری سے ہی حل ہوتے ہیں۔ ایسا شعور جو یہ سکھائے کہ ووٹ امانت ہے، سودا نہیں۔ ایسا شعور جو یہ بتائے کہ خاموشی بھی بعض اوقات جرم بن جاتی ہے۔ ایسا شعور جو یہ سمجھائے کہ صرف شکایت کرنے سے کچھ نہیں بدلتا، کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔

اگر عوام خود بیدار نہ ہوں، تو کوئی لیڈر، کوئی جماعت، کوئی حکومت ان کی قسمت نہیں بدل سکتی۔ یہاں ہر شخص چاہتا ہے کہ سہولت اس کے دروازے تک پہنچے، مگر وہ خود کسی اجتماعی جدوجہد کا حصہ نہ بنے۔

ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کے علاقے میں ترقی ہو، مگر جب عملی میدان میں نکلنے کا وقت آئے تو وہ دوسرے کو آگے کرتا ہے۔ ہر شخص شکایت کرتا ہے، مگر قربانی دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ یہ رویہ کسی بھی علاقے کو ترقی نہیں دے سکتا۔

جو قومیں صرف گھروں میں بیٹھ کر تبصرے کرتی ہیں، وہ میدان میں اترنے والوں کی محتاج رہتی ہیں اور جو لوگ ہر وقت صرف "کوئی کچھ کرے" کا انتظار کرتے ہیں، ان کے لیے وقت بھی کچھ نہیں کرتا۔

میرے ہم وطنوں!

آج بھی وقت ہے۔ اب بھی فیصلہ ہو سکتا ہے۔ اب بھی پڑی بنگلہ بدل سکتی ہے۔ مگر شرط صرف ایک ہے: عوام کو اپنے اندر احساس، شعور، غیرتِ اجتماعی اور ذمہ داری پیدا کرنی ہوگی۔

اپنے حق کے لیے نکلنا ہوگا۔ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنا ہوگا۔ مفاد سے بڑھ کر اجتماعی بھلائی کو ترجیح دینی ہوگی اور سب سے بڑھ کر، بار بار دھوکہ دینے والوں کو دوبارہ آزمانے کی روایت ختم کرنی ہوگی۔

اگر ہم نے اب بھی نہ سیکھا، نہ سوچا، نہ بدلے، تو پھر آئندہ بھی ہم وہی سوال کرتے رہیں گے: "ہمارے مسائل کیوں حل نہیں ہوتے؟"

Check Also

Patang Bazi Aur Pulao Wala Pateela

By Ashfaq Inayat Kahlon