Thursday, 30 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Roothe Voters Ko Manane Ka Waqt

Roothe Voters Ko Manane Ka Waqt

روٹھے ووٹروں کو منانے کا وقت

جمہوریت کا حسن بیلٹ بکس سے نہیں، بلکہ اس اعتماد سے قائم ہوتا ہے جو ووٹر اپنے نمائندے کے ہاتھ میں تھماتا ہے۔ ووٹ محض کاغذ کا ایک پرزہ نہیں ہوتا یہ ایک امید ایک خواب اور ایک خاموش معاہدہ ہوتا ہے جس میں عوام اپنی تقدیر کسی کے سپرد کرتے ہیں مگر جب یہی اعتماد ٹوٹ جائے جب وعدے الفاظ کی حد تک محدود رہ جائیں اور جب ووٹر خود کو نظرانداز محسوس کرنے لگے تو پھر وہی ووٹ روٹھ جاتے ہیں اور یاد رکھیں روٹھے ہوئے ووٹ صرف خاموش نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک دن فیصلہ بھی سناتے ہیں۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ان روٹھے ہوئے ووٹروں کو منایا جائے انہیں صرف تقاریر سے نہیں بلکہ عمل سے قائل کیا جائے کیونکہ ووٹرز کے بغیر کوئی بھی رہنما، رہنما نہیں بن سکتا اقتدار کا ایوان عوام کے کندھوں پر کھڑا ہوتا ہے اور جب یہی کندھے تھک جائیں یا پیچھے ہٹ جائیں تو بڑے سے بڑا تخت بھی ہلنے لگتا ہے۔

ایک سچا اور باکردار رہنما وہ ہوتا ہے جو اپنے ووٹروں کو جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہے۔ وہ جیت کے بعد بھی ان کے دروازوں پر دستک دیتا ہے ان کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے اور اپنے وعدوں کو عبادت سمجھ کر پورا کرتا ہے۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو اقتدار کو صرف ذاتی مفادات کا ذریعہ بناتے ہیں جو وقت کے ساتھ رنگ بدلتے ہیں اور مطلب نکلنے پر منہ موڑ لیتے ہیں وہ رہنما نہیں ہوتے بلکہ راہزن ہوتے ہیں۔ وہ عوام کے خوابوں کے سوداگر ہوتے ہیں جو امیدوں کو بیچ کر اپنی دنیا سجاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج عوام کے دلوں میں سوالات جنم لے رہے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ہمارے ووٹ کی قیمت کیا تھی؟ کیا ہم صرف ایک سیڑھی تھے جس کے ذریعے کوئی اقتدار تک پہنچا اور پھر ہمیں بھلا دیا گیا؟

مگر ابھی بھی وقت ہے فاصلے مٹائے جا سکتے ہیں دل جیتے جا سکتے ہیں اور اعتماد کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ نیت صاف ہو اور عمل سچا سیاست میں سب سے بڑی طاقت عوام کی رضا ہوتی ہے اور جس نے اس رضا کو کھو دیا اس نے سب کچھ کھو دیا۔ روٹھے ہوئے ووٹوں کو منانا ہی اصل سیاست ہے ورنہ تاریخ ایسے رہنماؤں کو صرف ایک عبرت کے طور پر یاد رکھتی ہے۔ گلگت بلتستان کے پہاڑ ہمیشہ سے وفاداری، سادگی اور خلوص کی علامت رہے ہیں۔ یہاں کے لوگ جب کسی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں مگر جب یہی اعتماد ٹوٹتا ہے تو اس کی بازگشت صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرے میں پھیل جاتی ہے۔

شنکر گڑھ مرمئی، ڈانگوداس اور گیشاٹ سے ہجرت کرکے گلگت اور استور میں آباد ہونے والے افراد نے 2020 کے انتخابات میں جس جوش و جذبے کے ساتھ خالد خورشید اور پی ٹی آئی کا ساتھ دیا۔ وہ کسی سے پوشیدہ نہیں انہوں نے نہ صرف ووٹ دیا بلکہ بعض نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر مشکل راستے طے کرکے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔ یہ صرف ووٹ نہیں تھا، بلکہ ایک امید تھی تبدیلی کی امید، انصاف کی امید اور اپنے مسائل کے حل کی امید مگر اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے کے بعد یہ امیدیں آہستہ آہستہ دم توڑتی گئیں۔ وعدے جو کبھی تقریروں کا حسن تھے عملی زندگی میں کہیں نظر نہ آئے وہ لوگ جنہوں نے دن رات محنت کرکے ایک قیادت کو کامیاب بنایا خود کو نظرانداز شدہ محسوس کرنے لگے ان کے مسائل وہیں کے وہیں رہے ان کے دروازوں پر وہی خاموشی چھائی رہی اور ان کے دلوں میں ایک سوال جنم لیتا رہا کیا ہماری وفاداری کا یہی صلہ تھا؟

آج جب دوبارہ سیاسی فضا گرم ہو رہی ہے اور ووٹ کی اہمیت پھر سے بڑھ رہی ہے، تو وہی لوگ جنہوں نے کبھی بھرپور ساتھ دیا تھا اب بددل اور ناراض نظر آتے ہیں ان کا غصہ محض جذباتی ردعمل نہیں۔ بلکہ ایک طویل خاموشی کے بعد اُبھرتی ہوئی صدائے احتجاج ہے وہ کہتے ہیں کہ اڑھائی سالہ حکومت میں انہیں صرف تسلیاں دی گئیں عملی طور پر کچھ بھی نہ ملا نوکری لگانے کے وعدے ہوں یا مقامی مسائل کے حل ہر طرف صرف ادھورے خواب اور ٹوٹے ہوئے یقین کی کہانی سنائی دیتی ہے۔

یہ ناراضگی دراصل ایک پیغام ہے۔ ان تمام سیاسی قیادتوں کے لیے جو اقتدار کو منزل سمجھ بیٹھتی ہیں حالانکہ یہ صرف ایک ذمہ داری کی شروعات ہوتی ہے ایک اچھا رہنما وہ نہیں جو صرف جیت جائے بلکہ وہ ہے جو جیتنے کے بعد بھی اپنے لوگوں کے درمیان رہے ان کے مسائل سنے اور اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خلیج کو پاٹا جائے۔ صرف نعرے اور یقین دہانیاں کافی نہیں ہوں گی بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ان زخموں پر مرہم رکھنا ہوگا مذاکرات کا آغاز ایک مثبت قدم ہے مگر اس کا انجام بھی مثبت ہونا چاہیے لوگوں کے گلے شکوے سننا ہی کافی نہیں۔ بلکہ ان کا ازالہ کرنا اصل امتحان ہے کیونکہ سیاست میں تعلق صرف ووٹ تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ اعتماد احترام اور مسلسل رابطے کا نام ہے اگر یہ رشتہ کمزور پڑ جائے تو نہ صرف ایک الیکشن ہارا جاتا ہے بلکہ ایک پوری نسل کا اعتماد بھی کھو دیا جاتا ہے اور یاد رکھنا چاہیے۔

تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ایک ہاتھ سے نہیں۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ہمارے سیاسی و سماجی رویّوں کا آئینہ ہے ایک ایسا آئینہ جس میں وعدوں کی چمک تو نظر آتی ہے مگر وفا کی روشنی کہیں گم ہو چکی ہے۔

Check Also

John William Godward Aur Art Mein Husn Ka Zawal

By Zafar Syed