Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shams Muneer Gondal
  4. Mehangai Ka Afreet Aur Uss Ka Tadaruk

Mehangai Ka Afreet Aur Uss Ka Tadaruk

مہنگائی کا عفریت اور اس کا تدارک

شہر کی سڑکوں پر شام اترتی ہے تو روشنیوں کے ساتھ ایک عجیب سی تھکن بھی پھیل جاتی ہے۔ یہ تھکن صرف جسموں کی نہیں، جیبوں کی بھی ہوتی ہے۔ کبھی یہی سڑکیں زندگی کی روانی کا استعارہ تھیں، آج ہر گزرتی گاڑی، ہر رکتے رکشے اور ہر خاموش موٹر سائیکل ایک سوال بن چکی ہے: آخر یہ ازیت ناک سفر کب تک؟

مہنگائی اب کوئی عارضی طوفان نہیں رہی، یہ ایک مستقل موسم بن چکی ہے۔ پاکستان میں افراطِ زر کی شرح گزشتہ عرصے میں کئی مہینوں تک 25 سے 30 فیصد کے درمیان رہی، جبکہ خوراک کی مہنگائی بعض اوقات 35 سے 40 فیصد تک جا پہنچی۔ لیکن اصل کہانی ان اعداد کے پیچھے چھپی ہے اور یہ کہانی صرف پٹرول تک محدود نہیں رہی، بلکہ بجلی اور گیس کی روز افزوں بڑھتی قیمتوں نے اس بحران کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

آج ایک چھوٹا صنعتکار سب سے زیادہ پریشان ہے۔ پاکستان میں صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی اوسط قیمت 40 سے 60 روپے فی یونٹ تک جا پہنچی ہے، جو خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں دوگنی تک ہے۔ گیس کے شعبے میں صورتحال مزید سنگین ہے، درآمدی LNG کی قیمتوں میں اضافے اور قلت کے باعث صنعتی گیس ٹیرف میں بعض کیسز میں 100 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کا براہِ راست اثر یہ ہوا کہ کئی شعبوں میں پیداواری لاگت 30 سے 50 فیصد تک بڑھ گئی۔ ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور فوڈ پروسیسنگ جیسے شعبوں نے بارہا نشاندہی کی کہ توانائی کے اخراجات اب کل لاگت کا 25 سے 35 فیصد تک بن چکے ہیں، جبکہ چند سال پہلے یہی تناسب 15 سے 20 فیصد تھا۔

نتیجہ واضح ہے: جو چیز 100 روپے میں بنتی تھی، وہ اب 130 یا 150 روپے میں تیار ہو رہی ہے اور یہ اضافہ آخرکار صارف کی جیب سے ہی نکلتا ہے۔ یوں مہنگائی کا ایک خطرناک دائرہ بنتا ہے: مہنگی بجلی۔ مہنگی پیداوار۔ مہنگی اشیاء۔ کمزو ر قوتِ خرید۔ اس دائرے میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ پسنے والا طبقہ وہی عام آدمی ہے۔ پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا تقریباً 80 سے 85 فیصد حصہ درآمدی ایندھن سے پورا کرتا ہے۔ تیل کا درآمدی بل گزشتہ برسوں میں 15 سے 20 ارب ڈالر سالانہ کے درمیان رہا، جبکہ LNG درآمدات پر بھی 5 سے 7 ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ یہ مجموعی طور پر ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈالتا ہے۔

اب ذرا پڑوسی ممالک پر نظر ڈالیں۔ بھارت نے گزشتہ دہائی میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 20 فیصد سے اوپر لے جانے کی کوشش کی، جبکہ بنگلہ دیش نے اپنی برآمدی صنعت اور خاص طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری کو توانائی پر سبسڈی دے کر عالمی مارکیٹ میں مسابقتی رکھا۔ ان ممالک میں صنعتی بجلی کی قیمت کئی کیسز میں پاکستان سے 20 سے 30 فیصد کم ہے، جس کا براہِ راست فائدہ ان کی برآمدات کو ہوتا ہے۔ لیکن سب سے مختلف مثال ایران کی ہے۔ ایک ایسا ملک جو سخت اقتصادی پابندیوں کے باوجود اپنی داخلی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کرتا رہا۔

ایران میں حکومت توانائی پر جی ڈی پی کا تقریباً 10 سے 15 فیصد تک سبسڈی دیتی رہی ہے۔ پٹرول کی قیمتیں طویل عرصے تک عالمی مارکیٹ سے کہیں کم رکھی گئیں، بعض اوقات پاکستان کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم۔ ایران نے "سمارٹ راشننگ" کا نظام بھی متعارف کرایا، جس کے تحت ہر شہری کو ماہانہ تقریباً 60 لیٹر تک سبسڈی والا پٹرول دیا جاتا ہے، جبکہ اس سے زائد استعمال پر قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اس پالیسی نے نہ صرف وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا بلکہ عام آدمی کو بنیادی ریلیف بھی فراہم کیا۔

مزید برآں، ایران نے مقامی پیداوار (local manufacturing) کو فروغ دیا۔ درآمدات پر انحصار کم کرکے انہوں نے اپنی صنعتوں کو اندرونی وسائل پر منتقل کیا، جس سے زرمبادلہ کا دباؤ بھی کم ہوا اور روزگار بھی پیدا ہوا۔ اگرچہ ایرانی معیشت کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن عام آدمی کے لیے بنیادی اشیاء اور توانائی کو کسی حد تک قابلِ برداشت رکھنے کی پالیسی واضح نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کے ہماری حکومت کو کیا کرنا چاہیے۔

سب سے پہلے، توانائی کی قیمتوں کو صرف ریونیو اکٹھا کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے معیشت کی بنیاد سمجھنا ہوگا۔ اگر صنعتکار ہی 40 سے 50 فیصد اضافی لاگت کے بوجھ تلے دب جائے گا تو معیشت کیسے چلے گی؟ صنعتی شعبے کے لیے ہدفی ریلیف ضروری ہے۔ اگر حکومت صرف بڑے صنعتی صارفین کو 5 سے 10 روپے فی یونٹ بھی رعایت دے تو پیداواری لاگت میں 10 سے 15 فیصد کمی ممکن ہے۔ اگر پیداواری لاگت کم ہوگی تو اشیاء کی قیمتیں خود بخود نیچے آئیں گی اور یوں مہنگائی کا دباؤ کم ہوگا۔

دوسرا، ہمیں فوری طور پر ایک متوازن توانائی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، جس میں قابلِ تجدید ذرائع کا حصہ بڑھایا جائے۔ ہمیں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ موجودہ 5 سے 7 فیصد سے بڑھا کر کم از کم 15 سے 20 فیصد تک لے جانا ہوگا۔ یہ نہ صرف درآمدی بل کم کرے گا بلکہ بجلی کی لاگت کو بھی مستحکم بنائے گا۔ پاکستان میں سورج اور ہوا کی کمی نہیں، کمی صرف پالیسی کے تسلسل کی ہے۔

تیسرا قیادت کو اپنی سمت درست کرنی ہوگی۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ Baseline surveys کروائے جائیں اور مہنگے مشیر رکھنے کی پالیسی کو ترک کرکے ایسے لوگوں کو اوپر لایا جائے جن کا خمیر اسی مٹی سے اٹھا ہو اور ان کو عام آدمی کے مسائل کا ادراک بھی ہو اور احساس بھی۔ بلکہ میرا زاتی خیال ہے کہ حکومت کو عوام سے رابطہ پہلے سے مستحکم کرنا پڑے گا اس کے لیے کوئی اپلیکیشن بھی لانچ کی جاسکتی ہے اور لوگوں کی رائے لینے کے لئے وقتا فوقتا پول بھی کروایا جا سکتا ہے اور گراس روٹ لیول پر لوگوں کے مسائل جانچنے کے لئے دیانت دار آفیسران یا اہلکاران کی ڈیوٹی لگا ئی جا سکتی ہے جو مقامی حکومتوں یا نمائندگان کے زریعے بنیادی ڈیٹا اکھٹا کریں اور عوامی تجاویز کی روشنی میں اپنی رائے مرتب کرکے

فیصلہ ساز وں تک ارسال کریں اور حکومتی زعماء بھی قابل عمل تجاویز کو مناسب طریقے سے لاگو کرنے کی کوشش کریں۔ مگر اس کے لئے قیادت کی کمٹمنٹ بہت ضروری ہے۔

چوتھا ہدفی سبسڈی اور اسمارٹ راشننگ جیسے ماڈلز کو سنجیدگی سے اپنانا ہوگا تاکہ وسائل کا ضیاع نہ ہو اور مستحق طبقہ واقعی فائدہ اٹھا سکے۔

اور آخر میں، ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں، یہ ایک سماجی چیلنج بھی ہے۔ جب بجلی کا بل ایک متوسط طبقے کے فرد کی آدھی تنخواہ کھا جائے اور گیس کا کنکشن صرف ایک علامت بن کر رہ جائے تو پھر مسائل صرف اعداد و شمار میں نہیں رہتے، وہ گھروں کے اندر کہانی بن جاتے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں ایسا دکھ جس کا مداوا ممکن نہ ہو۔

اور آخر میں، سب سے اہم چیز اعتماد ہے۔ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ان پر بوجھ بڑھ رہا ہے لیکن نظام میں بہتری نہیں آ رہی تو بے چینی جنم لیتی ہے۔ آج پاکستان میں ایک متوسط طبقے کا فرد اپنی آمدن کا 20 سے 30 فیصد صرف یوٹیلٹی بلز پر خرچ کرنے پر مجبور ہے، یہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں، ایک سماجی بحران ہے۔ سرکاری زعماء اور ارباب کو فری بجلی اور اس طرح کی تعیشات پر پابندی لگائی جائے گی تو ان کو قدر بھی ہوگی اور وسائل کا ضیاع بھی نہ ہوگا۔

دوسرا عوام کو بھی احساس ہوگا کہ حکومت ان کے ساتھ مخلص ہے اور ان کے حقوق کی پاسبان بھی۔ مہنگائی کے بے قابو جن کو قابو میں لانا ہے تو محض نعروں سے نہیں، ٹھوس پالیسیوں، شفاف حکمرانی اور عوامی ریلیف کے عملی اقدامات سے ہی یہ سب ممکن ہوگا۔ یہ کالم ایک سوال ہے، ایک آئینہ ہے اور ایک تنبیہ بھی۔ اگر ہم نے توانائی اور مہنگائی کے اس گورکھ دھندے کو نہ سلجھایا توکل کی معیشت آج کے فیصلوں کی قیمت ادا کرے گی۔

وقت ابھی بھی ہے۔ فیصلہ بھی ابھی ہو سکتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے: کیا ہم سنجدیدگی سے کچھ کرنا چاہتے ہیں؟

Check Also

Dehshat Gardon Ki Muzammat Ghair Mashroot Karen

By Amir Khakwani